6 مارچ پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن کیسے بنا؟

6 مارچ کا دن تب پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن گیا جب حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے بد تہزیب غندوں کے ایک گروپ نے اپنے کپتان کی روایات پر عمل کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرنے والے اپوزیشن رہنماؤں پر حملہ کر دیا اور نہ صرف انہیں جوتے مارے بلکہ انہیں تھپڑ بھی رسید کر دیے۔ یوں عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی سے لیا گیا اعتماد کا ووٹ بھی دھندلا گیا۔
پارلیمانی تاریخ کا یہ سیاہ ترین واقعہ تب پیش آیا جب وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر لیگی رہنماؤں نے ڈائس لگا کر پریس کانفرنس شروع کی۔ اس موقع پر تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے نعرے بازی شروع کر دی اور شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس روکنے کی کوشش کی۔ تاہم تمام تر بدتمیزی اور بد تہذیبی کے باوجود سابق وزیر اعظم نے اپنی گفتگو جاری رکھی۔ اس دوران پی ٹی آئی والوں نے لیگی رہنماؤں کے ڈائس کے گرد گھیرا ڈال دیا اور نعرے بازی میں شدت لے آئے۔ یاد رہے کہ اس موقع پر اسلام آباد پولیس کے جوان بھی موجود تھے لیکن انہوں نے احتجاجی مظاہرین کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ شاہد خاقان عباسی کے بعد پی ٹی آئی والوں کے نعروں کی گونج میں احسن اقبال نے بھی مختصر گفتگو کی لیکن شدید شورشرابے کے باعث پریس کانفرنس ختم کردی گئی۔
پریس کانفرنس ختم کرنے کے بعد جیسے ہی شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور محمد مصدق نے اپنی گاڑیوں کی طرف پیش قدمی کی تو پی ٹی آئی مظاہرین نے ان کو گھیر لیا اور دھکے مارنا شروع کر دیا۔ اس دھکم پیل کے دوران نہ صرف پی ٹی آئی والوں نے پیچھے سے مریم اورنگزیب کو لات مار دی بلکہ محمد مصدق کے سر پر بھی تھپڑ مارے۔ جواب میں شاہد خاقان عباسی اور مصدق ایسا کرنے والوں کے پیچھے بھاگے اور ان کو لاتیں رسید کیں۔ اسی دوران ہجوم میں موجود ایک پی ٹی آئی ورکر نے احسن اقبال کے سر پر جوتا بھی دے مارا۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو اسلام آباد پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ چنانچہ مریم اورنگزیب اور محمد مصدق نے پولیس والوں کو مخاطب کرکے شرم دلانا شروع کی اور ان سے یہ سوال کیا کیا آپکے گھر میں مائیں بہنیں موجود نہیں ہے جو اس طرح خاموش کھڑے ہیں اور ایک عورت کا تقدس پامال ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے شرم دلوانے پر اسلام آباد پولیس حرکت میں آئی اور مظاہرین کو لیگی رہنماوں سے دور کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران لیگی ورکرز بھی موقع پر پہنچ گئے جنہیں دیکھ کر پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے دوڑ لگا دی۔ اس کے بعد لیگی راہنماؤں نے دوبارہ پریس کانفرنس سروع کی جس میں مریم اورنگزیب نے عمران خان کو ایک غنڈہ اور بدمعاش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ساری کاروائی انکے کہنے پر کی گئی کیونکہ وہ ایک فاشسٹ ذہن کا انسان ہے جسے اپوزیشن ہضم نہیں ہوتی۔ شاہد خاقان عباسی نے الزام لگایا کہ عمران خان نے ان کی پریس کانفرنس کو سبو تاژ کرنے کے لیے "کرائے کے غنڈے” بھیجیے تھے۔
اس واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احسن اقبال ہاتھ کے سر پر جوتا پھینکا گیا۔ پھینکا گیا جوتا پہلے مرتضی جاوید عباسی کے ہاتھ اور پھر احسن اقبال کے سر پر لگا۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا یے کہ پی ٹی آئی کے ایک غنڈے نے ڈاکٹر مصدق ملک کو سر پر تھپڑ دے مارا۔ دھکم پیل میں شاہد خاقان عباسی بھی کود پڑے اور دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک بھی پی ٹی آئی کے غنڈے کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران لیگی رہنماؤں نے ایک پی ٹی آئی غنڈے کو پکڑ کر تھپڑ دے مارا، مصدق ملک نے بھی اس بھاگتے شخص کو پیچھے سے کک ماری۔
اس واقعے کے بعد دوبارہ سے اپنی پریس کانفرنس شروع کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کا غیر آئینی اجلاس بلانے میں ملوث ہیں اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ عباسی نے کہا کہ آج قومی اسمبلی کااجلاس غیر آئینی ،غیر قانونی، غیر اخلاقی ہے کیوں کہ وزیراعظم کے پاس نہ تو اکثریت ہے اور نہ ہی وہ اعتماد کا ووٹ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے اپنا مینڈیٹ دے دیا ہے اور عمران خان کے پاس واحد راستہ مستعفی ہونے کا ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے چوروں کا ہر فورم پر مقابلہ کرنا ہے، بدمعاشی کی سیاست نہیں چلے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ فاشزم کی سیاست نہیں چلے گی، ہرفورم پر مقابلہ کریں گے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ’میڈیا کے سامنے ہم پر حملہ کیا گیا، یہ وہ مدینہ کی ریاست ہے جس کا ذکر عمران خان کرتے ہیں۔‘
اس موقع پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‘پاکستان میں ہٹلر کوئی نہیں بن سکتا، یہاں مشرف ہٹلر نہیں بن سکا تو عمران خان ‘کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ’۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تباہ کرنے والے کرپٹ عمران خان کو رخصت کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ مریم نے کہا کہ ہم عمران خان کے غنڈوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے شیر تمہارے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈریں گے’۔ اس دوران شاہد خاقان عباسی نے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے غنڈوں کو چیلنج دیا کہ میں یہاں پر کھڑا ہوں اگر تم میں ہمت ہے تو میرے سامنے اور مقابلہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ باسٹھ سال کی عمر میں بھی اگر آج میں اپنے ساتھ مقابلہ کرنے والے یوتھیے کو ایمبولینس تک نہ پہنچاوں تو میرا نام بدل دیا جائے۔ تاہم ان سے مقابلے کے لئے کوئی یوتھیا سامنے نہیں آیا جس کے بعد پریس کانفرنس ختم کردی گئی۔
