کیا عمران جنرل عاصم کو سیاسی مداخلت پر مجبور کر پائیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ سیاسی شطرنج کی بساط پر عمران خان کی جانب سے صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی چال کا اصل مقصد سیاسی عدم استحکام اور معاشی گراوٹ میں اضافہ کرنا ہے تاکہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ مداخلت پر مجبور ہو جائے اور فوری نئے الیکشن کا اعلان کروا دے۔ لیکن حکومت عمران کے اس حربے کو کاؤنٹر کرتے ہوئے پنجاب کا قبضہ واپس لینے کے لیے قدم بڑھائے گی کیوں کہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں عوام کے دل جیتنا انتخابی حکمت عملی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

 

فرائیڈے ٹائمز کیلئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ تباہ کن ہائبرڈ نظام حکومت کے تخلیق کار اور منصوبہ ساز آخرکار اسی کا شکار بنے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ تصور دو سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کا وضع کردہ تھا جسے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے آگے بڑھایا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ذریعے عملی شکل دی۔ لیکن جس عمران خان کی اُنھوں نے پشت پناہی کی اور جسے سہارا دے کر بنایا اور چلایا، وہ ان کے لیے اتنا بڑا بوجھ ثابت ہوا کہ انہیں اس کو اتار پھینکنا پڑا۔ یہ عمل بذات خود ان کی سزا بن گیا جس کے نتیجے میں قائم کردہ ہائبرڈ نظام زمین بوس ہوگیا۔

 

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کئی دہائیوں پر محیط منصوبہ سازی کے بعد تشکیل کردہ ہائبرڈ نظام حکومت عمران کی نااہلی اور کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا، جب کہ اس دوران جنرل باجوہ کی خواہشات اور جنرل فیض حمید کی مکروہ سازشوں کا سلسلہ بھی چل رہا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ لندن میں مقیم موسیقار نواز شریف کی دھن حتمی طور پر کامیاب ہوئی جب کہ اسلام آباد میں بیٹھے سازندوں اور کلاکاروں میں آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن شامل تھے۔ اسوقت صورت حال خاصی مبہم ہے۔ غلطیوں اور کوتاہیوں کااعتراف کرنے، اور اصرار کرتے ہوئے کہ اُنھوں نے فوج کو واپس بیرکوں میں بھیج دیا ہے، جنرل باجوہ منظر عام سے رخصت ہوئے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی مہم جوئی کا راستہ روک رہے ہوں۔ لیکن فوج کی تاریخ اور میراث کو دیکھیں تو ایسا کہنا آسان ہے لیکن کرنا کافی مشکل ہے۔ چوں کہ سیاسی جمود اور معاشی بحران جاری ہیں، اسلئے ابھی واضح نہیں کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر آئی ایس آئی کے سیاسی بازو کا رخ کس سمت موڑیں گے۔

 

انکے مطابق عمران خان نے بھی اپنے لانگ مارچ کا بادبان اتار دیا ہے کیوں کہ وہ اپنے دونوں اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جو کہ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنا اور پی ڈی ایم حکومت کو گرانا تھا۔ عمران خان پسپا تو ہوگئے ہیں لیکن میدان سے رخصت نہیں ہوئے۔ اس کی ایک وجہ تو ان کی ضد ہے، دوسری انھیں حاصل جذباتی عوامی حمایت اور تیسری پی ڈی ایم حکومت کی غیر متاثر کن کارکردگی ہے حالانکہ اس حکومت پر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے مشکل معاشی پالیسیاں بنانے کی ذمہ داری تھی۔ سیاسی شطرنج کی بساط پر عمران کی تازہ ترین چال ان صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا اعلان ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ انھیں توقع ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی گراوٹ میں مزید اضافہ ہو گا جس سے جنرل عاصم منیر کی قیادت میں اسٹیبلشمنٹ مداخلت کرنے پر مجبور ہوجائے گی اور حکومت پر زور دے گی کہ عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے۔ جہاں تک پی ڈی ایم حکومت کا تعلق ہے تو توقع ہے کہ یہ اپنے قدموں پر کھڑے رہتے ہوئے عمران خان پرہرگز ترس نہیں کھائے گی۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں، خاص طور پر عمران خان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات پر دل جمعی سے تیز تر کارروائی کی جائے گی۔ وفاق پنجاب میں حکومت سازی کے لیے بھی قدم بڑھائے گا کیوں کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں عوام کے دل جیتنا انتخابی حکمت عملی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ دوسری جانب عمران شور شرابا مچا کر عدالتوں اور اسٹبلشمنٹ کو میدان میں گھسیٹ لانے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ بوجھل ہوتے ہوئے سیاسی موسم میں پہلے سے ہی نڈھال معیشت مزید نیم جان ہوجائے گی۔

