جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید پر اداکاراؤں سے تعلقات کا الزام

تحریک انصاف کے حمایتی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر میجر عادل راجہ کی جانب سے چار ٹاپ پاکستانی اداکاراؤں کی جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کے ساتھ نازیبا ویڈیوز کی موجودگی کے الزام نے شوبز حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے لیکن چاروں اداکاراؤں نے سخت ترین رد عمل دیتے ہوئے اسے ایک بیہودہ اور جھوٹا الزام قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔ پاکستانی اداکاراؤں نے میجر عادل راجہ کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگانے پر عدالتی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ راجہ ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے ترجمان تھے اور فوج میں عمران کے حمایتی دھڑے کے سرخیل تھے۔ تاہم عمران حکومت کے خاتمے کے بعد موصوف جنرل باجوہ کے خلاف مہم چلانے پر گرفتاری کے خدشے میں مبتلا ہوکر ملک سے فرار ہوگئے تھے اور آجکل بیرون ملک مقیم ہیں جہاں سے وہ وی لاگ کرتے ہیں۔

اپنے تازہ وی لاگ میں میجر عادل راجہ نے چار پاکستانی اداکاروں کے ناموں کے پہلے حروف تہجی استعمال کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ فوج کے سیف ہاؤسز میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے خفیہ ملاقاتیں کرتی تھیں اور ان کی نازیبا وڈیوز بھی موجود ہیں جو کسی بھی وقت منظر عام پر آ سکتی ہیں۔ عادل راجہ نے الزام لگایا کہ عرفان ستی اور رحمت نامی فوجی افسران خفیہ ادارے کے سیف ہاؤسز میں ٹاپ ماڈلز اور اداکارائیں پہنچایا کرتے تھے جنکے نام کے شروع میں ایم ایچ یعنی مہوش حیات، ایم کے یعنی ماہرہ خان، کے کے یعنی کبری خانم  اور ایس اے یعنی سجل علی آتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز جنرل (ر) باجوہ اور جنرل(ر) فیض سے رابطے میں تھیں۔ عادل راجا نے الزام لگایا کہ یہ اداکارائیں آئی ایس آئی کے ہاتھوں جنسی طور پر استعمال ہوتی تھیں اور انہیں بطور "ہنی ٹریپ” یا چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا تاکہ بااثر سیاست دانوں اور دیگر شخصیات کی نازیبا ویڈیوز بنائی جا سکیں، لیکن اس دوران جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی اپنی ویڈیوز بھی بن گئیں۔

