پاکستان میں امریکی ڈالر ایک ماہ میں 15 روپے مہنگا


وزیراعظم شہباز شریف کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ایک ماہ کے دوران پاکستان میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 15روپے سے زائد اضافہ ہونے کے بعد ڈالر کی قیمت 200 روپے کو کراس کر چکی ہے۔

پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے باعث ملکی معیشت انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہے، جس کا واضح ثبوت صرف ایک ماہ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 15 روپے سے زائد کا اضافہ ہے۔ ملک کی مخدوش اقتصادی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ دونوں میں امریکی ڈالر کی قیمت دو سو روپے کی ریکارڈ سطح کو کراس کر چکی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو فوری طور پر سابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنا ہے تاکہ انہیں آئی ایم ایف سے مزید قرض حاصل ہو سکے اور حکومت کے ساتھ معیشت کے لیے بھی استحکام ممکن ہو، مگر فیصلہ سازی میں شیباز حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیر سے معاملات مزید گھمبیر ہوتے جارہے ہیں۔

سیاسی صورت حال اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کے باوجود امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے، اور ڈالر ملکی تاریخ میں پہلی بار دو سو روپے کا ہو چکا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر دو سو ایک روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

کرنسی ایکسچینج کمپنیز کے سیکرٹری جنرل ظفر پراچہ کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافہ تشویش ناک ہے، جب سے نئی حکومت آئی ہے، ڈالر کی قدر میں اضافہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، ڈالر کی قیمت سے متعلق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بات کی ہے، جبکہ شہباز شریف کا بھی فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن سے رابطہ ہوا تھا، ہم نے ہی یہ تجویز دی تھی کہ غیر ضروری لگژری اشیا کی درآمد پر فوری پابندی لگائی جائے، اور جو بھی کوئی چیز درآمد کرنا چاہتا ہے، وہ اسکے لیے ڈالرز کا انتظام خود کرے۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی کی تجویز دی تھی جس پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام، آئی ایم ایف سے قرض کی نئی قسط ملنے میں تاخیر اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ، ڈالر کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ بوستان نے کہا، کہ اگر کمرشل بینک انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت ایک روپے کم کریں گے تو ہم اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 2 روپے کم کردیں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے لگژری گاڑیوں اور کاسمیٹکس کے سامان سمیت دیگر غیر ضروری اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے، جس پر فوری عمل درآمد کے لیے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ لگژری آئٹمز کی درآمد روک کر سالانہ 12 ارب ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔ معیشت پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی درآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کی وجہ سے لگژری اشیا کی امپورٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے، جس سے روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں ہو گی۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے، رواں مالی سال جولائی 2021 سے اپریل 2022 کے دوران بیرونی تجارت میں پاکستان کو 39 ارب ڈالر سے زائد خسارہ ہوا، اس دوران پاکستان نے 65 ارب 50 کروڑ ڈالر کی درآمدات کیں، صرف اپریل میں درآمدی حجم 6 ارب 67 کروڑ ڈالر رہا، توقع ہے کہ غیر ضروری اور لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی سے روپے کی قدر کو سہارا ملے گا اور ڈالر نیچے آئے گا۔

دوسری جانب ملک میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا اثر صرافہ بازار میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی صرافہ بازار میں سونے کی قیمت میں کمی کے باوجود مقامی بازار میں سونا مہنگا ہو رہا ہے۔ سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ہارون چاند کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے سے درآمدی لاگت بڑھ رہی ہے، مقامی مارکیٹ میں ایک تولہ سونے کا بھاؤ ایک لاکھ اڑتیس ہزار چار سو روپے کی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔

سیاسی و معاشی صورتحال کے گہرے اور واضح اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی دیکھے جارہے ہیں۔ چیئر مین اے کے ڈی گروپ عقیل کریم ڈھیڈھی کے مطابق ملک کی معاشی حالت اطمینان بخش نہیں، گزشتہ دور حکومت میں بڑی محنت سے معاشی اشاریوں میں بہتری آئی تھی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا تھا، معیشت ترقی کی راہ پر آگئی تھی، ایکسچینج ریٹ میں اضافہ ہو رہا تھا، لیکن یہ بھی مارکیٹ مکینزم کا حصہ تھا، لیکن اب صورتحال تشویش ناک ہے، کیا ہونے والا ہے کچھ واضح نہیں، روپے اپنی قدر کھو رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ بھی نیچے آئی ہے، حکومت کو جلد از جلد بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔

Back to top button