 

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو دی جانے والی بین الاقوامی اور دو طرفہ مالی امداد کا زیادہ تر انحصار سیاسی اور معاشی استحکام پر ہے۔ چونکہ عمران خان کی حکمت عملی قبل از وقت انتخابات پر مجبور کرنے کے لیے افراتفری پھیلانا ہے، لہذا وہ اس محاذ کو گرم رکھیں گے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی معاشی گراوٹ یا کمی کی خبریں آئیں گی جو خان صاحب کو حکومت کے گرد شکنجہ کسنے اور اس پر ضربیں لگانے کا موقع فراہم کریں گی۔ دوسری طرف پی ڈی ایم حکومت دعا کر رہی ہے کہ وہ اگلے سال کے آخر تک وقت نکال جائے تاکہ معیشت کا رخ موڑا جا سکے اور ووٹروں کو کچھ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ لیکن عمران خان اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر ایک ایسے وقت میں فوج کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب ملک نازک ترین حالات کا شکار ہے۔ اُن کے سامنے منقسم اور مجروع ساکھ رکھنے والی فوجی قیادت کی میراث ہے۔ پاکستانی معاشرہ بھی اس وقت انتہائی قطبیت زدہ ہے۔ فوج کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے اندرونی طور پر مضبوط گرفت اور بیرونی طور پر پیچھے ہٹنے کا عزم درکار ہوگا۔ پہلی شرط اعلیٰ اخلاقی معیار، تدبر اور نظم و ضبط پر منحصر ہے۔ دوسرا انحصار اس صلاحیت اور جذبے پر ہے کہ وہ ”قومی مفاد“ کے نام پر طاقت کے کھیل میں کودنے کی ترغیب سے بچ سکیں۔

 

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی اور سیاسی سٹیج پر دوبارہ راج کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ میاں صاحب پی ڈی ایم حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے اپنے خلاف سنائی گئی ناروا سزاؤں اور نااہلی ختم کرانے کی کوشش کریں گے۔ نیز وہ عمران کو اپنے ہاتھوں سے کھودے گئے گڑھے میں گرتے دیکھنا چاہیں گے۔دوسری جانب مجروع اور خستہ حال عدلیہ، جس نے باجوہ دور میں اطاعت گزاری کی روش اپنا رکھی تھی، اب وہ جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف رہنمائی کیلئے دیکھے گی۔ لیکن اگر ادھر سے کوئی اشارہ نہ ملا تو عدلیہ مناسب یوٹرن لیتے ہوئے طرفین کو کھیلنے کے لیے ہموار میدان فراہم کر سکتی ہے۔سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ریاست اور معاشرے کے تمام طبقات پر ہائبرڈ رجیم کے زخم گہرے ہیں۔ اپنے طے شدہ آئینی کردار کی حدود میں رہتے ہوئے فوج، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے سرکردہ اسٹیک ہولڈرز کی شعوری اور اجتماعی کوششوں کے بغیر یہ زخم مندمل نہیں ہوں گے۔ لہذا اگلے چھ ماہ بتائیں گے کہ ہم صحیح راستے پر گامزن ہیں یا نہیں۔

Back to top button