شرح سود میں اضافے کےسبب سٹاک مارکیٹ میں 700 پوائنٹس کی کمی

پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بیج مارک ایس ای 100 انڈیکس‘ میں کاروبار شروع ہوتےہی 700 پوائنٹس سے زیادہ کمی دیکھی گئی جبکہ شدید گراوٹ کی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس بڑھانے کو حیران کن اقدام کو قرار دیا گیا،صبح 10 بج کر 2 منٹ پر 100 انڈیکس 654 پوائنٹس یا 1.52 فیصد کمی کے بعد 42 ہزار 282 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
اس حوالے سے انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز سے منسلک ریسرچ ہیڈ رضا جعفری کا کہناتھا مارکیٹ میں منفی رجحان کی وجہ شرح سود میں اضافہ اور عمران خان کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی دھمکی کے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی صورتحال ہے، صورتحال میں بہتری آسکتی ہے کیونکہ پاکستان اپنے میچور ہونے والے سکوک بانڈز کی ادائیگی مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور لانگ مارچ ختم ہوگیا جس کی وجہ سڑکوں پر تصادم کا خطرہ تھا۔
خیال رہے کہ جمعہ کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا تھا جس کے بعد شرح سود 16 فیصد پر پہنچ گئی،یہ اعلان مرکزی بینک کی زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ مہنگائی کا دباؤ توقع سے زیادہ اور مسلسل ثابت ہوا ہے، شرح سود بڑھانے کے فیصلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مہنگائی پائیدار نہ ہوجائے، مالی استحکام کو درپیش خطرات قابو میں رہیں اور اس طرح زیادہ پائیدار بنیاد پر بلند نمو کی راہ ہموار کی جاسکے، معاشی سست روی کے دور میں مہنگائی کو مسلسل عالمی اور رسدی دھچکوں کے سبب تحریک مل رہی ہے، جس سے لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اعلامیے میں اعلامیہ کے مطابق یہ صورتحال وسط مدتی نمو کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے سبب لاگتی مہنگائی نظر انداز نہیں کی جاسکتی اور زری پالیسی کے ذریعے ردعمل ضروری ہو جاتا ہے، حالیہ سیلاب سے فصلوں کو ہونے والے نقصانات کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے قوزی مہنگائی (کور انفلیشن) مزید بلند ہوئی۔
