گلیشئرز پھٹنے سے گلگت اور ہنزہ کٹ آف، شاہراہ قراقرم بند

موسم گرما کی شدت میں غیر معمولی اضافے کے باعث گلگت بلتستان اور وادی ہنزہ میں گلیشئرز پھٹنے لگے ہیں جس سے پورا علاقہ سیلابی صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے، سیلابی پانی کا تیز ریلہ حسن آباد پل کو بہا کر لے گیا جس سے ہنرہ اور گلگت کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ شاہراہ قراقرم ٹریفک کیلئے بند ہو چکی ہے جس سے سیر کی خاطر جانے والے سیاح پھنس کر رہ گئے۔
گلیشیئرز پھٹنے کے بعد سیلابی پانی سے بننے والی جھیل بہت بڑے علاقے پر پھیل گئی ہے، سیٹلائیٹ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس جھیل کا سائز 0.4 مربع کلومیڑ ہے جوکہ 320 اولمپک سوئمنک پولز کے برابر ہے، جھیل کا سائز اس سال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پندرہ اپریل سے لے کر پانچ مئی تک چالیس فیصد بڑھا ہے جس کی وجہ اوسط درجہ حرارت میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں نے بھی گلیشیئر معمول سے زیادہ پگھلنے کے سبب ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی اور سیلاب کی پیشگوئی کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، رواں برس اپریل 1961 کے بعد سب سے گرم ترین ماہ رہا، مارچ اور اپریل کے ماہ اوسط سے تقریباً پانچ ڈگری زیادہ گرم رہے، ماہرین ماحولیات اوسط سے پانچ ڈگری زیادہ رہنے کو انتہائی بڑا خطرہ سمجھ رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق اپریل میں کم از کم پانچ گلیشیئرز پر جھیلیں وقت سے پہلے نمودار ہوئی ہیں جن میں سے کچھ پھٹ بھی چکی ہیں اور ان میں معمول سے زیادہ پانی چل رہا ہے، قراقرم کے علاقے کی نگر ویلی میں 18 کلو میٹرز پر پھیلے ہوئے ارپو گلیشیئر میں 10 اپریل سے پہلے جھیل بنی ہوئی تھی جو 15 اپریل کے بعد غائب ہو گئی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پھٹ کر سیلاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ دوسرے گلیشیئر آرانڈو میں دو جھیلیں دیکھی گئی ہیں، تیسرے متاثرہ بنارچی گلیشیئر میں 5 اپریل کو تین جھیلیں دیکھی گئیں، چوتھے گلیشیئر خردوپین میں کئی چھوٹی بڑی جھیلیں نمودار ہوئی ہیں، جس میں سے کئی پھٹ کر سیلابی شکل اختیار کر چکی ہیں، پانچویں شیشپر گلیشئر کی جھیل مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ اس میں پانی کا بہائو بہت تیز ہے اور یہ کسی بھی وقت پھٹ کر سیلابی شکل اختیار کر سکتی ہے، قدرتی آفات سے نمٹنے والا ادارہ مسلسل اس جھیل پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اپریل میں گلیشیئرز پھٹنے سے جھیل بننے اور پھر سیلابی شکل اختیار کرنے کے واقعات شازونادر ہی ہوتے ہیں لیکن ایسی پانچ جھیلوں کا ریکارڈ پر آنا غیر معمولی واقعہ ہے۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں 2500 سے زائد گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، قراقرم میں 19ویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک ہندو کش قراقرم کے علاقے میں 370 جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی شکل اختیار کرنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔
اب تک ایسے 16 مقامات کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کو مکمل طور پر خطرے کا شکار کہا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرمی پوری دنیا میں ایک مسئلہ ہے اور سائنسدان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس صدی کے آخر تک پوری دنیا کے اوسط درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت رواں برس ہی پانچ ڈگری تک بڑھ گیا ہے، لیکن اگر وہاں اوسط درجہ حرارت پانچ ڈگری تک مزید بڑھا تو فوری طور دو تہائی گلیشیئرز کا خاتمہ ہو جائے گا، جس کا کوئی نعم البدل بھی دستیاب نہیں۔
