2ہفتوں میں فوجی عدالتیں تشکیل دینے کی تیاریاں

وفاقی حکومت کے خصوصی پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاج کے دوران فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے دو ہفتوں کے اندر فوجی عدالتیں تشکیل دینا متوقع ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان کی 9 مئی کو کرپشن کے ایک مقدمے میں حراست میں لیا گیا تو حامیوں نے ملک بھر میں پر تشدد مظاہرے کیے، اس دوران فوجی تنصیبات سمیت کاروں اور عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔
انتظامیہ نے اس واقعات کے بعد سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا، کور کمانڈرز کانفرنس میں اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ تشدد میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف متعلقہ پاکستانی قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت فوجی عدالتیں بنیادی طور پر فوج کے ارکان یا ریاست کے دشمنوں پر مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی گئیں۔ مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف جنگ چھیڑنے یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے یا بغاوت پر اکسانے جیسے جرائم کے الزامات کے تحت عام شہریوں پر وفاقی حکومت کے حکم کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
