22لاکھ دکانداروں میں سے صرف30ہزار ٹیکس دیتے ہیں

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ  میرے وزارتِ خزانہ کے دور میں دکانوں پر ٹیکس اندرونی سیاست کی وجہ سے نہ لگ سکا ، 22 لاکھ دکانیں ہیں صرف 30 ہزار ٹیکس دیتی ہیں۔مفتاح اسماعیل کا نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ 22 لاکھ دکانیں ہیں صرف 30 ہزار ٹیکس دیتی ہیں، دکانداروں نے سیاسی دباؤ ڈالا تو ہمیں پیچھا ہٹنا پڑا، دکاندار کا بھی فرض ہے کہ ٹیکس ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں دکانوں پر ٹیکس اندرونی سیاست کی وجہ سے نہ لگ سکا، تمام دکانداروں پر تین ہزار روپے ٹیکس لگادیں تو ان پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

 زراعت پر انکم ٹیکس کی بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ یہ ٹیکس لگائیں گے تو بہت مشکل ہوجائے گی البتہ پراپرٹی پر ٹیکس ہونا چاہیے، لوگ فائلیں بیچ خرید رہے ہوتے ہیں، کنسٹرکشن سیکٹر کو آگے لے کر جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈسٹری لگانے کیلئے مختلف این او سی مانگے جاتے ہیں، انڈسٹری لگانا مشکل اور رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگانا آسان ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں مفتاح اسماعیل 19 اپریل 2022 سے 27 ستمبر 2022 تک وزیر خزانہ رہے ہیں۔

Back to top button