کیا نئی حکومت ملک کو قرضوں کے چُنگل سے نکال پائے گی؟

2024 الیکشن کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کے حوالے سے دونوں جماعتوں میں وزارتوں، سیٹوں کی بندر بانٹ کر لی گئی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی حریفوں کی یہ ٹولی ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے میں کتنی کامیاب ہوگی؟پاکستان ’’ڈیٹ ٹریپ‘‘ یعنی قرضوں کے چنگل میں بہت عشروں سے پھنسا ہوا ہے تاہم حالیہ برسوں میں قرضوں میں ہونے والے اضافے اور پاکستان کی سکڑتی معیشت کی وجہ سے اب ان قرضوں کی واپسی اور ان پر سود کی ادائیگی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ معاشی مسائل پر رپورٹنگ کرنے والے امریکی ادارے بلوم برگ نے تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان میں کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک کے اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر کہا ہے کہ پاکستان کے لیے اندرونی و بیرونی قرضے اب ’ناقابل برداشت‘ ہو چکے ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو خراب معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک اکنامک منیجمنٹ منصوبے کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ضروری ہے تاہم انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں جس سے ملکی معیشت کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے جو ملک کے قرضوں کی واپسی کو مزید مشکل بنا دے گی۔موجودہ مالی سال میں پاکستان کو 24.5 ارب ڈالر قرضہ واپس کرنا تھا جس میں 3.8 ارب ڈالر سود کی ادائیگی اور 20.7 ارب ڈالر اصل رقم تھی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد کے مطابق 24.5 ارب ڈالر کی واپسی میں سے کافی ساری رقم واپس کر دی گئی ہے، مالیاتی امور کی تجزیہ کار ثنا توفیق نے گزشتہ دنوں سٹیٹ بینک کی جانب سے تجزیہ کاروں کے لیے بریفنگ میں شرکت کی جس میں گورنر کی جانب سے قرضوں اور ان کی ادائیگی پر بھی بات کی گئی۔معاشی امور کے ماہر عمار حبیب خان نے اس سلسلے میں بتایا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد اسے اپریل میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ سے قرضے لینے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ پاکستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کیلئے مشاورت اور الائنس کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم اس نئی حکومت کو معاشی میدان میں قرضوں کی ادائیگی کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔معاشی ماہرین نئی حکومت کے لیے قرضوں کی ادائیگی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان کا پورا معاشی فرنٹ متاثر ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا اس چیلنج سے نمٹے بغیر پاکستان کے لیے معاشی طور پر مستحکم ہونا بہت مشکل ہے۔پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے سابق وائس چانسلر اور ماہر معیشت ڈاکٹر رشید امجد نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’نئی حکومت کے لیے قرضوں سے نبرد آزما ہونا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ معیشت پہلے ہی کم گروتھ ریٹ پر موجود ہے اور ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے زیادہ ریونیو کی ضرورت ہے، ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ ’معیشت کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کسی حد تک سیاسی استحکام ضروری ہوتا ہے جو بدقسمتی سے اس وقت ہوتا نظر نہیں آتا ہے اس لیے معاشی چیلنجوں کو ہینڈل کرنا ایک مشکل عمل ہوگا۔معاشی امور کے سینئر صحافی شہباز رانا نے کہا کہ ’بدقسمتی سے پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے منشور میں ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پائیدار حل پیش نہیں کیا گیا ہے۔ثنا توفیق نے اس سلسلے میں بتایا کہ بیرونی قرضے کی ادائیگی کے لیے زرمابدلہ کے ذخائر پر دباؤ آتا ہے جس کا مطلب ہے کہ روپے کی قیمت کم ہوگی جو ملک میں مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیتی ہے، ’ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے اور مستقبل میں بھی اس قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے روپے پر دباؤ آئے گا اور اس سے عام آدمی شدید متاثر ہوگا، واضح رہے کہ ملک میں اس وقت مہنگائی کی شرح 28 فیصد سے زیادہ ہے جس میں آئی ایم ایف کی شرائط پر بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے نے بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔
