سزاؤں کی معافی نہیں چاہئے،عمران خان کا صدر علوی کو پیغام

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان نے صدر پاکستان عارف علوی کو پیغام بھجوایا ہے کہ مجھے کسی بھی صورت میں صدارتی اختیار کے تحت خود کو ملنے والی سزاؤں کی معافی نہیں چاہئے۔

پارٹی کے انفارمیشن سیکرٹری نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس آئینی اختیار ہے کہ وہ کسی بھی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزا معاف کر سکتے ہیں۔ مختلف حلقوں، بشمول سوشل میڈیا سے ایسے مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ صدر علوی کو عمران خان کی سزائیں معاف کر دینا چاہئیں۔

رؤف حسن کا کہنا تھا کہ ایسے مطالبات کو دیکھتے ہوئے عمران خان نے صدر مملکت کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ سزائیں معاف نہ کریں۔ پارٹی کے بانی چیئرمین ایسی کوئی معافی قبول نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ صدر کے پاس کسی بھی سزا یافتہ مجرم کو معاف کرنے کا اختیار ہے، آئین کا آرٹیکل 45؍ اسی موضوع کے بارے میں ہے، آرٹیکل میں لکھا ہے کہ صدر مملکت کو کسی عدالت، ٹریبونل یا دیگر ہئیت مجاز کی دی ہوئی سزا کو معاف کرنے، ملتوی کرنے اور کچھ عرصہ کیلئے روکنے، اور اس میں تخفیف کرنے، اسے معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار ہوگا۔

کئی ماہرین آئین اور ماہرین قانون کی رائے ہے کہ صدر مملکت صرف وزیراعظم کی سفارش پر ہی کسی کی سزا معاف یا معطل کر سکتے ہیں لیکن دیگر کی رائے ہے کہ صدر مملکت یہ اقدام اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں اور اس کیلئے انہیں چیف ایگزیکٹو کی سفارش کی ضرورت نہیں۔

Back to top button