کیا جسٹس بندیال بھی ثاقب نثار کا راستہ اپنائیں گے

کیا چیف جسٹس بندیال بھی ثاقب نثارکا راستہ اپنائیں گے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اللہ ہمیںآزمانے کیلئے عزت، شہرت یا اختیار دیتا ہے مگر ہم نعوذباللہ خدا کی زبان میں بولنے لگتے ہیں، بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ آزمائش کے دنوں میں ان سے زیادہ شریف ، تابعدار بلکہ غلام کوئی نہیں ہوتا لیکن اقتدار ملتے ہی وہ فرعون بن جاتے ہیں ججز میں دیکھیں تو زندہ لوگوں میں ثاقب نثار وغیرہ اس وقت ہمارے لئے نمونہ عبرت بنے ہوئے ہیںدیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال تاریخ سے عبرت لیتے ہیں یا پھر ثاقب نثار کا راستہ اپناتے ہیں. ان خیالات کا اظہار سلیم صافی نے اپنے ایک کالم میں کیا نے. وہ لکھتے ہیں کہ عمران خان والی نہیں بلکہ اصل ریاست مدینہ میں لازمی تھا کہ جمعہ اور عیدین کا خطبہ مرکز میں امیرالمومنین اور صوبوں میں گورنر دیا کرتے تھے۔

اس موقع پر وہ اپنی حکومت کی پالیسیاں بیان کرتے اور پھر اپنے آپ کو عوامی احتساب کیلئے پیش کرتے ۔ افغانستان پر قابض ہوجانے والے طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسلامی خلافت قائم کی ہے ۔یوں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسی اصول کے تحت کابل میں جمعہ اور عیدین کی امامت امیرالمومنین ملاھبت اللہ اور صوبوں میں گورنر کرتے اور پھر اپنے آپ کو احتساب کیلئے بھی پیش کرتے لیکن بوجوہ خود ملا ھبت اللہ سامنے نہیں آرہے۔ سلیم صافی بتاتے ہیں کہ گزشتہ عید کے موقع پر کابل کے قصر صدارت میں عید کی نماز کا خطبہ طالبان کی امارت اسلامی کے چیف جسٹس عبدالحکیم اسحاق زئی نے دیا۔ خطبہ دیتے وقت ملابرادر ، افغان کابینہ کے اراکین اور سرکاری حکام ان کے سامنے بیٹھے تھے ۔ خطبہ کے دوران جہاں انہوں نے خواتین کی تعلیم اور دیگر اقدامات سے متعلق طالبان کی پالیسیوں کا دفاع کیا وہاں وزرا اور سرکاری حکام کو نصیحت بھی کی کہ وہ خوف خدا کو سامنے رکھیں ۔

اپنے آپ کو اللہ اور عوام کے سامنے جوابدہ سمجھیں۔ اس اقتدار کو دنیا کی عارضی چیز سمجھیں وغیرہ وغیرہ ۔ طاقت اور اقتدار کی بے ثباتی سے متعلق ملا عبدالحکیم شرعی نے ایک عبرت آموز اور دلچسپ واقعہ بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ایک نیم پاگل شخص روز ان کے دربار میں آتا ۔ اس شخص کا نام ابن وھب تھا ایک روز اس نیم پاگل نے خلیفہ سے کہا کہ بلکہ میں خواب دیکھ رہا تھا ۔ خواب میں میں امیرالمومنین بنا ہوا تھا اور ملک و ملت کے مقدر سے متعلق فیصلے صادر کررہا تھا کہ تمہارے بندوں نمجھے سوتے میں جگا کر میری بادشاہت ختم کردی ۔ انہوں نے صرف نیند سے نہیں اٹھایا بلکہ میری وہ ساری سلطنت ہی ختم کردی۔ یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشید ہنسے اور کہا کہ یا ابن وھب وہ کوئی حقیقت تو نہیں تھی ۔ خواب ہی تو تھا ۔ کوئی حقیقت میں تو میرے بندوں نے تمہاری حکمرانی ختم نہیں کی ۔اس پر ابن وھب نے خلیفہ ہارون الرشید سے کہا کہ سب خواب ہی تو ہوتا ہے ۔

میری حکمرانی بھی خواب تھی اور تمہاری حکمرانی بھی خواب ہے ۔ ملک و ملت کے مقدر کی قسمت کے فیصلے کرنے کا میرا اختیار میری آنکھ کھلنے سے ختم ہوا اور آپ کا اختیار آپ کی آنکھ بند ہونے سے ختم ہوگا۔ یہ جواب سن کر خلیفہ ہارون الرشید نے ابن وھب سے کہا کہ بے شک تم نے درست فرمایا ۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ نہ جانے کرسی، طاقت ، ڈنڈے، ہتھوڑے اور شہرت میں کیا ایسی مصیبت ہے کہ ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ زندگی بھر میرے ساتھ ہوگا یا پھر یہ کہ میں زندگی بھر اس عہدے پر بیٹھا رہوں گا۔ حکمرانوں میں دیکھیں تو بھٹو، بے نظیر،مشرف ، نواز شریف اور اب عمران خان کا انجام ہمارے سامنے ہے ۔

ججز میں دیکھیں تو زندہ لوگوں میں ثاقب نثار وغیرہ ہمارے لئے نمونہ عبرت بنے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی جب آزمانے کیلئے اللہ ہمیں عزت، شہرت یا اختیار دیتا ہے تو ہم نعوذباللہ خدا کی زبان میں بولنے لگتے ہیں ۔ سلیم صافی بتاتے ہیں کہ میں نے اپنی صحافتی زندگی میں ہزاروں ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپوزیشن یا آزمائش کے دنوں میں ان سے زیادہ شریف ، تابعدار بلکہ غلام کوئی نہیں ہوتا لیکن اقتدار ملتے ہی وہ فرعون بن جاتے ہیں ۔ پھر جب دوبارہ اقتدار سے محروم ہوجاتےہیں تو دوبارہ اسی لیول پر آجاتےہیں لیکن دوبارہ موقع ملنے کے بعد راتوں رات وہ پھر فرعون صفت بن جاتےہیں۔ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ سیاستدان، جرنیل اور جرنلسٹ تو سبق نہیں لیتے لیکن دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے چیف جسٹس ، افغانستان کے چیف جسٹس کے بیان کردہ اس عبرت آموز واقعے سے عبرت لیتے ہیں یا پھر ثاقب نثار کا راستہ اپناتے ہیں۔ مرضی ہر کسی کی اپنی ہے لیکن حقیقت بس یہی ہے کہ ایک نہ ایک روز آنکھوں کو بند ہوہی جانا ہے ۔ بلکہ اب تو آنکھیں بند ہوئے بغیر پلک جھپکتے ہی انسان آسمان سے زمین پرآگرتا ہے

Back to top button