2022 میں بھی عوام کی چیخیں نکلوائے کا عمرانی منصوبہ


معاشی میدان میں کپتان حکومت کی تین سالہ بدترین کارکردگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاشی ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ سال 2022 میں مہنگائی کے مارے عوام کی چیخیں اور بھی بلند تر ہو جائیں گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے وعدے کے عین مطابق کپتان نے اگلے برس بھی عوام کی چیخیں نکوانے کا پورا بندوبست کر رکھا ہے جسکا آغاز منی بجٹ سے ہو گا جو کہ مہنگائی کا نیا طوفان لائے گا جس سے عوام کی زندگیاں مزید مشکل ہوجائیں گی۔ انکا کہنا ہے کہ اگلے برس 23 ارب ڈالرز کے غیر ملکی قرض کی واپسی اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکائونٹ خسارے کی وجہ سے پاکستانی عوام 2022ء میں بھی شدید تر مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار رہیں گے۔
ناقدین کے مطابق بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کپتان حکومت نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کے لیے دستیاب وقت گنوادیا ہے۔ حکومت کو اقتدار میں آئے ساڑھے 3 سال ہوگئے ہیں مگر تاحال عوام معیشت میں بہتری، تنخواہوں میں اضافے، علاج کی بہتر سہولیات اور مہنگائی میں کمی کے خواب ہی دیکھ رہے ہیں۔اگر سال 2021ء کو وزیرِاعظم عمران خان کے بیانات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ ترقی اور خوشحالی کا سال ہونا چاہیے تھا مگر وہ عوام کو ایک مؤثر ریلیف دینے میں بھی مکمل طور پر ناکام نظر آرہے ہیں۔ حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کے باعث معیشت کا جو برا حال ساڑھے 3 سال پہلے تھا وہ اب پہلے سے کئی گنا زیادہ ابتر ہوچلا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا معاشی مسئلہ سر اٹھائے کھڑا ہوتا ہے مگر حکومت اب بھی تمام مسائل سے لاپرواہ دکھائی دے رہی ہے۔ جس معاشی اعشاریے کو اٹھا کر دیکھیے، منفی ہی نظر آتا ہے۔
موجودہ حکومت کی جانب سے شوکت ترین کو وزیرِ خزانہ بنانے کے بعد معیشت کو توسیع پسندانہ خطوط پر استوار کیا گیا تھا۔ کسی حد تک شوکت ترین نے معیشت کو وسعت دینے اور کھپت میں اضافہ کرکے ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی پالیسی اپنائی تھی مگر روپے کی قدر میں شروع ہونے والی گراوٹ اور نومبر میں بنیادی شرحِ سود میں 1.5 فیصد کے اضافے نے معیشت کا رخ ترقی سے معیشت کو مستحکم بنانے اور کرنٹ اکاؤنٹ میں پیدا ہونے والے رسک کو کم کرنے کی طرف موڑ دیا لیکن مہنگائی کی شرح اس قدر بڑھ گئی کہ عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ یہ مہنگائی غریب طبقے کو معاشی لحاظ سے بُری طرح متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی قوتِ خرید بھی تیزی سے کم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی اس کی زد میں آتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو کسی ملٹی نیشنل کمپنی جیسا نیٹ ورک ہوتا ہے، نہ سپلائی چین اور نہ ہی فنانسنگ کی کوئی سہولت میسر ہوتی ہے، لہٰذا مہنگائی کے باعث متعدد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت سے نکل جاتے ہیں اور بڑی کمپنیاں باقی رہ جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے منافعے میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ایندھن، مکان کے کرائے، دودھ اور خوردنی تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران بھی مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مالی سال 2018ء میں جب تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت مہنگائی کی عمومی شرح 4.2 فیصد تھی۔ غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 3.8 فیصد اور نان فوڈ انفلیشن 4.4 فیصد تھی۔پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد مالی سال 2019ء میں مہنگائی کی شرح 6.8 فیصد رہی جس میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ 4.8 فیصد تک رہا۔ بعدازاں مالی سال 2020ء میں مجموعی مہنگائی کی شرح 10.7 فیصد رہی اور دیہی علاقوں میں فوڈ انفلیشن 13.6 فیصد رہا۔ 