فوجی قیادت بتائے کیا وہ اب بھی عمران کے ساتھ کھڑی ہے؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے فوجی قیادت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ کیا وہ اس نااہل حکومت کی پشت پر تاکہ اس تحریک کا رخ آپ کی طرف موڑ دیا جائے۔بہاول پور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بہاول پور کے صوبے کی بات کرنے کے لیے پہلے بھی میں یہاں آیا تھا اور آج اسی عزم کے اعادے کے لیے آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ آج کی اس متمدن دنیا میں ریاستوں کی بقا کا دار ومدار ستحکم معیشتوں پر ہوا کرتا ہے جہاں نواز شریف کی حکومت اپنا آخری بجٹ پیش کر رہی تھی تو اگلے سال ترقی کا تخمینہ ساڑھے 5 اور اس سے اگلے سال ساڑھے 6 فیصد بتارہی تھی لیکن اس نااہل حکومت نے پہلا بجٹ پیش کیا اور 1.8 فیصد جس کے بعد دوسرے بجٹ میں اعشاریہ 4 فیصد پر آگئے اوریہ کیفیت آئندہ چند سال تک اگر یہ حکمران رہے تو برقرار رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں کشمیریوں کو مودی کے ظلم و ستم پر چھوڑ دیا ہے یہ کشمیر فروش ہیں اور ہم نے اعلان کیا ہے کہ 5 فروری کو اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی منائے گی اور پی ڈی ایم کی سربراہی میں ہر بڑے شہر میں مظاہرے کیے جائیں گے اور بتایا جائے گا کہ اس جعلی سرکار نے کشمیر کو بیچا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اس لیے بھی کشمیر فروش ہیں کیونکہ حکومت سے پہلے انہوں نے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا عمران خان نے پیش کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کشمیر کو ہڑپ کرنا اور بھارت کے ناجائز قبضے کو قانونی حیثیت میں تبدیل کرنے کو عمران خان نے کہا کہ مودی کامیاب ہو کیونکہ مودی جیت گیا تو کشمیر کا مسئلہ ہوجائے گا اور وہ جیت گیا کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا، قبضہ کرکے کشمیر کی مستقل حیثیت کا خاتمہ کردیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس جس پر مسلسل تاخیر کی جارہی ہے، یہ کیس دنیا بھر سےآئے ہوئے پیسوں میں خرد برد کا کیس ہے، جس میں سب سے زیادہ پیسہ اسرائیل سے آیا ہے، اسی لیے ہم نے بارہا کہا کہ یہ کس کے ایجنٹ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 21 جنوری کو کراچی میں اسرائیل نامنظور ریلی ہوگی اور دنیا پر واضح کیا جائے گا کہ فلسطین پہلے ہے، ان کی مملکت کی آزادی پہلے ہے، پہلے بیت المقدس کی آزادی کی بات ہوگی اور یہ آواز پاکستان کی سرزمین سے اٹھے گی۔
پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ چین نے سی پیک کے ذریعے پاکستان کو پوری دنیا کے لیے تجارت کا راستہ بنایا آج یہ حکومت اسی لیے اور ایجنڈے پر لائی گئی اور مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کو ناکام بنایا جائے اور اس نے تمام منصوبوں کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج پورے ملک میں سی پیک کا وہی حال ہے جو پشاور میں بی آر ٹی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت، ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا، بھوٹان، نیپال، ایران اور افغانستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے لیکن صرف پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جو حکمران کہتا ہے کہ فوج میری پشت پر ہے اس لیے مجھے موقع دیا جا رہا ہے تومیں اپنی فوجی قیادت کو نہایت احترام سے مخاطب کروں کہ اگر آپ اس ناجائز اورنااہل حکومت کی پشت پر ہیں تو پھر اپنی پوزیشن واضح کریں تاکہ ہم تحریک چلائیں تو اس کا رخ آپ کی طرف ہوگا کیونکہ آپ اس ظلم کے شریک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کسی ڈکٹیٹر، کسی ادارے کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک کیس کے قبضے میں نہیں ہے، یہ ملک عوام کا ہے اوریہاں عوام کا راج ہوگا، عوام کے بغیر ہم اس ملک پر کسی حاکمیت تسلیم نہیں کرتے۔
