باجوہ کی مزید ایکسٹینشن کی کوشش کیسے ناکام ہوئی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آخری ہفتے تک اپنے عہدے میں توسیع کے خواہشمند تھے اور اس حوالے سے سر توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے۔ تاہم بھرپور تگ و دو کے باوجود حکومتی انکار کی وجہ سے انہیں اپنے مشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا گیا۔
اپنے یوٹیوب چینل پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے اسد علی طور نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہمیشہ سے حکومتی اتحاد کا انتخاب تھے حالانکہ انہیں عمران خان اور فیض حمید گروپ کی سخت مخالفت کا سامنا تھا،اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک بار پھر توسیع لینا چاہتے تھے۔ اسی لیے برطرفی کے بعد عمران کی جانب سے مسلسل برا بھلا کہے جانے کے باوجود جنرل باجوہ نے پی ٹی آئی چیئرمین سے عارف علوی کے ذریعے ایوان صدر میں خفیہ ملاقات کی اور اپنی ایکسٹینشن کی تجویز دلوا دی۔ جنرل باجوہ چاہتے تھے کہ وہ حکومتی اتحاد پر دبائو ڈال کر توسیع لینے کی کوشش کریں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ باجوہ نے عمران کو کہا کہ اگر مجھے توسیع نہ ملی تو عاصم منیر اگلے آرمی چیف بن جائیں گے لہذا بہت ضروری ہے کہ ان کا راستہ روکنے کے لیے مجھے توسیع دلوائی جائے تاکہ عاصم 27 اکتوبر کو ریٹائر ہو جائیں۔ باجوہ نے عمران کو یاد دلایا کہ عاصم منیر وہی شخص ہے جسے 2019 میں آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹانے کے لیے آپ نے بطور وزیر اعظم مجھے اتوار کے روز حکمنامہ جاری کرنے پر مجبور کیا تھا۔
اسد طور نے کہا کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کو ایک دوسری آفر بھی دی تھی کہ میری توسیع سے جنرل فیض حمید آرمی چیف کی دوڑ میں موجود رہیں گے اس لیے آپ میری توسیع کی حمایت کریں تا کہ میں مارچ میں عام انتخابات کروا دوں۔ باجوہ کی جانب سے عمران خان کو یہ فارمولا بھی دیا گیا کہ اگر آپ مارچ 2013 میں اقتدار میں آجاتے ہیں تو جنرل فیض حمید کی ریٹائرمنٹ سے قبل ان کو آرمی چیف بھی بنا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیض حمید کی ریٹائرمنٹ اپریل 2023 میں ہونی ہے لیکن عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد انہوں نے قبل از وقت ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسد طور کے بقول، دوسری جانب جنرل باجوہ حکومت کے ساتھ بھی کھیل کھیل رہے تھے اور اسے یقین دلوا رہے تھے کہ اگر مجھے توسیع مل جائے تو میں پی ڈی ایم کو پنجاب کی حکومت واپس دلوا دوں گا جو ابھی پرویز الٰہی کے پاس ہے۔ لیکن شہباز حکومت کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ پنجاب واپس تو چاہتی تھی لیکن اپنی شرائط پر۔ لہذا حکومت کی جانب سے باجوہ کو یہ مطالبہ ڈال دیا گیا کہ آپ پہلے پنجاب کی حکومت واپس لے کر دیں اور پھر مزید ایکسٹینشن کی بات کریں۔ وجہ یہ تھی کہ پرویز الٰہی نجی محفلوں میں اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ میں تحریک انصاف میں شامل ہی جنرل باجوہ کے کہنے پر ہوا تھا۔ اس لئے بھی حکومت کو اندازہ تھا کہ جنرل باجوہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ چنانچہ انہیں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس انکار کے بعد جنرل باجوہ نے حکومت پر دبائو ڈالنا شروع کر دیا کہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو آرمی چیف تعینات کریں کیونکہ یہ میرے امیدوار ہیں۔ لیکن حکومتی اتحاد کا ماننا تھا کہ جب باجوہ کو توسیع نہیں دینی تو ان کے پسندیدہ شخص کو آرمی چیف بھی کیوں بنائیں۔ باجوہ کی اس سفارش کی وجہ سے ساحر شمشاد آرمی چیف کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔
پلان اے، توسیع، اور پلان بی، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد بطور آرمی چیف، ناکام ہونے کے بعد جنرل باجوہ نے پلان سی کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ چیف آف جنرل سٹاف اظہر عباس کو آرمی چیف بنایا جائے۔ اس مطالبے پر حکومت پھر سے چوکنی ہو گئی۔ اسد طور کے مطابق مسئلہ یہ تھا کہ اظہرعباس سینارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھے اور ان کی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد ،لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ سے بھی گہری چھنتی تھی۔ ان کا وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والے جرنیل کا تاثر تھا اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا کہ انہیں بھی آرمی چیف نہیں بنایا جائے گا۔ اس دوران عمران خان کے دست راست لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے آرمی چیف بننے کے لیے لندن میں نون لیگ کی قیادت سے بالواسطہ رابطہ کر لیا اور مریم نواز کو ان کے موبائل فون پر وفاداری کے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔ فیض نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ جو ‘پروجیکٹ عمران خان’ جنوری 2022 میں فیصلہ ہو جانے کے باوجود جنرل باجوہ کی ڈبل گیم کی وجہ سے نہیں لپیٹا جا سکا اسے میں چند مہینوں میں لپیٹ کر رکھ دوں گا۔ تاہم پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل فیض حمید پر یقین کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا لہذا ان کا نام بھی مسترد کر دیا گیا۔
اسد طور کے مطابق حکمران اتحاد نے عاصم منیر کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کر رکھا تھا لہذا بالآخر انہی کا نام فائنل کیا گیا حالانکہ جنرل باجوہ اور عمران خان کی لابی نے انکی سخت مخالفت کی۔ حکمران اتحاد کے لئے عاصم منیر غیرمتنازعہ تھے چونکہ ان کے نہ تو نواز لیگ میں تعلقات تھے اور نہ ہی پیپلز پارٹی میں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ فیض امیدوار عمران خان کی جانب سے ان کی سخت مخالفت کی جارہی تھی۔ لیکن جب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو آصف علی زرداری نے اپنے سابقہ ملٹری سیکرٹری اور موجودہ کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کا نام تجویز کیا جو سنیارٹی میں نمبر 6 پر تھے۔ تاہم جنرل باجوہ نے لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنانے کی سخت مخالفت کی اور حکومت کو یہ پیغام دیا کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو اس عہدے پر تعینات نہ کیا گیا تو وہ جنرل عاصم منیر کا نام جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں نہیں ڈالیں گے کیونکہ وہ 27 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ کچھ دو اور کچھ لو کے اصول کے تحت حکومت نے جنرل باجوہ کا دباؤ مان لیا اور عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنانے کے عوض ساحر شمشاد کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنانے پر آمادگی ظاہر کردی۔
