پرویز الٰہی PTIپر قبضے کے خواب کیوں دیکھنے لگے؟

چودھری پرویز الٰہی نے ایک بار پھر تحریک انصاف پر قبضے کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے ہیں، سابق وزیر اعلیٰ کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود پریس کانفرنس نہ کرنے کے بعد چودھری پرویز الٰہی کو تحریک انصاف کی سر براہی سونپنے کے آپشن میں شاہ محمود قریشی پر فوقیت حاصل ہو چکی ہے جبکہ پرویز الٰہی کو عمرانڈوز کیلئے قابل قبول آپشن بنانے کیلئے  قید و بند سے گزار کر پی ٹی آئی کارکنان کی ہمدردیاں سمیٹنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق چوہدری پرویز الہی کے قریبی ذرائع کے مطابق مشکل دور کے بعد پرویز الہی کے اچھے دن ضرور آئیں گے۔ آنے والے دنوں میں ان سے بڑا کام لیا جا سکتا ہے ان ذرائع کا اصرار ہے کہ قید و بند سے گزار کر چوہدری پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کارکنان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ۔ان ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پرویز الٰہی کو اٹک جیل بھیجاہی اسی لئے گیا تھا کہ وہ عمران خان سے معاملات طے کریں تاہم اٹک جیل سے اس اس کی تصدیق  فی الحال نہیں ہوسکی۔ جبکہ دوسری جانب اڈیالہ جیل میں قید شاہ محمود قریشی کا میڈیا میں کہیں بھی ذکر موجود نہیں ہے۔ سابق وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کا سائفرکیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم عدالت نے ایف آئی اے کی مزید جسمانی ریمانڈ کی  استدعا مسترد کردی تھی اور انہیں 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پراڈیالہ جیل بھجوادیاگیاتھا۔

چوہدری پرویز الہی کے حوالے سے ان کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو خواہ مخواہ ہیرو نہیں بنایاجارہا بلکہ ان سے تحریک انصاف کی امامت کا کام لیا جا سکتا ہے ،انہیں اس وقت مظلوم بنا کر تحریک انصاف کے کارکنان کی ہمدردیاں سمیٹنے کاکام دیا جا چکا ہے جبکہ تحریک انصاف میں انکے مدمقابل شاہ محمود قریشی کو فی الحال پس پشت ڈال دیاگیا ہے دیکھا جائے تو ماضی میں یہ دونوں  اسٹیبلشمنٹ کے خاصے قریب رہے ہیں اس وقت ان دونوں میں سےزیادہ نظر کرم پرویزالٰہی پر ہے لیکن اس میں سب سےاہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان کی زیادہ ہمدردیاں کس لیڈرکے ساتھ ہوں گی ۔پرویز الٰہی تحریک انصاف کے صدر ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی وائس چیئرمین ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ تحریک انصاف کو لیڈ کرنے کیلئے تیار ہیں۔
چوہدری خاندان کے قریب سمجھے جانے والے ایک سینئر صحافی اور خاندانی ذرائع کا دعوی ہے کہ چوہدریوں سے زیادہ تابعدار اسٹیبلشمنٹ کا کوئی نہیں ہے۔ کل کو کیا ہوتا ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن یہ سب انڈراسٹیڈنگ کے ساتھ ہی ہو رہا ہے۔ مونس الہی کا باہر جانا بظاہر ممکن نہیں تھا۔ لیکن وہ مزے سے ملک سے باہر نکل گیا ۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ شاہ محمود قریشی کا کوئی ایساپریشر گروپ نہیں ہے جبکہ چودھریوں کو یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ ان کاہر پارٹی میں اورہر سیاسی گھرانےسے تعلق ہے ۔پیپلزپارٹی سے لے کر اےاین پی تک ان کے تعلقات ہیں اس کے علاوہ ان میں لچک بہت زیادہ ہے ان میں نوازشریف اور عمران خان والی ضد اور انا نہیں ہے ۔چودھری برادران وقت کے ساتھ ڈھل جاتے ہیں ۔تیسری بات جو بہت اہم ہے وہ یہ کہ ان کے تعلقات ہمیشہ بیوروکریسی کے ساتھ مثالی رہے ہیں اس لئے پہلے بھی وہ حکومت میں رہے توانکے کام کبھی نہیں رکے۔ اور بیوروکریسی بھی چوہدریوں کےساتھ آسانی محسوس کرتی ہے اسی وجہ سے پرویزالٰہی کو قابل قبول بنایاجارہا ہے دیکھا جائے تو پورے پاکستان کی سیاست پنجاب کے گرد گھومتی ہےاصل اقتدار پنجاب کاہی ہے۔اگر چودھری برادران پنجاب میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں تو فیڈرل میں جسے مرضی اقتدار دے دیں کیا فرق پڑتا ہے۔ اب رہ گئی خاندانی بات کہ دونوں بھائی یعنی چوہدری شجاعت اور پرویز الہی آپس میں مل بیٹھیں گے یا نہیں؟ مبصرین کے مطابق چوہدری شجاعت اور پرویز الہی آپس میں ملے ہوئے ہیں اور پہلے دن سے ہی ملے ہوئے ہیں۔ یہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی پالیسی ہے۔ انہیں کوئی جدا نہیں کرسکتا، چوہدریوں کا خاندان آج بھی  اکٹھا ہے۔ اس تمام تناظر میں یہ بات واضح ہے کہ جو ہمدردی جیلوں اور عدالتوں میں پیشیوں پر چوہدری پرویز الہی کومل رہی ہیں، اسی پر عمران خان کو کہنا پڑا تھا کہ میں پرویز الہی سے یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ وہ اس قدر اسٹینڈ لیں گے۔ تو دیکھا جائے تو یہ ساری کارروائی چوہدری پرویز الہی کو قابل قبول بنانے کے لیے ہی ہے۔ جوڑ توڑ کی سیاست چوہدریوں سے زیادہ پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت نہیں کر سکتی اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا چودھری پرویز الٰہی عمران خان کی آشیرباد سے پی ٹی آئی کو ٹیک اور کرتے ہیں یا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے قیدوبند سے اپنی جان خلاصی کرواتے ہیں؟ آنے والے دنوں میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔

Back to top button