عمران خان کیخلاف غداری کا کیس درج کروانے پر حکومت کنفیوژڈ

وفاقی کابینہ نے پاکستان کے تین ٹکڑے ہونے، ایٹمی اثاثوں کے تباہ ہونے اور پاک فوج کے برباد ہونے کی باتیں کرنے پر عمران خان کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش تو کر دی ہے لیکن حکومتی فیصلہ ساز کیس درج کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے اور گو مگو کا شکار ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازوں کو وارننگ دی گئی ہے کہ اگر عمران کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرایا گیا تو ایک تو انہیں اسکا سیاسی فائدہ ہو جائے گا اور دوسرا چیلنج ہونے کی صورت میں عدالت اس کے خلاف بھی فیصلہ دے سکتی ہے جس سے حکومت کو الٹا نقصان ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بول نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اس وقت صحیح فیصلے نہیں کریگی تو میں آپ کو لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ سب سے پہلے فوج تباہ ہوگی، پھر ملک تین حصوں میں تقسیم ہو گا اور اسکے بعد ہمارے ایٹمی اثاثے بھی چھین لیے جائیں گے۔ اس انٹرویو کے دوران عمران نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا بھی رگڑا نکالا اور ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے ساتھ کھڑا ہونے کی تنبیہہ کی۔
عمران کی اس گفتگو پر تفصیلی بحث کے بعد وفاقی کابینہ نے حکومت کو سابق وزیر اعظم کے خلاف غداری کا کیس درج کروانے کی سفارش کی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی کے دورے سے واپسی پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کرنا ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان سمیت زیادہ تر وفاقی وزرا نے عمران کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کرتے ہوئے انکی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ اور وزارت قانون کی اس حوالے سے مشاورت جاری ہے اور اس ممکنہ فیصلے کے سیاسی مضمرات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ کابینہ ارکان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ایٹمی ملک کو ٹوٹنے کی بات کرکے ملک سے بغاوت کی، اور بغاوت کی نیت ثابت ہونے پر کابینہ سے عمران خان کیخلاف کیس کرنے کی حتمی منظوری لی جائے گی۔
خیال رہے کہ اپنے انٹرویو کے دوران عمران خان نے دور کی کوڑیاں لاتے ہوئے ایک ہی سانس میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے، ایٹمی اثاثوں کے تباہ ہونے، فوج کے برباد ہونے اور ملک کے تین ٹکڑے ہونے کی منحوس پیشگوئیاں کی تھیں۔ عمران کی گفتگو پر سخت ردعمل آیا تھا اور ان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ موصوف نے بول نیوز کو انٹرویو میں عمرانڈو اینکر سمیع ابراہیم کو بڑے مدبرانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے پاکستان کی ایسی ہولناک منظر کشی کی کہ دیکھنے اور سننے والے خوف کے مارے کانپ اٹھے۔
عمران کا کہنا تھا کہ میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہوگا۔ اس ملک میں اصل مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ یہ بھی تباہ ہونگے اور پاکستان بھی تباہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے۔ اگر پاکستان دیوالیہ ہوگیا تو سب سے پہلے ہمارا جو قومی ادارہ اس کی زد میں آئے گا وہ فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فوج متاثر ہو گئی تو اس کے بعد ہم سے یوکرین کی طرح ہمارے جوہری اثاثے چھین لئے جائیں گے۔ ساری دنیا کو ہم سے مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم واحد مسلمان ملک ہیں جو ایٹمی قوت کا حامل ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب پاکستان ایٹمی طاقت کھو دے گا تو ملک کے تین حصے ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ ماضی میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین پر اسی طرح کی گفتگو کرنے کی وجہ سے پیمرا نے پابندی عائد کر دی تھی جو اب تک برقرار ہے اور مہاجر لیڈر پاکستان میں کسی ٹی وی چینل پر نہیں دکھایا جا سکتا۔ اسی طرح ماضی میں جب سابق وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی سیاست میں فوج کی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے تب کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا تو پیمرا نے پاکستانی میڈیا میں انکی کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم ابھی تک نہ تو عمران خان کے خلاف پیمرا نے ایسی کوئی پابندی عائد کی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کا حتمی فیصلہ ہو سکا ہے۔
اس دوران حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قانونی ماہرین نے عمران خان کے خلاف مقدمہ دائر نہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ ایسا کرنے سے نہ صرف انہیں سیاسی فائدہ ہوگا بلکہ چیلنج کئے جانے کی صورت میں عدالت ایسے حکومتی فیصلے کو غیر قانونی بھی قرار دے سکتی ہے۔ قانونی ماہرین نے حکومت کو یاد دلایا ہے کہ 11 اپریل 2020 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران اورسابق وزرا کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران اور سابق وزرا کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی تھی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا تھا۔
لیکن یاد رہے کہ یہ درخواست عمران کی جانب سے اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام امریکہ پر عائد کرنے کے حوالے سے دائر کی گئی تھی۔ اس درخواست میں چودھری فواد، شاہ محمود قریشی، قاسم سوری اور اسد مجید کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت درخواست گزار مولوی اقبال حیدر سے استفسار کیا تھا کہ ریاست مضبوط ہے، وہ خود اس معاملے کو دیکھ لے گی، آپ اسے کیوں سیاست زدہ کرنا چاہتے ہیں۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ 27 مارچ کوعمران نے جس خط کی بنیاد پر امریکہ پر الزام عائد کیا تھا، نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس نے اسکی توثیق نہیں کی اور قرار دیا کہ اس میں کوئی دھمکی نہیں دی گئی تھی۔
