4 ارب ڈالر کا بیرونی مالیاتی خلا جلد پر ہوجائے گا

قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹرمرتضیٰ سید نے یقین دلاتے ہوئے کہا ہے پاکستان کا 4 ارب ڈالر کا بیرونی مالیاتی خلا جلد پر ہوجائے گا۔
ایک انٹرویومیں ایک بار پھرپاکستانی معیشت کے دیوالیہ ہونے کے حدشات کی نفی کرتے ہوئےمرتضیٰ سید نے کہا کہ پاکستان 34 سے 35 ارب ڈالر بیرونی مالیات کا انتظام کر چکا تھا جبکہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک سے 4 ارب ڈالر کے حصول کی کوشش ہو رہی تھی،ڈالر کی اضافی آمد سے بحرانی جیسی صورت حال سے نکالتے ہوئے بیرونی ذخائر کی صورت حال میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) دونوں دوست ممالک سے فنڈز کے حصول یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہے تھے تاکہ مالیاتی خلا پر ہوجائے گا۔
اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنرنے مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی میں خلل کی وجہ سے دنیا میں اشیا پر ‘سپر سائیکل’ اثر پڑا ہے اور پاکستان کے پاس فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے زرعی پیداوارمیں اضافے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے،مہنگائی میں اضافہ اگلے 11 ماہ یا ایک سال تک جاری رہے گا اور مرکزی بینک رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح 18 سے 20 فیصد کے درمیان ہدف رکھ رہا ہے،مہنگائی پر یکدم پانے کے لیے کوئی جادو نہیں ہے اور عوام کو ایک عرصے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،ہم جانتے ہیں کہ یہ مشکل مرحلہ ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔
مرتضیٰ سید نے کہا ہم دیوالیہ کے قریب نہیں ہیں لیکن معیشت کو احتیاط سے چلانا ہے،اگر کسی معیشت کے ڈھانچہ جاتی مسائل ختم نہیں کیے گئے تو پاکستان بوم اور بسٹ سائیکل سے گزرے گا،گزشتہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی کا نمو 6 فیصد تھا، جس کی وجہ سے تیزی آئی اور غیرمتوازن صورت ہوئی۔
انہوں نے کہابوم اور بسٹ سائیکل سے بچنے کے لیے ملک کی برآمدات اور براہ راست سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا پڑے گا، اس سائیکل پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک نجی شعبہ ڈالر لے کر نہیں آتا،اس وقت آئی ایم ایف بیرونی مالیاتی خلا پر کرنے میں مدد کرتا ہے، جب آئی ایم ایف کا پروگرام ختم ہوتا ہے تو ملک کو اصلاحاتی عمل کے راستے میں برقرار رکھنے کے لیے کوئی باہمی ذریعہ نہیں رہ جاتا ہے۔
انکا کہنا تھا ملک کو بیرونی اور اندرونی معاشی عدم توازن کا مسئلہ رہا ہے کیونکہ ماضی میں اصلاحاتی ڈھانچہ پر تبدیلی کی گئی،پاکستان کا بیرونی مالیاتی خلا ‘اتنا زیادہ نہیں تھا’ تاہم یہ اس لیے مسئلہ بن گیا کیونکہ دیگر ممالک کے برعکس جہاں نجی سرمایہ کاری مدد کرتی ہے، پاکستان میں یہ ذمہ داری صرف حکومت کی تھی کہ وہ اس خلاف کو پر کرے،ملک کی معیشت سست روی سے مستحکم ہوگی۔
مرتضیٰ وہاب نے اس تاثر کو بھی رد کردیا کہ ملک کو قرضوں کے بحران کا سامنا ہے اور کہا کہ مجموعی قرضے قابل انتظام ہیں، سابق حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں سبسڈی کے فیصلے سے آئی ایم ایف کو ‘ناراض’ کیا، اس کے ساتھ گزشتہ برس بجٹ توسیعی پالیسی کا باعث بنا اور مانیٹری پالیسی سہارا لیا گیا۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کردیا کہ آئی ایم ایف نے ایکسچینج کے لیے بھی مخصوص ہدف دے دیا ہے،اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں مداخلت کی اور مستقبل میں بھی اگر کوئی بے ربط سرگرمی نظر آئی تو دوبارہ ایسا ہی کرے گا،اسٹیٹ بینک نے جائزوں اور ڈالر کی قدر میں حیران کن اضافے کی روشنی میں ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف حال ہی میں کارروائی کی۔
ڈاکٹر مرتضیٰ وہاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر مصنوعی طریقے سے نہیں چلائی جائے گی تاہم کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں، اسی لیے مرکزی بینک ایکسچینج ریٹ کی بے ہنگم سرگرمی روکنے کے لیے اقدامات کرے گا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایکسچینج ریٹ پر دباؤ اگلے دو ماہ میں ختم ہوجائے گا۔
