ISI افسر کا میجر راجہ کے خلاف برطانوی عدالت میں کیس

پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک حاضر سروس آئی ایس آئی آفیسر نے برطانوی عدالت میں اپنی کردار کشی کے الزام پر پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کے خلاف کیس دائر کر دیا ہے جو کہ پاکستان سے بھاگنے کے بعد آج کل لندن میں مقیم ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ انٹر سروسز انٹیلی جنس پنجاب کے حاضر سروس سربراہ بریگیڈیئر راشد نصیر نے لندن میں مقیم میجر ریٹائیرڈ عادل فاروق راجا کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے خلاف ہتک عزت کی مہم چلانے پر مقدمہ دائر کیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میجر راجہ آج کل لندن میں مقیم ہے اور یوں یہ کیس برطانوی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ بریگیڈیئر راشد نصیر نے برطانوی عدالت کے ذریعے عادل راجہ سے معافی مانگنے، ہرجانہ ادا کرنے اور ہتک آمیز بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مقدمہ اگست 2022 میں برطانیہ کی ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا تھا جو 3 جنوری کو تب منظر عام پر آیا جب عادل راجا کی جانب سے فلم کی چار معروف اداکاراؤں کو جنرل باجوہ جنرل فیض کے ساتھ جنسی تعلقات کے الزام کا نشانہ بنایا گیا اور پاکستان میں ایک تنازع کھڑا ہوگیا۔عدالتی کاغذات کے جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انٹیلی جنس سربراہ کے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر پنجاب کے خلاف میجر عادل راجا کی جانب سے مہم 14 جون 2022 کو شروع کی گئی جب انہوں نے الزام لگایا کہ انٹیلی جنس افسر نے آنے والے انتخابات میں دھاندلی کروانے کی خاطر لاہور ہائی کورٹ پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ 19 جون 2022 کو عادل راجا نے الزام لگایا کہ الیکشن میں ہیرا پھیری کی گئی اور آئی ایس آئی سیکٹر کمانڈر پنجاب نے لاہور میں اپنے حالیہ قیام کے دوران آصف علی زرداری کے ساتھ کئی ملاقاتیں کیں۔ آئی ایس آئی افسر کے وکیل نے برطانوی ہائی کورٹ کو بتایا کہ عادل راجا نے اپیل کنندہ کے خلاف بھرپور سوشل میڈیا مہم چلائی، جس کے دوران کئی ٹوئٹس کی گئیں اور کئی ویڈیوز نشر کی گئیں، جو انتہائی ہتک آمیز اور سفید جھوت پر مبنی ہیں، ان ٹوئٹس اور ویڈیوز کے مواد نے انکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا جس کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ عادل راجا ماضی میں ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی کے ترجمان رہے ہیں اور انہیں عمران خان کا چماٹ قرار دیا جاتا ہے۔ جنرل باجوہ کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے عادل راجا گزشتہ سال اپریل میں اسلام آباد سے لندن فرار ہو گئے تھے، اس کے بعد سے انہوں نے کئی حاضر سروس فوجی افسران کا نام لیتے ہوئے ان پر حکومت کی تبدیلی کی سازش کے الزامات لگائے ہیں۔
دوسری جانب عادل راجا نے بتایا ہے کہ ان کی ٹوئٹس اور ان کے وی لاگز ان معلومات پر مبنی ہیں جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ وہ برطانوی عدالت میں اپنے الزامات کا دفاع کر پاتے ہیں یا نہیں۔ یاد رہے کہ عادل راجہ پہلے ہی چار پاکستانی اداکاراؤں پر جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے ساتھ جنسی تعلقات کا الزام لگانے پر تنقید کی زد میں ہیں۔ عمرانڈو فوجی نے جن اداکاراؤں پر سینئر فوجی افسران سے تعلقات رکھنے کا الزام لگایا ہے ان میں کبریٰ خان، مہوش حیات، سجل علی اور ماہرہ خان شامل ہیں۔
