فوج پر الزام لگانے والے عمران کیخلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟

8 مئی کو ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان کی جانب سے ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا موازنہ سراج الدولہ کے غدار سپہ سالار میر جعفر سے کرنے کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ اقتدار سے بے دخلی کے بعد دیوانگی کا شکار ہو جانے والے عمران کے اس الزام پر فوجی ترجمان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے سربراہ کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ لیکن جب عوام کی جانب سے عمران کے خلاف سخت ردعمل آنا شروع ہوا تو موصوف نے حسب معمول یوٹرن لیتے ہوئے یہ بیان داغ دیا کہ میر جعفر اور میر صادق سے ان کی مراد نواز شریف اور شہباز شریف تھے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری نے بھی کپتان کے بیانیے کو مسلم لیگ ن کی جانب موڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اصل میر جعفر اور میر صادق نواز شریف اور شہباز شریف ہیں کیونکہ انہوں نے غیر ملکی طاقت کے ساتھ ملکر پاکستان کے خلاف سازش کی۔ مگر ان کے اس یوٹرن پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں۔
ایبٹ آباد جلسے سے پہلے عمران اشاروں میں فوج پر تنقید کر رہے تھے لیکن اب انہوں نے کھلے عام فوجی قیادت کی ساکھ پر سوالات اٹھانا شروع کردیئے ہیں۔ پہلے وہ فوجی قیادت کے نیوٹرل ہونے کا شکوہ کرتے نظر آتے تھے اور اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام امریکہ پر لگاتے تھے۔ مگر ایبٹ آباد میں تقریر کے دوران انہوں نے اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار سپہ سالار کو قرار دے دیا اور اس حوالے سے سراج الدولہ کی مثال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سراج الدولہ کو شکست اس وجہ سے ہوئی کہ اسکے سپہ سالار میر جعفر نے غداری کرتے ہوئے انگریزوں سے ہاتھ ملا لیا تھا۔ سٹھیا ہوئے کپتان کی اس خوفناک تقریر نے فوج کے علاوہ عوامی حلقوں میں بھی خاصی بےچینی پھیلائی دی ہے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا عمران کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا الزام پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے کسی لیڈر نے لگایا ہوتا تو وہ اب تک غداری کے الزام پر اٹک جیل میں بند ہوچکا ہوتا ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران کے لئے ریاست نے انصاف کے دوہرے معیار اپنا رکھے ہیں۔
فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ادارے کو سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ‘حال ہی میں جان بوجھ کر پاکستان کی مسلح افواج کو ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ یہ کوششیں مسلح افواج کے ساتھ ساتھ اس کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے براہ راست، واضح یا مختصر حوالے سے سامنے آ رہی ہیں۔’
ناقدین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے دور حکومت میں ‘ٹویٹ ریجیکٹڈ’ کی حد تک جانے والی پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران کی جانب سے اپنے سپہ سالار پر اتنا بڑا حملہ ہونے کے باوجود اپنی پریس ریلیز میں عمران کا نام لے کر مذمت نہیں کر رہی جسے کہ ادارے کی کمزوری سمجھا جائے گا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اپنے دور حکومت میں عمران اپنے سیاسی اور صحافتی مخالفین کو غداری کے الزامات پر گرفتار کرواتے رہے لیکن اب جب وہ خود اپوزیشن میں بیٹھ کر فوج اور اس کی قیادت پر بے ہودہ الزامات لگا رہے ہیں تب بھی ریاست کی جانب سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا جس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عمران کے خلاف کارروائی کا عندیہ تو دیا ہے لیکن عملی طور پر ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں اداروں کی سیاست میں مداخلت نئی ہے نہ ہی سیاست دانوں کی طرف سے بار بار ریاستی اداروں پر الزام لگانا نیا فعل ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ن لیگ رہنما مریم نواز اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کھل کر فوج مخالف بیانیہ پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب اس میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید دونوں کا ہی نام لیا جاتا تھا لیکن اب صرف جنرل فیض حمید کا ذکر سننے کو ملتا ہے۔
دوسری تبدیلی یہ آئی ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد تب کی حکمراں جماعت تحریک انصاف، مسلم لیگ ن کے فوج مخالف بیانیے کو اداروں کے خلاف سازش قرار دیتی تھی، اب یہ کردار مسلم لیگ ن ادا کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر دونوں جماعتوں اور ان کے ارکان میں تقسیم بھی بڑھ رہی ہے اور یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر عمران کے فوج مخالف بیانیے پرکوئی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔
تحریک انصاف کے عمرانڈو بریگیڈ کا موقف ہے کہ ماضی میں مریم نواز اور ان کے والد بھی فوج پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ تاہم یہ موقف اختیار کرنے والے شاید بھول گئے کہ عمران کے دورِ اقتدار میں نواز شریف کا مکمل میڈیا بلیک آؤٹ کیا جاتا تھا اور کسی ٹی وی چینل کو ان کا چہرہ اور تقریر دکھانے کی اجازت نہیں تھی۔ مسلم لیگی حلقے اس حوالے سے کہتے ہیں کہ نواز شریف اورمریم نواز کا بیانیہ فوج کو سیاست میں مداخلت سے روکنے سے متعلق تھا جبکہ عمران کا بیانیہ فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے اور نیوٹرل نہ رہنے پر قائل کرنے کا ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اب جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے عمران کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے تو کیا قانونی کارروائی کیا ہو سکتی ہے؟ حکومت خاموش ہے لیکن قانونی ماہرین کے مطابق ایسا ہونا مشکل ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبد اللطیف آفریدی نے کہا کہ حکومت عمران خان کے خلاف کوئی خاص قانونی کارروائی نہیں کر سکتی۔ انکے مطابق عمران کو نظر بند کرنے کا ایک آپشن تو موجود ہے کیونکہ وہ فوج کے رینک اینڈ فائل میں دراڑ ڈالنے اور عوام میں نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آفریدی کے مطابق اس وجہ سے وہ نظربند ہو سکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ عبد اللطیف آفریدی نے کہا کہ ایسے بیانات پر کیا کارروائی کی جا سکتی ہے ‘کیونکہ یہ تو وہ الزامات ہیں جو آئے روز دونوں ہی اطراف سے سننے کو ملتے ہیں، دونوں ہی جماعتوں کے رہنما ایسی باتیں کرتے ہیں اور فوجی قیادت یا اداروں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اتنا آسان نہیں کہ اس بات کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے یا ان کے خلاف کوئی مخصوص الزام ثابت کیا جا سکے۔’ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان یا مریم نواز جو بھی بات کررہے ہیں ‘تو یہ دیکھیں کہ ملک میں آزادی اظہار رائے کا قانون موجود ہے، لوگوں کے جمع ہونے کا قانون موجود ہے تو یہ سب تو بنیادی حقوق ہیں جن کا آئین تحفظ کرتا ہے۔ اس لیے ان حقوق پر تو کارروائی نہیں ہو سکتی۔’
دوسری جانب حکومت کے اندر بھی اس معاملے پر دو رائے پائی جاتی ہے۔ اس کا ثبوت وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز پر گفتگو کے دوران دیا جب انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر عمران کے خلاف موجودہ حالات میں کسی کارروائی کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا سیاسی تجربہ یہ ہے کہ جب بھی سیاسی مخالفین کو حکومت کی جانب سے انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو اس کا فائدہ اپوزیشن کو اور نقصان حکومت کو ہوا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کی زبان بندی نہ کی گئی تو وہ ملک میں انتشار اور انارکی پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں چنانچہ اس حوالے سے جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔
