سندھ میں اپوزیشن کا پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینا ناممکن کیوں؟

سندھ کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے منگل کو حلف اٹھاتے ہی جہا صوبے کے مسلسل تیسری بار وزیرِ اعلیٰ بننے والی واحد شخصیت بن گئے ہیں، وہیں ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی صوبے میں اقتدار کی مسلسل چوتھی اننگز شروع کر رہی ہے۔سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی واضح اکثریت کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط اپوزیشن کی غیر موجودگی میں یہ حکمران جماعت کے لیے بظاہر ایک اور آرام دہ پانچ سالہ دور دکھائی دیتا ہے لیکن دوسری طرف اسے کارکردگی کے میدان میں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خیال رہے کہ نومنتخب وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ منتخب ہونے والے سندھ کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بن چکے ہیں۔ اور اس وقت 112 ارکان کی حمایت کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے۔اس کے مقابلے میں ایوان میں ایم کیو ایم کے پاس 36 نشستیں، تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کی نو نشستیں اور جماعت اسلامی کی ایک نشست ہے جب کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے پاس تین نشستیں ہیں۔ اس طرح حزبِ اختلاف کے پاس 168 کے ایوان میں صرف 49 نشستیں ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سندھ اسمبلی میں کمزور اپوزیشن حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم نہیں دے سکے گی۔

مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کو بظاہر اسمبلی میں کوئی سنجیدہ چیلنج درپیش ہی نہیں۔ کیوںکہ حزبِ اختلاف نہ صرف کمزور ہے بلکہ ان کے اکثر اراکینِ اسمبلی نئے ہیں اور انہیں اتنا تجربہ نہیں جو پیپلز پارٹی کے اراکینِ اسمبلی کا ہے۔ان کے بقول ایم کیو ایم کے پاس 36 نشستیں موجود تو ہیں لیکن وہ چونکہ وفاق میں ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد کا ہی حصہ ہوگی تو ایسے میں ایم کیو ایم صوبے میں فرینڈلی اپوزیشن کا ہی کردار ادا کر پائے گی۔

جہاں اسمبلی کے اندر پیپلز پارٹی کے لیے کافی آسانیاں نظر آتی ہیں وہیں پیپلز پارٹی کو گورننس کے معاملے میں چیلنجز ضرور درپیش ہوں گے اور اس میں سرِ فہرست امن و امان کے مسائل ہیں۔شمالی سندھ کے اضلاع میں ڈاکوؤں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کے مسائل وہ ایشوز ہیں جن کا ذکر وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن اور کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کا قلع قمع کیا جائے گا۔

سندھ ٹی وی کے کرنٹ افیئرز کے سربراہ اور تجزیہ کار شکیل سومرو بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے لیے اسمبلی میں تو راستے صاف ہیں لیکن جہاں تک اس کی حکومت کی کارکردگی کا سوال ہے، تو ان کے بقول یہ بات واضح ہے کہ پیپلز پارٹی کو صوبے میں کارکردگی پر ووٹ نہیں ملا۔ صوبے میں انفراسٹرکچر تباہ ہے۔ کوئی خاص ترقیاتی کام نہیں ہوئے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے مسائل الگ ہیں۔ تو ایسے میں پیپلز پارٹی کو اب بھی ووٹ بھٹو خاندان کی قربانیوں کی بدولت ہی ملا ہے۔

ان کے بقول سابق صدر آصف علی زرداری ’پاور پالیٹکس‘ کے حربوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ اس لیے پیپلز پارٹی کے لیے کم از کم سندھ میں اس وقت تک آسانی نظر آتی ہے جب تک پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اسٹیبلشمنٹ سے کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو یا ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے وقت کارکردگی کو سامنے رکھنا نہ شروع کر دے۔شکیل سومرو کے مطابق صوبے میں اصل چیلنج سندھ کا پڑھا لکھا اور دانش ور طبقہ تھا۔ لیکن وہ بھی پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرنے پر مجبور ہے۔ کیوں کہ جو لوگ سندھ میں خود کو پی پی پی کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی سے بھی بدتر آپشن ہیں۔ اور اگر بات کی جائے قوم پرستوں کی تو وہ بھی منقسم نظر آتے ہیں اور کسی بھی الیکشن میں وہ متاثر کُن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔

دوسری جانب مراد علی شاہ کے مسلسل تیسری بار وزیرِ اعلیٰ بننے پر ایک سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر پیپلز پارٹی کی پہلی چوائس وہی کیوں ہیں؟ کیا پیپلز پارٹی کے پاس ان کے علاوہ کوئی امیدوار نہیں؟ تجزیہ کاروں کے مطابق سید مراد علی شاہ بہرحال سب سے قابل شخصیت ہیں جو سندھ کو درپیش مسائل پر بہترین انداز سے مقدمہ پیش کرتے آئے ہیں۔ اس میں یہ فیکٹر بھی اہم ہے کہ اسمبلی کی تاریخ بتاتی ہے کہ سندھ اسمبلی میں سادات کو اہم عہدے دیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن چوں کہ مراد علی شاہ اس سے قبل توانائی، خزانہ، ریونیو، آب پاشی اور کئی دیگر محکموں کے بھی وزیر رہے ہیں، چنانچہ ان کے تجربے، قابلیت اور معاملہ فہمی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگرچہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے شرجیل انعام میمن، فریال تالپور اور ناصر حسین شاہ کے نام بھی سامنے آئے تھے لیکن قرعہ فال اس بار بھی مراد علی شاہ کے نام کا نکلا۔ کیوں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پارٹی قیادت یعنی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو، دونوں کے لیے قابلِ قبول ہیں۔

Back to top button