اس الزام کے بعد ماہرہ خان، مہوش حیات، سجل علی اور کبریٰ خان نے سخت رد عمل دیتے ہوئے عادل راجہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس الزام کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر مہوش حیات، سجل علی، ماہرہ خان اور کبریٰ خان کا نام ٹرینڈ کرنے لگا ہے اور اس حوالے سے مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اداکارہ مہوش حیات نے سخت ردعمل میں لکھا کہ کچھ لوگ سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے انسانیت کے درجے سے بھی گر جاتے ہیں، امید ہے کہ آپ اپنی دو منٹ کی شہرت کا لطف لے رہے ہوں گے، مجھ پر یہ بے ہودہ اور جھوٹا الزام صرف اس لیے لگایا گیا کہ میں اداکارہ ہوں، لیکن یاد رکھو میرا نام یوں نہیں گھسیٹا جاسکتا۔ اداکارہ نے کہا کہ بے بنیاد الزامات عائد کرنے اور کسی ایسے شخص کے بارے میں جس کے بارے میں آپ کچھ نہیں جانتے بے بنیاد جھوٹ پھیلانے پر تم پر ہزار لعنت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوس ان لوگوں پر ہے جو اس بکواس پر یقین رکھتے ہیں اور اسے پھیلا رہے ہیں، یہ ہمارے معاشرے کی بیماری کو ظاہر کرتا ہے جو بغیر سوچے سمجھے اس گٹر جرنلزم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ مہوش حیات نے مزید کہا کہ اب یہ سلسلہ رکنا چاہیے اور فوری طور پر رکنا چاہیے، کیونکہ وہ کسی کو اپنا نام یوں بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کے الزام کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اداکارہ کبریٰ خان نے بھی اپنےانسٹاگرام اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ میں پہلے اس ساری بکواس پر خاموش تھی کیوں کہ ایک فیک ویڈیو میری شخصیت پر حاوی نہیں ہو سکتی لیکن اب مجھے بولنا پڑ گیا ہے اور میں یہ کہنا چاہتی ہوں  کہ کوئی مائی کا لال میرے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔  کبرٰی خان نے کہا کہ "آپ کو کیا لگتا ہے کہ کوئی بھی شخص مجھ پر بیٹھے بٹھائے انگلی اٹھائے گا اور میں چپ چاپ بیٹھوں گی، ایسا نہیں ہو گا۔ اداکارہ نے عادل راجا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر الزامات لگانے سے قبل ثبوت بھی سامنے لائیں، آپکے پاس ثبوت لانے کے لیے صرف تین دن کا وقت ہے۔ اگر آپ ایسا نہ کر سکے تو اپنا بیان واپس لیں اور پھر سر عام معافی مانگیں، لیکن اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو میں آپ پر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کروں گی۔عادل راجا نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے کبریٰ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نہیں تو آپ کا نام لیا ہے اور نہ ہی آپکی بدنامی کی ہے۔ تاہم آپ نے قیاس آرائیوں کی بنیاد پر واضح طور پر میرا نام لیا ہے اور مجھ پر الزام لگایا ہے۔

عادل راجا کا موقف ہے کہ انہوں نے اپنی ویڈیو میں براہِ راست کسی اداکارہ کا نام نہیں لیا تھا بلکہ صرف اشارہ دیتے ہوئے اداکاراؤں کے ناموں کے شروع کے حروف بتائے تھے۔ اس دوران سجل علی نے بھی سوشل میڈیا پر اپنا نام ٹرینڈ ہونے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "یہ بہت افسوس ناک ہے کہ ہمارا ملک اخلاقی طور پر پستی کی طرف  جا رہا ہے۔ کردار کشی انسانیت کی بدترین شکل اور گناہ ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اداکارہ ماہرہ خان نے بھی عادل راجہ کے الزام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کتوں کے بھونکنے سے قافلے رکا نہیں کرتے۔ انکا کہنا تھا کہ با عزت خواتین کی کردار کشی کرنے والوں کا محاسبہ کیا جانا ضروری ہے۔ انکا کہنا تھا کہ فن کار بڑی محنت سے شوبز انڈسٹری میں اپنا نام پیدا کرتے ہیں جسے ایک لمحے میں گندا کردیا جاتا ہے لہذا ایسی مکروہ حرکت کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔ تاہم میجر ریٹائرڈ عادل راجا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی ویڈیو میں کسی کا نام نہیں لیا، لیکن سچ بہت کڑوا ہوتا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر قومی مفادات کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینی چاہیے۔

یاد رہے کہ اداکارہ مہوش حیات کو 2019 میں عمران دور میں ‘یومِ پاکستان’ کے موقع پر صدرِ ڈاکٹر عارف علوی نے تمغہ امتیاز سے نوازا تھا۔ ان کے علاوہ سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آنے والی اداکارہ سجل علی اور کبریٰ خان نے پاک فوج کے اشتراک سے بننے والے ڈرامے ‘صفِ آہن’ میں کام کیا تھا۔ پچھلے برس یوم شہدا کی ایک تقریب سے خطاب کرنے کے بعد جنرل باجوہ نے شرکاء میں موجود اداکارہ کبری خانم اور سجل علی سے جاکر ملاقات بھی کی تھی۔

Back to top button