لیفٹیننٹ جنرل، 3افسران فارغ، 3 میجرجنرل، 7 بریگیڈئیرز کیخلاف سخت کارروائی

سانحہ 9 مئی کے حوالے سے پاک فوج نے خود احتسابی کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے لیفیننٹ جنرل، 3 افسران کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 3 میجر جنرل، 7 بریگیڈئیرز سمیت 13 افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

اس حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے بتایا کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث 103 دہشتگردوں کے خلاف ملٹری کورٹ میں کارروائی جاری ہے جبکہ لیفیننٹ جنرل، 3 افسران کو عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 3 میجر جنرل، 7 بریگیڈئیرز سمیت 13 افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 9 مئی کو پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش تھی، تحقیقات سے ثابت ہوا کہ 9 مئی کی منصوبہ بندی پہلے ہی کی گئی تھی۔

جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات میں بہت شواہد مل چل چکے ہیں، افواج پاکستان آئے روز اپنے شہدا کو کندھا دے رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ انتہائی قابل مذمت اور پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے، 9 مئی کے واقعات نے ثابت کردیا کہ جو کام دشمن 76 برس میں نہ کر سکا وہ مٹھی بھر شرپسندوں اور ان کے سہولت کاروں نے کر دکھایا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کا سانحہ بلاشبہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش تھی، اب تک کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سانحہ 9 مئی کی منصوبہ بندی گزشتہ کئی ماہ سے چل رہی تھی، اس منصوبہ بندی کے تحت پہلے اسطرابی ماحول بنایا گیا، پہر لوگوں کے جذبات کو اشتعال دلایا گیا اور فوج کے خلاف اکسایا گیا۔ ؎ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس سلسلے میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی پر مبنی بیانیہ ملک کے اندر اور باہر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔

Back to top button