کیا آڈیوز لیک ہونے سے عمران کی مقبولیت کم ہو پائے گی؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی اوپر تلے کئی آڈیوز لیک ہونے اور انکے امریکی سازش کے بیانیے کا دھڑن تختہ ہونے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ان انکشافات سے خان صاحب کے عمرانڈو پرستاروں کو کوئی فرق پڑے گا اور کیا یہ انکی مقبولیت پر اثر انداز ہو بھی پائیں گی یا نہیں؟
پہلی دو آڈیوز میں عمران کے امریکی سازش کے بیانیے کو پنکچر کرنے کے بعد تیسری آڈیو لیک میں انکو اپنے کابینہ اراکین سے ‘ہارس ٹریڈنگ’ کے بارے میں بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آڈیوز اس زمانے کی ہیں جب اپوزیشن نے خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کی تھی اور وہ اسے ناکام بنانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ خان صاحب یہ بتاتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ انہوں نے 5 اراکین اسمبلی خرید لئے ہیں اور باقی 5 کا بندوبست کرنا ہے۔
عمران خان کی اس آڈیو نے ان کا ہارس ٹریڈنگ اور لوٹوں کے خلاف بیانیہ بھی اڑا کر رکھ دیا۔ اپنی چوتھی لیک آڈیو میں عمران اپنی کابینہ کے اراکین شاہ محمود، اسد عمر اور شیریں مزاری کو سمجھاتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ہم نے اتوار کے روز تحریک عدم اعتماد سے پہلے میر جعفر اور میر صادق کے حوالے سے ایسا خوفناک ماحول بنا دینا ہے کہ کوئی ہمارے خلاف ووٹ دینے کا سوچے بھی نہ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بشریٰ بی بی کی ایک آڈیو بھی لیک ہوئی تھی جس میں وہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ ارسلان خالد کو یہ کہتی ہوئی سنائی دیتی ہیں کہ انہیں غداری کا ٹرینڈ بنانے پر فوکس کرنا ہوگا۔ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خلاف سوشل میڈیا پر غداری کا ٹرینڈ چلایا جا چکا تھا جو اب تک رک نہیں پایا۔
دراصل آڈیوز کی لیکیج کا تازہ سلسلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ایک آڈیو سے شروع ہوا تھا جس میں وہ مریم نواز کے حوالے سے اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔ آڈیو لیک کرنے والے نے ‘انڈی شیل’ نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ دھمکی بھی دی کہ جرنیل نمبر 13 کا وقت پورا ہو گیا ہے، جس سے یہ تاثر ملا کہ آئی ایس آئی چیف کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی جارہی ہے۔ تاہم اس کے بعد وسیع پیمانے پر کریک ڈائون ہوا اور ‘انڈی شیل’ نامی ہیکر نے اپنا اکاؤنٹ بند کر دیا۔ لیکن اسی دوران ‘انڈی بیل’ اور ‘ ہیکر بوائے’ کے نام سے دو نئے ٹوئٹر اکاؤنٹس میدان میں آ گئے جنہوں نے عمران خان کی آڈیوز لیک کرنا شروع کر دیں اور یہ سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے۔ اب یہ ہیکر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ عمران اور ان کے ساتھیوں کی قابل اعتراض ویڈیو بھی لیک کر سکتے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ دراصل یہ آڈیو لیکس فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دو دھڑوں کی آپسی لڑائی کا شاخسانہ ہیں جس میں اسٹیبلشمنٹ کا برسراقتدار دھڑا زیادہ تگڑا ثابت ہوا ہے اور اس نے فیض دھڑے کو پنکچر کر دیا ہے۔
لیکن ان لیکس سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ وزیرِ اعظم ہاؤس میں سیاستدانوں کی بات چیت کی ریکارڈنگ غیر قانونی طریقے سے ہوتی رہی ہے۔ اس دوران سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ ہیکر نے بات چیت کی ریکارڈنگ ڈارک ویب پر بیچ دی ہے لیکن یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔ عمران کی نئی آڈیوز لیک ہونے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ جانتے ہیں کہ یہ آڈیوز کون اور کہاں سے لیک کر رہا ہے۔‘ ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ جنرل فیض حمید کے مخالف دھڑے کی جانب ہے۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان آڈیو لیکس سے عمران کے اور انکے بیانیے کی مقبولیت پر کوئی فرق پڑا ہے؟ اس بارے میں تجزیہ کار عنبر رحیم شمسی کا کہنا ہے کہ قطرہ قطرہ کر کے عمران کے بیانیے کو دھچکا لگ رہا ہے۔جو لوگ عمران خان پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے بیانیے کو مانتے ہیں اور ان کے حامی ہیں، وہ ان آڈیو لیکس میں وہی سنیں گے جو عمران خان چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جو تشریح عمران خان پیش کریں گے ان کے حامی اسی پر یقین کریں گے اور اسی لیے انہیں عمرانڈو کہا جاتا ہے۔ عنبر شمسی کہتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر پی ٹی آئی کی جانب سے ان آڈیوز کی تشریح یہ کی جا رہی ہے کہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ سائفر ایک حقیقت ہے اور جو لوگ اسے ایک سازش قرار دے رہے تھے وہ غلط ثابت ہوئے۔‘
لیکن حقیقت میں اگر آپ ان آڈیوز کو غور سے سنیں تو عمران کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وہ سائفر سے کھیلیں گے، جب عمران کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کہتے ہیں کہ منٹس آف میٹنگ پر ہم اپنی مرضی کی تشریح ڈال سکتے ہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنانا تھا جس سے انہیں سیاسی فائدہ ہو۔
لیکن وہ لوگ جنھیں اس معاملے میں غیر جانبدار کہا جاسکتا ہے، ان کے ذہن میں حالیہ آڈیو لیکس کے بعد شک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔مثال کے طور پر عمران خان نے یہ واضح طور پر کہا کہ امریکہ کا نام مت لینا۔ لیکن پھر ایک تقریب میں انھوں نے لائیو نشریات میں امریکہ کا نام لے لیا۔ اور اپنی ہی کہی ہوئی بات پر انھیں ہنسی بھی آ گئی کہ انھوں نے اپنی کہی ہوئی بات کے خلاف بات کر دی۔ عمران خان نے امریکہ میں اپنا تاثر بہتر کرنے کے لیے ایک فرم کا سہارا لیا ہے جبکہ پاکستان میں اپنے متعدد بیانات میں وہ امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان پر اپنے خلاف سیاسی سازش کرنے کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ ان کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ ان متضاد بیانات کا مطلب ہے کہ وہ باتوں کو سیاسی طور پر گھما کر پیش کرتے ہیں اس لیے وہ ان کے بیانات کو سیاسی ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن جو عمران خان کے حامی ہیں اور ان کو ووٹ دیتے ہیں وہ ان کی کہی ہوئی بات کو مانتے آئے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے رکن اسد عمر نے اس معاملے پر کہا کہ ’مسلم لیگ ن کس بات کو بنیاد بنا کر عمران کے بیانیے کو رد کر رہی ہے؟ ان آڈیو لیکس سے تو عمران کے بیانیے کی تصدیق ہوئی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر وزیرِ اعظم ہاؤس سے سابق وزرا کی بات چیت کی غیر قانونی طور پر ریکارڈنگ لیک کی جا رہی ہے اور وہ ریکارڈنگ مارکیٹ میں سرِ عام دستیاب ہے تو یہ ایک بہت بڑے درجے پر سکیورٹی کی ناکامی ہے۔
