29 ممبران اسمبلی کے بیرون ملک اثاثے اور کاروبار ہیں

https://youtu.be/G0NM3uRM0pQ
قومی اسمبلی کے 29 ممبران کے اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں ملک سے باہر ہیں جن میں شہباز شریف، بلاول بھٹو، شاہ محمود قریشی، علی زیدی، فہمیدہ مرزا، خواجہ آصف اور دیگر ارکانِ اسمبلی شامل ہیں۔ 2019 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق کسی رکنِ اسمبلی نے اپنے اثاثوں میں کسی آف شور کمپنی کو ظاہر نہیں کیا۔
اگرچہ وزیراعظم عمران خان کے اب پاکستان سے باہر کوئی اثاثے نہیں لیکن ملک سے باہر اپنی رقم رکھنے والوں میں حکمران جماعت پی ٹی آئی سے 13، پی ایم ایل این سے 10، پیپلز پارٹی سے دو، ایم ایل کیو، بی این پی، ایم ایم اے اور ایم کیو ایم سے ایک، ایک ایم این اے ان میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے کاغذات میں بیرون ملک اثاثے اور کاروباری سرمایہ ڈکلیئر کیا ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے ڈیڑھ ارب کی جائیداد اور پیسہ ملک سے باہر ظاہر کیا، جبکہ شہباز شریف نے تقریباً 14 کروڑ کے اثاثے ملک سے باہر بتائے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے دو لاکھ پاونڈ ملک سے باہر اکاؤنٹ میں ظاہر کیے ہیں۔ کراچی کے ایم این اے سید علی حیدر زیدی نے دبئی میں ڈھائی ملین درہم مالیت کا کاروباری سرمایہ ظاہر کیا۔ انہوں نے دبئی میں تین لگژری کاروں کے علاوہ ایک بینک اکاونٹ بھی ظاہر کیا جس میں ڈیڑھ لاکھ درہم بیلنس ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا اب اپنا کوئی پیسہ یا جائیداد باہر نہیں ہے لیکن ماضی میں ان کی لندن میں نیازی سروسز لمیٹڈ کے نام سے ایک آف شور کمپنیاں بھی تھی اور ایک فلیٹ بھی تھا۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت بیرون ملک پاکستانیوں سے بار بار مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کو ڈالرز بھیجیں تاکہ ہمارے فارن ایکسچینج ریزوز بہتر ہوں لیکن اپنے وزیروں اور ارکانِ اسمبلی کا پیسہ اور جائیدادیں باہر پڑی ہیں۔ یہ ایسا تضاد ہے جس کو دور کیا جانا چاہئے۔ انصار کہتے ہیں کہ شہباز شریف نے تو کئی سال پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ بیرون ملک سے اپنا تمام پیسہ اور جائیداد واپس پاکستان لائیں گے لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا، جو قابل افسوس بات ہے۔ وہ مذید کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو بھی غریبوں کی بات بہت کرتے ہیں، وہ بھی پاکستان کی معیشت اور یہاں کے کاروباری حالات کی بہتری کی تمنا ظاہر کرتے ہیں لیکن ایسا کیوں کہ اپنا پیسہ اور جائیدادیں ملک سے باہر رکھی ہوئی ہیں۔ انصار۔کے مطابق یہی گلہ بہت سے لوگ نواز شریف سے کرتے ہیں کہ اُنہوں نے بھی اپنا سارا کاروبار اور پیسہ باہر رکھا ہوا ہے۔ اُن کے بچوں کی تو پاناما لیکس میں آف شور کمپنی بھی نکل آئی جس کی وجہ سے اُن کو وزارتِ عظمیٰ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان میں قانون بنایا جائے کہ جس نے سیاست کرنی ہے، ممبر پارلیمنٹ بننا ہے یا صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن لڑنے کی خواہش ہے تو ایسے لوگوں کے لئے یہ لازمی قرار دے دیا جائے کہ اُن کا نہ کوئی اثاثہ، جائیداد، بنک اکاونٹ، بزنس ملک سے باہر ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ کوئی آف شور کمپنی ملک سے باہر رکھ سکتے ہیں۔ یہ شرط ایسے سیاستدانوں اور اُن کی بیویوں اور بچوں پر ضرور لاگو ہونی چاہئے۔ سیاست اور حکمرانی پاکستان میں اور پیسہ جائیداد باہر، یہ تماشہ اب بند ہونا چاہئے۔
