ایم کیو ایم کا اتحاد PTIکے خلاف ہے یا PPPکے خلاف؟

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ذریعے ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوششوں کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ان کا مقصد صرف تحریک انصاف کو ہی کاؤنٹر کرنا ہے یا پیپلز پارٹی کا راستہ روکنا بھی مقصود ہے جو شہری سندھ بشمول سکھر، میرپور خاص اور حیدر آباد میں اپنے میئرز کی جیت کی امید لگائے بیٹھی ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی مظہر عباس اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ شہری سندھ کی سیاست میں ’مہاجر فیکٹر‘ ہمیشہ سے اہم رہا ہے مگر سال 2013ء کے انتخابات کے بعد سے اس رجحان میں تبدیلی آئی اور 2018 میں پہلی بار کراچی نے ایک ایسی جماعت کو مینڈیٹ دیا جس نے وفاق میں حکومت بنائی۔ اس کی بڑی وجہ 22 اگست 2016 کے بعد سے متحدہ قومی موومنٹ کی تقسیم در تقسیم اور اردو بولنے والوں کے مقابلے میں دوسری زبان بولنے والوں کے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ تھا، تیسری وجہ خود ماضی میں اس جماعت کا ساتھ دینے والوں کا اس پر سے اعتماد ختم ہونا تھا۔ ایک اور اہم وجہ طاقتور حلقوں کا ایم کیو ایم کے حوالے سے بدلتا ہو بیانیہ تھا۔ لیکن جس جماعت کو اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ ہوا وہ تحریک انصاف ہے جس نے 2013 کے الیکشن میں 8 لاکھ ووٹ لئے اور ایم این اے کی ایک نشست جیتی، مگر 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن میں پی ٹی آئی شہری سندھ کی سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری۔ اب 2018 کے مقابلے میں 2023 میں محض اتنا فرق آیا ہے کہ پی ٹی آئی کو اداروں کی جو پشت پناہی حاصل تھی اب وہ ختم ہو چکی ہے۔ البتہ اپریل 2022 کے بعد سے اس جماعت نے اپنی غیرمقبولیت کو عدم اعتماد کی تحریک کے بعد مقبولیت میں تبدیل کردیا ہے۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس وقت ایم کیو ایم اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کا ووٹ بینک اب چار حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے جن میں پی ٹی آئی، تحریک لبیک اور جماعت اسلامی نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کی اپنی مقبولیت خود اپنے حلقہ احباب میں سوالیہ نشان ہے جس کی وجہ وہ خاموش ووٹر ہے جو آج بھی بانی متحدہ الطاف حسین سے جڑا ہوا ہے۔ بظاہر اداروں کا رویہ ایم کیو ایم (لندن) کے بارے میں اب بھی خاصہ سخت ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ماضی کی ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی ہر نشانی کو ختم کرنا چاہتے ہیں، چاہے وہ عزیز آباد میں انکی نائن زیرو رہائش گاہ ہو، خورشید میموریل ہال ہو، جناح پارک ہو یا یادگار ِشہدا، یہی نہیں، ’نیو‘ ایم کیو ایم پراجیکٹ میں یہ شرائط شامل ہیں کہ پارٹی کی رابطہ کمیٹی ختم کی جائے گی، ماضی کی طرح کوئی تنظیمی سیکٹر اور یونٹ انچارج نہیں ہوں گے اور نہ ہی الخدمت فائونڈیشن کو ماضی کی طرح چندہ جمع کرنے کی اجازت ہوگی۔یہ ایک مختصر سا خلاصہ ہے نیو ایم کیو ایم پراجیکٹ کا، وہ بھی شاید اس لئے لایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے معاملات تا حال کشیدہ ہیں۔