30 جون 2021ء کو ختم ہونے والے مالی سال میں مجموعی مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد رہی جبکہ دیہی علاقوں میں فوڈ انفلیشن 13.1 فیصد تک دیکھا گیا۔ سال 2021ء کا جائزہ لیا جائے تو اس میں انفلیشن جنوری کے علاوہ کسی بھی مہینے میں 8 فیصد سے کم نہ رہا جبکہ اپریل میں 11.1 فیصد، مئی میں 10.9 فیصد اور نومبر میں 11.5 فیصد رہا۔ مگر سال بھر میں فوڈ انفلیشن دوہری ہندسے یا 10 فیصد سے زائد ہی رہا۔ ان اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی عوام کی برداشت سے باہر ہوگئی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود کھانے پینے کی اشیا کا ایک بڑا درآمدی مرکز بھی بن گیا ہے۔
روپے کی قدر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ قدر میں کمی سے ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ عمران خان برسرِ اقتدار آئے تو روپے کی قدر 120 روپے فی امریکی ڈالر تھی۔ گزشتہ 40 ماہ کے دوران روپے کی قدر میں 30.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روپے کی قدر میں کمی صرف اور صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے کی گئی ہے اور اس کا معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ موجودہ مشیرِ خزانہ شوکت ترین یہ اعتراف تو کرتے ہیں کہ روپے کی قدر میں سٹے بازی کی جارہی ہے مگر اس کے باوجود اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت اس سٹے بازی کے خلاف اقدامات اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے شوکت ترین کے اس بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔شوکت ترین کے مطابق روپے کی قدر 164 روپے فی ڈالر کے قریب ہونی چاہیے، سٹے باز ڈالر پر ایک بڑی رقم یعنی 10 سے 15 روپے لے جارہے ہیں۔ تاہم نہ اسٹیٹ بینک اور نہ ہی وزارتِ خزانہ اب تک ان سٹے بازوں کا پتا لگا پائی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے۔
ان عوامل کے علاوہ بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش بنا ہوا ہے۔ مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا اور اکتوبر میں ایک ارب 66 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر اجناس اور خدمات کی درآمدات میں اضافہ ہے۔ اس اضافے کا بوجھ پاکستان روپے کی قدر پر بھی پڑا ہے۔حکومت کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.8 فیصد کے برابر پہنچ گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا۔ شرح سود میں اضافے کے بعد مالیاتی خسارے میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ قرضوں پر واپسی کی رقم بڑھ جائے گی۔
سونے پر سہاگی یہ کہ اب حکومت موجودہ مالی سال کا نظرثانی شدہ منی بجٹ پیش کرنے جارہی ہے، جس سے دودھ، بیکری مصنوعات، گوشت اور مرغی، سونے، موٹرسائیکل، برقی گاڑیوں اور موبائل فونز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگا اور مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہو جائے گا لہذا پاکستانی عوام کی چیخیں اور بھی بلند ہو جائیں گی۔
پاکستان کی معیشت کے لئے ایک اور بڑی پریشانی یہ ہے کہ حکومت کو اس سال 23 ارب ڈالر کے غیر ملکی زرِمبادلہ ذخائر کی ضرورت ہے جو پاکستان کے مجموعی بیرونی قرض کے 38 فیصد حصے کے برابر ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی غیر ملکی ادائیگیوں کو جاری رکھ سکے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان 12 ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر جبکہ بقیہ تقریباً 11 ارب ڈالر بیرونی مارکیٹ سے حاصل کرنے کا خواہشمند ہے مگر اس قرض سے پہلے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام کی منظوری ضروری ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب پاکستان دوبارہ ایم ایف کے پاس جائے گا اور مزید قرضے لے گا تو انہیں ادا کرنے کی خاطر سارا بوجھ نئے ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر ڈال دیا جائے گا۔ اس لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ سال 2022 میں مہنگائی کے مارے عوام کی چیخیں بلند تر ہو جائیں گی۔

Back to top button