TTPکا صوبائی وزیرعاطف خان سے80 لاکھ روپےکے بھتے کا مطالبہ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر عاطف خان سے مبینہ خط میں 80 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کردیا۔
کالعدم تنظیم نے صوبائی وزیر خوراک، کھیل و امور نوجوانان اور سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی عاطف کو خان کو ایک مبینہ خط لکھ کر تنبیہ کی کہ آپ ٹی ٹی پی مردان کے مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

ٹی ٹی پی کے مبینہ خط کی نقل کے مطابق صوبائی وزیر کو کہا گیا کہ ہم آپ کو بہت نزدیک سے جانتے ہیں، آپ کا تمام ڈیٹا اور ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے، آپ ٹی ٹی پی کے مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں، آپ کی باری آچکی ہے۔

طالبان نے خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ اس فہرست سے نکلنے کے لیے آپ کو ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا یا اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا، آپ سے ہمارا مطالبہ 80 لاکھ روپے کا ہے، ہمیں تین دن میں جواب چاہیے۔

ادھر صوبائی وزیرعاطف خان نے کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے بھتے کی رقم کا خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ باقی لوگوں کی طرح مجھ سے بھی بھتے کا مطالبہ کیا ہے تاہم اس سوال پر کہ کیا وزیر اعلیٰ کے بھائی کو بھی بھتے کی پرچی ملی ہے؟ انہوں نے کہا کہ باقی لوگوں کا مجھے علم نہیں، خط متعلقہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے، آگے ان کا کام ہے۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت بھتے کی کالوں کو بالکل برداشت نہیں کرے گی، جس کسی کو بھی ایسی کال یا خط ملے وہ پولیس کو آگاہ کرے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر عاطف خان کو موصول ہونے والے خط سمیت دیگر اس طرح کی کالز کی تحقیقات کی جائیں گی اور قانون کے مطابق اس پر ایکشن لیا جائے گا،بعض جرائم پیشہ افراد کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں کی جارہی ہیں، صوبائی حکومت ان کا مکمل سدباب کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع کو ایک بریفنگ میں سیکیورٹی حکام نے ٹی ٹی پی کے دوبارہ سر اٹھانے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ‘مبالغہ آرائی’ قرار دیا تھا۔

باخبرذرائع کے مطابق سکیورٹی حکام نے ان خبروں کی بھی تردید کی تھی کہ ’ٹی ٹی پی کے مسلح افراد‘ کو امن مذاکرات کے دوران طے پانے والی کسی سمجھوتے کے تحت افغانستان میں ان کے محفوظ ٹھکانوں سے وطن واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی،ٹی ٹی پی کے متعدد جنگجو جون اور جولائی میں افغانستان سے حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے دوران واپس آئے تھے، واپس آنے والے عسکریت پسندوں کو پہلی مرتبہ اگست کے شروع میں سوات کے علاقے دیر میں دیکھا گیا جب انہوں نے ایک فوجی افسر اور ایک پولیس اہلکار کو یرغمال بنایا تھا۔

جس کے بعد دونوں کو مقامی عمائدین کے ساتھ بات چیت کے بعد رہا کردیا گیا تھا، اس کے بعد سے علاقے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات کی اطلاعات ہیں،خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 450 عسکریت پسندوں کو اپنے ہتھیاروں سمیت واپس جانے کی اجازت دی گئی تھی،اس وقت یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہیں پہاڑیوں میں ہتھیار رکھنے کی اجازت تھی، لیکن انہیں غیر مسلح ہو کر اپنے گھروں میں جانا تھا،جب یہ رپورٹیں پہلی بار منظر عام پر آئیں تو دعویٰ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والوں نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر عسکریت پسندوں کو ان کے گھروں کو جانے کی اجازت دی تھی،تاہم ذرائع نے بتایا تھا کہ حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی سمجھوتہ نہیں تھا اور چند عسکریت پسند پاک افغان سرحد کے بغیر باڑ والے حصوں میں گھس آئے تھے۔

Back to top button