40فٹ بلند لہریں،سمندری طوفان بپھر گیا،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

40فٹ بلند لہریں،سمندری طوفان بپھر گیا،کراچی سے فاصلہ صرف 460کلو میٹررہ گیا۔ہزاروں افراد گھر چھوڑ کر نقل مکانی پرمجبور ہو گئے۔
سمندری طوفان بائپر جوائے سندھ کے بجائے گجرات کی ساحلی پٹی سے ٹکرائے گا۔ محکمہ موسمیات نے طوفان سے متعلق الرٹ جاری کردیا، کراچی سمیت صوبہ بھر میں شدید بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے، سندھ کی ساحلی پٹی سے آبادیوں کا انخلاء جاری ہے، سیکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا، ہزاروں افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے طوفان سے متعلق الرٹ جاری کردیا، طوفان سندھ کے بجائے گجرات کی ساحلی پٹی سے ٹکرائے گا، بائپر جوائے شہر قائد سے 470 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، طوفان اپنا رخ تبدیل کرے گا۔ طوفان 14 جون کی صبح تک شمال کی جانب مزید ٹریک کرنے کا امکان ہے، طوفان شمال مشرق کی طرف مڑ کر جنوب مشرقی سندھ کے درمیان سے گزر جائے گا، گجرات کے ساحل سے 15 جون کو ایک انتہائی شدید طوفان کے طور پر ٹکرائے گا۔
میٹ آفس نے بتایا ہے کہ طوفان کے نتیجے میں کراچی سمیت صوبہ بھر میں شدید بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے، کراچی میں آج درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری ہوائیں بند ہونے سے درجہ حرارت 40 ڈگری سے بھی زیادہ محسوس ہوگا، کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، آج دوپہر یا شام سے شہر میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ طوفان کے پیش نظر ساحلی پٹی سے شہریوں کا انخلاء جاری ہے، کیٹی بندر کی 13 ہزار آبادی خطرے میں ہے، گزشتہ رات کیٹی بندر سے 3 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، گھوڑاباڑی کی 5000 آبادی کو خطرہ ہے، اب تک 100 افراد کو نکالا جاچکا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کاکہنا تھاکہ شہید فاضل راہو کی 4 ہزار آبادی میں سے 3 ہزار افراد کا انخلاء ہوگیا، بدین کی 2500 آبادی طوفان سے خطرہ میں ہے تاہم اب تک 540 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا ہے، شاہ بندر کی 5 ہزار آبادی میں سے 90 اور جاتی کی 10 ہزار آبادی میں سے 100 افراد کو نکالا جاچکا ہے، کھارو چھان کی 1300 کی آبادی بھی سمندری طوفان سے خطرے میں ہے، جہاں سے 6 افراد کو نکالا گیا۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک 40 ہزار 800 میں سے 6 ہزار 836 لوگ منتقل ہوچکے ہیں، ٹھٹھہ، بدین اور سجاول اضلاع کے لوگوں کو بھی انتظامیہ منتقل کرتی رہے گی، لوگ اپنے گھر چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ شہریوں سے اپیل کی ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق سمندری طوفان قریب آنے کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں جاتی، شاہ بندر، کھارو چھان اور کلکا چھانی میں تیز ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں، تیز گرم ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت بڑھ گئی، جاتی سے 200 سے زائد افراد کو نکال کر کیمپس میں منتقل کیا گیا۔
بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں بھی سمندر بپھرنے سے پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا، پانی آبادی میں داخل ہونے سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں، سمندر میں شدید طغیانی کے سبب ماہی گیروں کی املاک کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔
ٹھٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے کیٹی بندر اور نواحی دیہات کو خالی کروالیا، ٹھٹھہ کی ضلعی انتظامیہ نے شہر کو 95 فیصد خالی کروا لیا۔
مختیار کار کیٹی بندر مقصود احمد جوکھیو کا کہنا ہے کہ شہریوں اور دیہاتیوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کی گٸی، متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا جارہا ہے، 10 ہزار متاثرہ افراد کو منتقل کیا جاچُکا۔
انہوں نے بتایا کہ کیٹی بندر شہر اور ایک درجن دیہات سے تمام افراد کو منتقل کرچُکے۔
سمندری طوفان بائپر جوائے سندھ کے قریب آنے لگا، 15 جون تک سندھ کے ضلع ٹھٹھہ اور بھارتی گجرات سے ٹکرانے کا امکان ہے، طوفان کے پیش نظر حفاظتی اقدامات جاری ہیں، پاک فوج کے تازہ دم دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے وزیر اعلیٰ سندھ سے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
