عمران خان اسرائیل سے سفارتی تعلقات بنانا چاہتے تھے

عمران خان نے بطور وزیراعظم اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی تیاریاں کر رکھی تھیں۔ یہ بڑا انکشاف عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان ٹیلی ویژن سے منسلک ہونے والے سرکاری صحافی احمد قریشی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے لکھا کہ عمران نے ذاتی اور خاندانی رابطوں کو راستے کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم ان کا ٹریک اس وقت بدلا جب ان کی حکومت خراب حکمرانی کی وجہ سے غیر مستحکم ہو گئی۔
یاد رہے کہ احمد قریشی نے یہ ٹویٹ عمران خان کی قریبی ساتھی شیریں مزاری کی جانب سے اپنے خلاف کی جانے والی ایک ٹویٹ کے جواب میں کی۔ شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ حساس نوعیت کے ادارے کیساتھ قریبی تعلق رکھنے والے احمد قریشی کا دورہ اسرائیل چونکا دینے والا ہے۔ وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے اپنے اسرائیل نواز ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے عمران کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ امریکی حکومت کی تبدیلی کے سازشی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
شیری مزاری کی اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے احمد قریشی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری جو آج پی ٹی آئی کی خود ساختہ اسرائیل مخالف بنی بیٹھی ہیں، 2005ء میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد یا آئی ایس ایس آئی کی سربراہ تھیں جب ان کے باس سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ترکی میں پہلی پاکستان اسرائیل میٹنگ کی تھی، جس کے بعد اسرائیل نے درآمدی لائسنس ختم کر دیا تھا۔ اس ٹویٹ کے ردعمل میں شیریں مزاری نے لکھا کہ احمد قریشی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خورشید محمود قصوری نے آپ کی طرح اسرائیل کا دورہ نہیں کیا تھا۔ دوسرا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ وہ جب ترکی میں اپنے اسرائیلی ہم منصب سے ملے تھے تو میں اس وقت خاموش رہی تھی۔ اس معاملے پر میں نے دی نیوز میں ایک مضمون بھی لکھا تھا۔ احمد قریشی نے جواب میں لکھا کہ خورشید محمود قصوری پاکستان کے وزیر خارجہ رہے، میں اس عہدے پر نہیں ہوں۔ آپ اس حکومت کا حصہ رہیں جس نے 2005ء میں پہلا پاک اسرائیل سفارتی رابطہ کیا تھا۔
ایک ٹوئیٹر صارف ثمینہ قاسم نے اس موقع پر اپنی ٹویٹ میں احمد قریشی کی حمایت میں لکھا کہ یہ وہ صحافی ہیں جو اسرائیل امن مشن پر ایک امریکی نژاد پاکستانی تنظیم کے ساتھ کوریج کے لئے گئے تھے۔ شیریں مزاری عناد کے باعث ہاتھ دھو کر اس صحافی کے پیچھے پڑ گئی ہیں جبکہ عمران خان کے تو اسرائیلیوں سے دیرینہ مراسم ہیں۔ جب ان کی حکومت جانے لگی تب مذہب کارڈ استعمال کرنے لگے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستانی نژاد اور پاکستانی شہریوں کا ایک وفد اسرائیل میں موجود ہے، جہاں اس وفد کے شرکا نے پارلیمنٹ ہاؤس سمیت اہم مقامات کے دورے کیے ہیں اور اسرائیل کے صدر سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ اس دورے پر باقاعدہ اعتراضات تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی طرف سے سامنے آئے ہیں۔ شیریں مزاری نے اس پچاس رکنی وفد میں شامل دو ممبران کو تنقد کا نشانہ بنایا ہے، جن میں ایک پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافی احمد قریشی ہیں جبکہ دوسری سماجی کارکن انیلہ علی ہیں، جو پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں۔ یوں تو انیلہ علی کا تعلق امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے مگر شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹ میں ایک پرانی تصویر کی بنیاد پر ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے بھی جوڑا ہے۔
شیریں مزاری نے پاکستانی فوج کے ترجمان کو بھی اپنی ایک ایسی ہی تنقیدی ٹویٹ میں مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ احمد قریشی کے ذریعے عمران خان کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بہت سارے امور پر بولنے پر مجبور نہ کیا جائے جن پر ابھی تک ہم چُپ ہیں۔
وفد کے اسرائیل کے اس دورے کے مقاصد پر بات کرنے سے قبل یہ جاننا بھی اہم ہے کہ اس وفد میں پاکستان شہری بھی شامل ہے جبکہ پاکستان کے پاسپورٹ پر یہ ہدایات واضح طور پر درج ہیں کہ اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ نہیں کیا جا سکتا۔ احمد قریشی نے بتایا کہ وہ پاکستان کے پاسپورٹ پر عام شہری کی حیثیت سے اسرائیل آئے ہیں اور ان کے اس دورے سے حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
شیریں مزاری کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے ملازم نہیں ہیں بلکہ ریاست نام کے ایک پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں اور ہر پروگرام کا انھیں معاوضہ دیا جاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں احمد قریشی نے بتایا کہ وہ کویت میں پیدا ہوئے ہیں مگر وہ پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کے مطابق اس دورے میں ان کے ساتھ ایک یہودی پاکستانی بھی شامل ہیں۔
احمد قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر انٹری اور ایگزٹ کی مہر ثبت نہیں کی جاتی باقی اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل میں ہزاروں پاکستان آ چکے ہیں اور یہاں ان کی بڑی تعداد پاکستانی پاسپورٹ پر ملازمت بھی کر رہی ہے۔
ان کے مطابق اسرائیل کا دورہ کرنا جرم نہیں ہے اور نہ کبھی پاکستان نے ماضی میں کسی کو اس بنیاد پر سزا سنائی ہے۔ تاہم شیریں مزاری نے ٹویٹ کیا کہ امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیل نے پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو ختم کیا۔ انھوں نے اپنے متعدد ٹویٹس میں اس دورے کے مقاصد پر سوالات اٹھائے ہیں۔
جب اس دورے کے مقاصد سے متعلق سوال کیا گیا تو احمد قریشی نے بتایا کہ اس وفد میں امریکہ میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتوں کے حامی پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس وفد کا مقصد امن کے راستے تلاش کرنا ہے۔