لیکن مظہر عباس کہتے ہیں کہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اداروں میں پریشانی صرف پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کی وجہ سے بھی ہے کیونکہ چند ماہ قبل بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے کے نتائج سے اس کا امکان بڑھ گیا ہے کہ شہری سندھ بشمول سکھر، میرپور خاص اور حیدرآباد میں بھی پی پی پی کے میئر منتخب ہو سکتے ہیں۔ 15؍جنوری کو اگر بلدیاتی الیکشن ہو جاتے ہیں تو مقابلہ پی ٹی آئی، پی پی پی اور جماعت اسلامی میں ہونے کا امکان ہے کیونکہ ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کے انضمام کے باوجود انہیں ایم کیو ایم ’لندن‘ کی مزاحمت کا سامنا رہے گا۔ پی پی پی اور جماعت اسلامی کو پی ٹی آئی کے مقابلے میں بلدیاتی الیکشن کی سائنس کا زیادہ تجربہ حاصل ہے مگر پی ٹی آئی کا ووٹر خاصہ متحرک ہے اور خود عمران خان الیکشن مہم کیلئے کراچی آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امکان اس بات کا ہے کہ یونین کونسلز کے الیکشن کے بعد کسی دو جماعتوں کے اتحاد سے میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب ممکن ہوگا، کلین سویپ کے امکانات کم ہیں۔ البتہ میئر کراچی کے لئے اب تک واحد امیدوار جماعت کے حافظ نعیم الرحمٰن ہیں جبکہ پی ٹی آئی میں مقابلہ فردوس شمیم نقوی اور خرم شیرزمان میں ہے۔ پی پی پی کے میئر کے امیدوار کا اعلان یونین کونسل کے الیکشن کے بعد ہوگا۔ رہ گئی بات نیو ایم کیو ایم پراجیکٹ کی تو اسکی اصل وجہ پراجیکٹ پاک سر زمین پارٹی کی 2016 کے بعد سے مسلسل انتخابی ناکامی ہے، پی ایس پی کے کرتا دھرتا مصطفی کمال فروری 2016 میں مائنس الطاف اور مائنس ایم کیو ایم فارمولہ لائے تھے۔ اداروں کے اندر اب بھی سابق میئر مصطفیٰ کمال کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر ان کا اینٹی الطاف بیانیہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں کر سکا، دوسری طرف 22 اگست سے پیدا شدہ صورت حال کو طاقتور حلقوں نے اس بے دردی سے استعمال کیا جس سے ایم کیو ایم (لندن) اور الطاف کیلئے ہمدردیاں زیادہ پیدا ہونے لگیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ نیو ایم کیو ایم پراجیکٹ جیسی ایک کوشش دو سال پہلے بھی ہوئی تھی مگر بہت سے رہنمائوں کی ’انا‘ آڑے آگئی۔ ایک وجہ تنازع عامر خان رہے جن کا اپنا ایک پس منظر ہے۔ ان کی سیاست کی ابتدا آفاق احمد کے ساتھ الطاف حسین کے مضبوط ساتھیوں کے طور پر ہوئی۔ وہ دونوں کراچی کے زونل انچارچ تھے ۔1991 میں ایم کیو ایم کی پہلی بڑی تقسیم کے نتیجے میں ان دونوں سمیت پانچ لوگوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا، مگر پراجیکٹ ایم کیو ایم حقیقی  کامیاب نہیں ہوسکا جس کے بارے میں خود اس کے سربراہ آفاق احمد نے کہا تھا کہ انہیں بھائی لوگوں نے سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی، بس ادارے چاہتے تھے کہ ہم اپنے ’علاقے‘ اپنے پاس رکھیں یعنی لانڈھی اور کورنگی۔ اس دوران 22 اگست کے بعد عامر خان ایم کیو ایم پاکستان کے نمبر 2 ہو گئے مگر نیو ایم کیو ایم پراجیکٹ میں تمام دھڑوں کے انضمام کی صورت میں وہ اس سے باہر رہیں گے۔ یاد رہے کہ عامر خان کچھ ماہ پہلے پاکستان چھوڑ گئے تھے اور آج کل دبئی میں اپنا بزنس دیکھ رہے ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کو ایک ہی چھتری تلے جمع کرنے والے پراجیکٹ نیو ایم کیو ایم کے روح رواں گورنر سندھ کامران ٹیسوری ہیں جو 2016 میں وجہ تنازع بنے۔ کہتے ہیں انسان کا اصل امتحان ہوتا ہی تب ہے جب آپ کے پاس اختیار آجائے، اگر آپ نے وہ ضائع کردیا تو وقت پلٹ کر نہیں آتا۔ یہی ایم کیو ایم کی کہانی ہے۔ جن اُردو زبان بولنے والوں کی طاقت علم و ادب اور تہذیب رہی ہو ان کو اگر قائد ’’زیور بیچ کر ہتھیار خریدنے‘‘ کا مشورہ دیں گے تو پھر وہی ہوگا جو ہوا۔ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے، علاقے اور محلے میں موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے راتوں رات امیر ہو جائیں تو یہی ہوتا ہے جو ہوا۔

Back to top button