سوشل میڈیا سے دوری اداکارہ غنا علی کو کیسے نقصان پہنچا رہی ہے؟

معروف اداکارہ غنا علی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں آج کل ان فنکاروں کو زیادہ کام مل رہا ہے جن کی سوشل میڈیا پر فالوونگ زیادہ ہے، شادی کے بعد طویل عرصہ بعد شوبز میں واپس آئی ہوں لیکن اب صرف اپنی شرائط پر معیاری کام ہی کروں گی۔
اردو نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں غنا علی نے اپنی آنے والی فلم کے بارے میں بتایا کہ اس میں قوی خان اور عماد عرفانی جیسے اداکار نظر آئیں گے، غالباً قوی خان کی موت سے پہلے شوٹ ہونے والی یہ ان کی آخری فلم تھی، اس فلم میں قوی خان نے ایسا کردار کیا کہ جس کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے۔
ادکارہ کے مطابق میرا کردار اس میں روٹین سے ہٹ کر اس لیے ہوگا کیونکہ میں نے ڈراموں میں زیادہ تر منفی کردار کیے اور اس فلم میں میرا کردار منفی نہیں ہے، پوسٹ پروڈکشن کی وجہ سے فلم کی ریلیز تاخیر کا شکار ہو رہی ہے، عید الاضحی یا اس کے فوری بعد سینما گھروں میں ریلیز کر دی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں اداکارہ نے بتایا کہ ان کے شوہر بہت زیادہ سپورٹ کرتے ہیں، مجھے کبھی منع نہیں کیا، شادی کے بعد اداکاری کو کچھ وقت کے لیے چھوڑنا یا اس سے الگ ہونا میرا اپنا فیصلہ تھا، شوہر نے مجھے بس دو باتیں کہی تھیں ایک یہ کہ تم اب میری عزت ہو جو بھی کرنا بس اس چیز کا خیال رکھنا کہ تمہارا نام میرے ساتھ جڑا ہوا ہے اور دوسرا یہ کہ جو بھی کر رہی ہو کیا اپنی بیٹی کو بھی کرنے دو گی؟ یہ دونوں باتیں ذہن میں رکھ کر فیصلہ کرنا۔
غنا علی نے ڈرامہ انڈسٹری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک جیسے ڈرامے بن رہے ہیں، ساس بہو کی کہانیوں میں اب وہ کام نہیں کریں گی اور نہ ہی کوئی منفی کردار کریں گی۔اب میری مرضی کے مطابق مجھے کام ملے گا تو ہی کروں گی ورنہ گھر بیٹھنا پسند کروں گی۔ مجھے ایسے کردار مل رہے تھے کہ جن کو کر کر کے میں خود بور ہونا شروع ہو گئی تھی، میں نے مسلسل کئی سال شوبز انڈسٹری کو دیئے اب مختلف کام کرنا ہے جو بھی ٹی وی پر کام ہو رہا ہے وہ ایک جیسا ہی ہے، ایک جیسی ایکٹنگ ہو رہی ہے، سوائے یمنہ زیدی یا عمران اشرف کے کون مختلف کام کر رہا ہے؟
اداکارہ کے مطابق جس لڑکی کے شارپ فیچر ہوں وہ ولن اور جو سادہ ہو اس کو ہیروئین بنا دیا جاتا ہے، پہلے تو روزی روٹی کے لیے سمھجوتہ کرنا پڑتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہونے والا، اداکارہ ژالے سرحدی نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ اب انسٹاگرام کے فالورز دیکھ کر اداکاروں کو کام ملتا ہے، میرے تو فالورز بھی زیادہ ہیں لیکن مجھے جو کام ملتا رہا اس کی کیا بات کروں، آرٹسٹس کو سائن کرنے والے مارکیٹ کے حساب سے دیکھتے ہیں اور آرٹسٹ آرٹ کے حساب سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں کسی گروپ یا لابی کا حصہ نہیں ہوں نہ گھر بلا کر پارٹیاں کرتی ہوں جبکہ آج لوگ پارٹیاں کرتے ہیں تصاویر کھچوا کر سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ اگر میرے نصیب میں کوئی کام ہو گا تومجھے مل جائے گا۔
میں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ایکٹیو نہیں ہوں، بس اپنے کام سے متعلقہ پوسٹس کرتی ہوں، سوشل میڈیا میرے لیے زندگی نہیں ہے، شادی کے بعد ایک مثبت تبدیلی آئی ہے کہ کام سے جب گھر آتی ہوں تو کوئی انتظار کرنے والا ہوتا ہے، دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ کوئی انتظار کر رہا ہے، آپ کے ساتھ کھانا کھانا چاہتا ہے، آپ کے بچے آپ کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، یہ مخلص رشتے ہیں، میں شوبز کی دوستیوں پر یقین نہیں رکھتی، میری سلام دعا سب کے ساتھ ہے لیکن دوستی کسی کے ساتھ نہیں۔
