ہمیشہ پاکستان کی جانب سے کھیلنے کےلیے دستیاب ہوں

‏پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر محمد حفیظ نے پاکستان اور بنگلا دیش کے مابین کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں ناقابل شکست اننگز کھیل کر قومی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ محمد حفیظ نے 67 رنز کی اننگز کھیلی جس کے باعث پاکستانی ٹیم نے میچ میں 9 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے سیریز میں دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ میرے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ میں دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کررہا ہوں، میں اسے ایک اعزاز سمجھتا ہوں اور اس بات کی بھی خوشی ہے کہ پاکستان ٹیم کو میچ جتوانے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے میچ میں شعیب ملک نے عمدہ اننگز کھیلی، وہ جس طرح میچ کو آگے لے کر بڑھے مجھے بھی اس سے حوصلہ ملا اور میں نے بھی ویسی ہی اننگز کھیلنے کی کوشش کی۔ پہلے میچ کی پچ مشکل تھی اور اس پچ پر شعیب ملک بہت اچھا کھیلے، دوسرے میچ کی پچ کچھ بہتر تھی، میرے نزدیک پرفارمنسز وہی ہوتی ہیں جس سے ٹیم جیتے اور اس میں ہر کسی کو حصہ ڈالنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ماضی میں بھی مشکل وقت میں پاکستان کی جیت میں اپنا حصہ ڈالا اور اب بھی یہی کوشش ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے سے متعلق محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ پاکستان کےلیے دستیاب رہا ہوں، اب پھر کھیل رہا ہوں تو اس پر خوش ہوں، اسے میرا کم بیک کہا جا رہا ہے، یہ میرا کم بیک نہیں مجھے موقع دیا گیا ہے۔
محمد حفیظ نے کہا کہ جب دوبارہ موقع دیا جاتا ہے تو دباؤ ہوتا ہے، دماغ میں کئی چیزیں چل رہی ہو تی ہیں کیوں کہ آپ سے امیدیں بڑھ جاتی ہیں اور ان امیدوں پر پورا اترنا ہوتا ہے، میں جب ٹیم سے باہر تھا تو اپنے آپ کو مثبت رکھا۔
ڈومیسٹک کرکٹ نہ کھیلنے کی وجہ بتاتے ہوئے محمد حفیظ نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ اس لیے نہیں کھیلی تاکہ نوجوان کرکٹرز کو موقع ملے، ویسے بھی میں ریڈ بال کرکٹ سے پہلے ہی الگ ہوچکا ہوں، یہ ضرور ہے کہ نوجوان کرکٹرز کے ساتھ سینئرز کا ہونا ضروری ہوتا ہے جس سے نوجوان کرکٹرز گروم ہوتے ہیں۔
حفیظ نے کہا کہ میں نے کیرئیر کے آغاز میں انضمام الحق، محمد یوسف، اور شعیب اختر جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کیا، ان کی میچ وننگ پرفارمنسز سے بہت کچھ سیکھا، ان سے سیکھا کہ اگر میچ فنش نہیں کریں گے تو ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ کھلاڑی جب تک فٹ ہو اور پرفار منس دے رہا ہو اسے ٹیم میں رہنا چاہیے، اپنے بارے میں میں یہی کہتا ہوں کہ اگر کوئی مجھ سے بہتر ہے تو اسے موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ جب میں ٹیم میں نہیں تھا تو میں نے بھی پوچھا تھا کہ اگر آئندہ میری ضرورت نہیں ہے تو مجھے بتا دیا جائے تاکہ میں بین الاقوامی لیگز پر فوکس کروں مگر جب مجھے میرے سوالات کا جواب نہ ملا تو میں نے انٹرنیشنل کرکٹ سے الگ ہونے کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔
علاوہ ازیں ‏محمد حفیظ نے بتایا کہ ان کے بولنگ ایکشن کا ٹیسٹ 29 جنوری کو لاہور میں ہے، امید ہے کہ کامیابی ملے گی۔
بعدازاں محمد حفیظ نے نوجوان کرکٹرز احسان علی اور حارث رؤف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حارث رؤف کا رویہ بہت شاندار ہے، ان میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو کسی بھی کامیابی کےلیے ضروری ہوتی ہیں، ان کو لاہور قلندرز کی جانب سے کھیلتے ہو ئے قریب سے دیکھا تھا، وہ ہر چیلنج تسلیم کرتا ہے،کہیں نظر نہیں آیا کہ حارث رؤف انٹرنیشنل میچز کےلیے تیار نہیں ہے اور ان کا مثبت رویہ اس کے کیرئیر میں کام آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button