تحریک طالبان کی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو دھمکی

نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں تحریک طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشت گرد کارروائیوں کو روکنے کے لیے سخت فوجی اقدامات کے اعلان کے بعد تحریک طالبان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی بھی برسر اقتدار مسلط کردہ ٹولے کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے پر غور کررہی ہے۔ اگر یہ دو جماعتیں اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں اور فوج کی غلامی کا نشہ انکے دماغ سے نہ اترا تو پھر ان کے سرکردہ لوگوں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے نام جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا کو اس بات کا علم ہے کہ تحریک طالبان کا جہادی میدان صرف اور صرف پاکستان ہے اور ہمارا ہدف ملک پر قابض سکیورٹی ادارے ہیں جو مغرب کی ایماء پر پاکستان کے خلاف مختلف مقاصد کے لئے برسر پیکار ہیں۔ خراسانی نے کہا کہ کافی عرصہ سے ٹی ٹی پی نے کسی سیاسی جماعت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی مگر بدقسمتی سے پی ڈی ایم حکومتی اتحاد کی قیادت پر امریکہ کا جادو چل پڑا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز پہلے وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت ہونے والے اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی نے طالبان دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشکلات کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اس نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو 2014 میں تحریک طالبان کی جانب سے پشاور اے پی ایس سکول پر حملے کے بعد ترتیب دیا گیا تھا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت تحریک طالبان کے خلاف ملک گیر فوجی کارروائیاں شروع کی گئی تھیں جن کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے سرکردہ لیڈر سرحد پار افغانستان چلے گئے تھے۔ تاہم عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید کی زیر قیادت تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کر دیا گیا جن کے نتیجے میں آج طالبان جنگجو پاکستان واپس پہنچ کر دوبارہ سے دہشتگردی شروع کر چکے ہیں۔ 2022 کے اختتام پر حکومت پاکستان کے ساتھ سیز فائر ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تحریک طالبان کے ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ 3 جنوری کو خانیوال میں دو آئی ایس آئی افسران کا دن دہاڑے قتل ہے۔
نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد بلاول بھٹو نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان پر کڑی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ان طالبان کو پاکستان واپس لائے جنہوں نے پشاور میں سکول پر حملہ کرکے 100 سے زائد معصوم بچوں کو قتل کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردوں کے آگے جھکنے کی بجائے ان کا قلع قمع کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ تاہم اب تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے رد عمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو اور شہباز شریف پر کڑی تنقید کی ہے اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔ ٹی ٹی پی ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے نجانے کیا سوچ کر امریکی خوشنودی کی خاطر ٹی ٹی پی کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے۔ انہوں نے ایسا کر کے اپنی پوری جماعت کو جنگ میں دھکیل دیا ہےـ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا ذکر کرتے ہوئے محمد خراسانی نے کہا کہ اگر یہ دوپارٹیاں اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں اور فوج کی غلامی کا نشہ انکے دماغ سے نہ اترا تو پھر انکی قیادت کے خلاف کارروائیاں شروع کی جائیں گی ـ
تحریک طالبان کے ترجمان نے حکومت کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانی عوام حکومت کے سرکردہ رہنماؤں کے قریب جانے سے اجتناب کریں تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ ٹی ٹی پی کے ترجمان نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موصوف نے امریکہ کو اپنی ماں کا درجہ دے دیا ہے۔ بلاول نے اس بوڑھی ماں کی محبت میں آپے سے باہر ہو کر ٹی ٹی پی کے خلاف کھل کراعلان جنگ کیا ہے جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ خراسانی نے کہا کہ بلاول ابھی کم سن ہے اس بیچارے نے ابھی جنگ کی کیفیت کا مشاہدہ نہیں کیا- ترجمان نے مذہبی قیادت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی میں آپ لوگوں کے خلاف کسی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے مگر آپ حضرات سے گزارش ہے کہ ہمارے خلاف سرگرمیوں سے پرہیز کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مجاہدین اور مذہبی جماعتوں کے مابین جنگ کی بجائے ہم آہنگی ہو اور ہم مل کر نظریہ پاکستان کے حصول اورملک کے اندر امن وامان کویقینی بنانے کی کوشش کریں۔
