کیا پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹی جارہی ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ میرے حساب کتاب سے ہر گزرتا لمحہ الیکشن کے انعقاد کو ناممکن بنا رہا ہے۔ ۔ نامساعد حالات میں رائے عامہ شدت سے منقسم ہے، جہاں ایجنسیاں اور مشیران من کو بھا جانے والی معلومات فراہم کر رہے ہوں، آرمی چیف کی نیک نیتی کیساتھ تدبر اور فہم وفراست بھی درکار ہے ۔ حقائق کو سامنے رکھ کر تدبیر کرنا ہو گی۔معاشی بحران سےنمٹنا تو ضروری ہے ہی مگر رائے عامہ کی تقسیم نمٹنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے اس کی فکر آج ہی کرنا ہو گی، کہیں چنگاری شعلہ جوالہ نہ بن جائے۔مگر شاید ہم دیر کر چُکے ہیں ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمہوریت کا مستقبل مخدوش ہے؟کیا جمہوریت کی بساط لپیٹی جارہی ہے؟
اپنے ایک کالم میں حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ ملک کا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہی ہے۔ باقی سارے بحرانوں نے عدم استحکام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ایک بار پھر سے بحث عام ہے کہ اس مملکت کا مستقبل کیا اہے ور اگلا نظام کیسا ہے ؟ 1973ءکا آئین نافذ ہوا تو یہ رہنما اصول طے ہوا کہ مضبوط وفاق اور پارلیمانی نظام مملکت کی سالمیت اور بقا کا ضامن ہو گا۔ آئینِ پاکستان کی بنیاد ’’حاکمیت اللہ تعالیٰ کی جبکہ اللہ کی زمین پر انتظام و انصرام ، اللہ کی مخلوق کا اختیار و حق قرار پایا‘‘۔ اس حق کو استعمال کرتے ہوئے لوگ اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ پارلیمان وجود میں آتی ہے جو آئین و قانون کی تشکیل و ترمیم کا اختیار رکھتی ہے۔ آئین و قانون کا نفاذ، حفاظت اور نگرانی آزاد عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ مملکت کو چلانے کیلئے پارلیمان وزیر اعظم کو منتخب کرتی ہے جو حکومتی امور کو چلانے کا کلی ذمہ دار ہوتا ہے، سارے ادارے سوائے عدلیہ کے اُسکے پابندو ماتحت رہتے ہیں۔ عدلیہ جہاں آئین و قانون کی محافظ اور نگران مقرر ہوئی وہاں معاشرتی ریاستی باہمی جھگڑوں، بنیادی انسانی حقوق کے معاملات پر مبنی بر حق و انصاف فیصلے صادر کرتی ہے۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ ریاست، حکمرانوں اور طاقتوروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی استعداد اور طاقت رکھتی ہے۔ پارلیمان اور عدلیہ ترتیب سے اپنی آئینی حدود وقیود میں جمہوریت کو قائم اور دائم رکھنے کے دو بنیادی ستون ہیں . مگر اس سا رے پارلیمانی نظام کے برعکس مملکت خدادادِ اسلامیہ میں 70 سالہ کے زمینی حقائق مختلف ہیں ، پارلیمان اور عدلیہ کیساتھ ایک اضافی ستون اسٹیبلشمنٹ کا بھی تعمیر ہو چکا ہے جو اکثر مقننہ اور عدلیہ کو بے اثر بنانے کی طاقت سے مالا مال ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کو زیر استعمال رکھ کر پارلیمان کی بے توقیری میں کبھی تکلف نہیں برتا۔ یوں مملکت میں 70 سال سے جمہوریت پنپنے سے محروم رہی کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے پارلیمان بے بس اور ڈھیر رہی۔ اکثر سیاستدان بھی ریاست کے مجرم ہیں جو ماورائے آئین و قانون اقدامات میں دیہاڑی پر ممدو معاون رہے۔ حفیظ اللہ نیازی کا خیال ہے کہ آج کی تاریخ میں جمہوری نظام پٹری سے اُتر سکتا ہے۔ 18؍اگست 2018سے 11 اگست 2023ءتک کا نظام مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر ہی تھا ، اب 11؍اگست 2023ء سے نگران حکومت اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ ہے۔ پاکستان گرداب میں پھنس چُکا ہے۔یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ جو کچھ ہو چُکا ہے یا ہو رہا ہے یا ہونے کو ہے، اُسکےذمہ دار کسی طور جنرل عاصم منیر ہیں۔ جنرل قمر باجوہ کے ریاست اور ادارے کیخلاف گھناؤنے جرائم اور کالے کرتوت جنرل عاصم منیر کے گلے میں وہ سب کچھ ڈال گئے جس کی شاید وہ خواہش نہ توقع اور نہ ہی متحمل ہونے کی سکت رکھتے تھے۔ عمران خان 5سال 5 ماہ جنرل باجوہ کے شریکِ جُرم رہے، 29 نومبر تک جنرل باجوہ نےکمال مہارت سے عمران خان کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال میں رکھا، آخری 3ماہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی رُکوانے کیلئے عمران خان کو سڑکوں پر لایا گیا اور آنے والے چیف کیلئے کوئی گنجائش نہ چھوڑی گئی جنرل عاصم منیر کا کام آغاز سے ہی مشکل بنا دیا۔
حفیظ الله نیازی کے مطابق جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلزپارٹی ، جنرل مشرف کے دور میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اور جنرل باجوہ کے دور میں مسلم لیگ ن کے ورکرز اور سپورٹرز کے جذبات آج کی تحریک انصاف کے ورکرز سپورٹرز سے قطعاً مختلف نہیں تھے۔ میرے حساب کتاب سے ہر گزرتا لمحہ الیکشن کے انعقاد کو ناممکن بنا رہا ہے۔ بظاہر جنرل عاصم منیر کے پاس ملکی مستقبل کا مکمل ایجنڈا ہے۔ یقیناً اس ایجنڈے میں سیاسی تقسیم کے ازالے کا کوئی بندوبست بھی ہو گا۔ نامساعد حالات میں جنرل عاصم کی نیک نیتی کیساتھ ساتھ تدبراور فہم وفراست بھی چاہیے۔ حقائق کو سامنے رکھ کر تدبیر کرنا ہو گی۔ فکر آج ہی کرنا ہو گی، کہیں چنگاری شعلہ جوالہ نہ بن جائے۔ میرا واہمہ کہ ہم دیر کر چُکے ہیں، کیا جمہوریت کا مستقبل مخدوش ہے؟
