نیا آرمی چیف آنے سے فوری الیکشن کا امکان کیوں نہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ تسلیم نہیں کروا پائے تو خان صاحب نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے اس حوالے سے بالکل بھی کوئی امید نہ رکھیں، چاہے وہ ساری اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ عمران کا لانگ مارچ ناکام ہوا۔ نہ لاکھوں لوگ آئے، نہ وعدے کے مطابق اسلام آباد کی طرف مارچ کیا گیا تا کہ حکومت کو فوری الیکشن کروانے پر مجبور کیا جائے، لیکن اس کے باوجود عمران سیاسی طور پر پی ڈی ایم اور اتحادیوں کی موجودہ حکمت عملی پر بھاری ہیں۔ اتحادی حکومت نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی میں عمران کا پریشر نہ لیتے ہوئے عاصم منیر کو فوجی سربراہ بنا دیا تو کپتان نے بھی پینترا بدلا اور لانگ مارچ ختم کرتے ہوئے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا تا کہ حکومت کو جلد الیکشن کروانے پر مجبور کیا جا سکے۔ لیکن نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد فوج پر دبائو ڈال کر حکومت سے فوری الیکشن کی تاریخ لینا اب ممکن نظر نہیں آتا۔ اگر جنرل باجوہ نے سات مہینوں میں تمام تر دبائو کے باوجود ایسا نہیں کیا تو بھول جائیں کہ جنرل عاصم منیر ایسا کچھ کریں گے کیوں اس سے فوج مزید متنازع ہو جائے گی خصوصاً ایسے وقت میں کہ جب وہ غیر سیاسی ہونے کا اعلان کر چکی ہے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کے نئے فوجی سربراہ بننے کے بعد اگر عمران کا لانگ مارچ اسلام آباد آ بھی جاتا تو خان کو کچھ نہ ملتا۔ اسلئے موصوف نے بظاہر بغیر کسی مشاورت کے اس نئی حکمتِ عملی کا اعلان کر دیا ہے کہ اب تحریک انصاف تمام اسمبلیوں سے استعفے دے گی جب کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے اعلیٰ اپنی اپنی حکومتوں کو ختم اور اسمبلیوں کو تحلیل کر دیں گے۔ دوسری جانب حکومتی اتحاد کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اور اُن کا لانگ مارچ ناکام ہو گیا ہے اور اس لئے اُنہوں نے فیس سیونگ کے لئے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ویسے پچھلے کئی مہینوں سے بار بار پی ڈی ایم کے رہنما اور صحافی یہ کہتے رہے ہیں کہ عمران کو اگر جلد الیکشن کروانے ہیں تو وہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اپنی حکومتوں کی قربانی دے، اسمبلیوں کو تحلیل کرے تو پھر پی ڈی ایم کے پاس بھی فوری الیکشن کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں رہے گا۔ اب عمران نے یہ اعلان کر دیا ہے تو بھی پی ڈی ایم کے رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ دونوں صوبوں میں عدم اعتماد کی تحریکیں پیش کریں گے تا کہ اسمبلیوں کو تحلیل نہ کیا جا سکے۔ اگر ایسا ہو بھی گیا تو اسمبلیوں کی تحلیل کو چند ہفتوں تک ہی روکا جا سکتا ہے۔ ہاں اگر وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی پی ڈی ایم کے ساتھ مل جائیں تو کھیل بدل سکتا ہے، لیکن پرویز الٰہی نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کا حکم ملنے کے بعد پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے میں آدھا منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔
انصار عباسی کے مطابق سیاسی طور پر بھی پرویز الٰہی کو پی ڈی ایم کے ساتھ مل جانا سوٹ نہیں کرتا۔ الیکشن آج ہوتے ہیں، چھ ماہ بعد یا اگلے سال اکتوبر میں، عوام کی اکثریت کی حمایت فی الحال عمران کے ساتھ ہی نظر آتی ہے۔ پرویز الٰہی کو معلوم ہے کہ اگر وہ عمران کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیں گے تو یقینی طور پر جیت جائیں گے، دوسری صورت میں اُن کے لئے سیاسی رسک زیادہ ہے۔ حکمراں اتحاد عمران کی سیاست کے متعلق جو بھی تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حقیقت میں اُن کے لئے اب پہلے سے زیادہ پریشانی کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ عمران جوں ہی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کر وائیں گے، حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا، یوں سیاسی اور معاشی عدم استحکام بڑھے گا جس کا حکمراں اتحاد کو عمومی طور پر اور ن لیگ کو بالخصوص بہت زیادہ نقصان ہو گا۔ ویسے اگر خان صاحب غور کریں تو معاشی عدم استحکام کا نقصان اُن کو بھی ہو گا کیوں کہ اگر وہ ایک سال بعد اپنی حکومت بناتے ہیں اور انہیں تباہ حال معیشت ملتی ہے تو اُن کی حکومت بھی نہیں چل سکتی چاہے وہ دوتہائی اکثریت کے ساتھ بھی آئندہ الیکشن جیت جائیں۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کے لئے مناسب ہو گا کہ بجائے کہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے ساتھ اپنی حکومت کی مدت پوری کرنے کی ضد کرے، عمران کو بات چیت کی دعوت دی جائے اور جون 2923 میں الیکشن کروانے کے بارے میں سوچا جائے۔ بات چیت سے سیاسی استحکام بھی آئے گا اور معاشی صورتحال بھی ابتری سے بچ جائے گی۔ سیاست دانوں میں اقتدار کے حصول کی رسہ کشی تو کبھی ختم نہیں ہونے والی، اس لیے پاکستان اور عوام کے مفاد میں یہی بہتر ہےکہ دونوں فریق بات چیت کے ذریعے الیکشن کا فیصلہ کریں جو جون میں ممکن ہو سکتا ہے۔
