اسٹیبلشمنٹ مخالف صحافیوں کی گمشدگی کا سلسلہ تیز

اسلام آباد ہائی کورٹ کی بار بار کی وارننگز اور حکومت کی بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف سماجی کارکنان اور صحافیوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے۔ اگلے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والے گمشدہ افراد کے حکومت کمیشن کی مایوس کن کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشن ملکی خزانے پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ جس دن چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے اس سے ایک روز پہلے ہی کلفٹن کراچی سے ایک اور اسٹیبلشمنٹ مخالف صحافی اور سماجی کارکن ارسلان خان اٹھایا جا چکا تھا۔ ارسلان کی اہلیہ عائشہ کا کہنا ہے کہ دس اہلکار ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ارسلان کو بولا تم ریاست کے خلاف بات کرتے ہو۔۔۔ وہ کہتا رہا کہ میں قانون کی پیروی کرنے والا شہری ہوں لیکن وہ اس کو گھسیٹ کر ساتھ لے گے۔ عائشہ نے بتایا کہ رات کے غالباً چار بجے تھے وہ اور بچے سو رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی اور پھر اس کے بعد دس کے قریب اہلکار گھر میں داخل ہو گئے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سب کے چہروں پر سیاہ نقاب تھا، صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ انھوں نے ارسلان کو کہا کہ ’تم ریاست کے خلاف لکھتے ہو، تم نے پریشان کر کے رکھا ہے، پاکستان میں رہتے ہو اور یہاں رہ کر یہ سب کرتے ہو۔ ارسلان نے جواب دیا کہ میں قانون کی پیروی کرتا ہوں لیکن انھوں نے اس کی ایک نہ سُنی۔‘
عائشہ کے مطابق ’اہلکاروں نے ارسلان کا موبائل فون لے لیا۔ اس کے بعد بیٹی کا فون بھی لیا اور پوچھا کہ لیپ ٹاپ کہاں ہے، کیا اسلحہ تو نہیں ہے۔ پھر ارسلان کو کہنے لگے کہ تم ہی ’اے کے 47‘ ہو نا جو کہ ارسلان کا ٹوئیٹر ہینڈل ہے۔ ان کے مطابق اس کے بعد اہلکار ارسلان کو اپنے ساتھ نیچے لے گئے، جہاں کمپاؤنڈ میں ایک پجیرو گاڑی آئی، جس میں عام کپڑوں میں ملبوس اہلکار بیٹھے تھے، انیون نے ارسلان کو ساتھ بٹھایا جبکہ باقی اہلکار اپنی موبائل گاڑیوں میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔
دوسری طرف ایس پی کلفٹن روحیل کھوسو نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے انھیں اس واقعے کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ روحیل کھوسو نے بتایا کہ ’میں نے تمام متعلقہ تھانوں سے معلوم کیا ہے، اُن میں سے کسی تھانے نے انھیں حراست میں نہیں لیا۔‘
عائشہ کے مطابق ارسلان ٹوئٹر پر سرگرم تھے۔ وہ بلاتفریق لاپتہ افراد اور مذہبی اقلیتوں کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔ ’دوست احباب انھیں کہتے تھے کہ انھیں خیال رکھنا چاہیے۔ لوگوں کو سچ سننے کی عادت نہیں، وہ کہتا تھا کہ مجھے سے یہ بددیانتی نہیں ہو گی۔‘ صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فواد حسن کا کہنا ہے کہ ارسلان کراچی کی آواز کو سپورٹ کرتے تھے۔ ’جو شہری لاپتہ ہیں، جو اسیر ہیں، وہ اُن کی معلومات رکھتے تھے اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی خبرگیری کرتے تھے۔‘ ارسلان کراچی میں گجر نالے سمیت دیگر علاقوں سے تجاوزات کے خلاف آپریشن کے بعد بنائی گئی ’کراچی بچاؤ تحریک‘ میں بھی سرگرم رہے۔ اس تحریک کے رہنما خرم علی کے مطابق ارسلان ان کی تنظیم کے باقاعدہ رُکن نہیں تھے لیکن وہ اس مہم کو سوشل میڈیا پر سپورٹ کرتے تھے۔
خرم علی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کچھ عرصے پہلے ارسلان سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا آپ بہت زیادہ سچ لکھ رہے ہیں۔ ارسلان نے کہا کہ سب سے بڑا خطرہ ضمیر کی عدالت میں مجرم ٹھہرنے کا ہے۔ سچ لکھنا نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ دنیا کی ہر قید سے ضمیر کی قید زیادہ تکلیف دہ ہے۔‘
سماجی رابطوں کی ویب سایٹ ٹوئٹر پر بھی ارسلان کی رہائی کے حوالے سے ٹرینڈ موجود ہے۔ سینیئر سیاستدان اور انسانی حقوق کمیشن کے سابق چیئرمین افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ ’ارسلان خان کی جبری گمشدگی قابل مذمت ہے، کب تک مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ آئین و قانون کی اس خلاف ورزی پر سوتے رہیں گے؟ شہریوں کے حقوق کا کیا ہو گا؟‘ ارسلان خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر حلقہ 245 کے ضمنی انتخابات پر ایم کیو ایم لندن کی جانب سے بائیکاٹ کی حمایت بھی موجود ہے۔ ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی نے ٹویٹر پر ارسلان خان کو حراست میں لیے جانے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ارسلان خان کی گرفتاری کا نوٹس لیں اور ارسلان خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔
دوسری جانب تازہ اطلاعات کے مطابق کراچی سے لاپتا ہونے والے سماجی کارکن ارسلان خان اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں جبکہ رینجرز کا کہنا ہے کہ ’ان کو تنبیہہ کے بعد رہا کیا گیا ہے۔‘جمعے کو لاپتا ہونے کے بعد ارسلان خان کی اہلیہ عائشہ ارسلان نے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
سنیچر کی صبح ارسلان خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا ’میں خیریت سے واپس گھر پہنچ گیا ہوں۔ میں ان تمام لوگوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے آزمائش کی گھڑی میں میری فیملی کا ساتھ دیا۔ میرے پاس الفاظ نہیں، میں آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔‘ سنیچر کی صبح کی سندھ رینجرز کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ’رینجرز نے 24 جون کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کلفٹن کے علاقے سے ملزم محمد عامر ارلان خان عرف اے کے فورٹی سیون کو ایک دہشت گرد گروپ کے ساتھ روابط کی بنا پر گرفتار کیا تھا۔پریس ریلیز کے مطابق ’ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کے مذکورہ دہشت گروپ سے مالی معاونت لینے اور روابط کا انکشاف ہوا ہے۔‘’واضح وائٹ کالر کرائم کی بنا پر مکمل تحقیقات کی غرض سے کیس متعلقہ اتھارٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے۔پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’ملزم کو مستقبل میں ہونے والی تفتیش میں تعاون کرنے کی تنبیہہ کر کے رہا کر دیا گیا ہے۔
