9 مئی کے فسادات نے اکتوبر میں الیکشن ملتوی کرا دئیے؟

9 مئی کو تحریک انصاف کی جانب سے برپا کردہ فسادات کے بعد آئندہ عام انتخابات کا انعقاد کھٹائی کا شکار نظر آتا ہے کیوں کہ اگست میں حکومت کو نگرانوں کے حوالے کرنا ہے لیکن حالیہ معاملات سے تو ایسا لگ نہیں رہا۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ملک بھر میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات ہو سکیں گے یا نہیں۔  حقیقت یہی ہے کہ اس وقت عمران خان  اور ان کی جماعت انتہائی نازک صورت حال میں پھنس چکی ہے، سب کو پتہ چل چکا ہے کہ اب حالات ان کے لیے سازگار نہیں ہیں تو بھلائی اسی میں ہے کہ پتلی گلی سے نکلا جائے۔

ان  خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن غریده فاروقی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ کہتی ہیں کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو حالات پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے پیدا کیے اس  سے یہ بات واضح ہو گئی کہ عمران خان کی شخصیت  کو لوگوں کے ذہنوں میں اتنا مضبوطی سے ڈالا گیا کہ اب ان کے سامنے پاکستان کی ریاست سے زیادہ ایک شخص اہم ہو چکا ہے، اور یہ سب کچھ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔اس سارے سیاسی و سماجی منظر نامے کے تناظر میں اب آئندہ کیا صورت حال  ہوگی یہ دیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ نو مئی کے واقعات کے بعد عمران خان کی گرفتاری پر عدلیہ نے پھرتی سے انہیں رہا کروایا لیکن اس دوران جو کچھ ہوا اس پر  کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ حکومت نے حساس تنصیبات پر پرتشدد مظاہرے کرنے والوں کےخلاف ایکشن کا آغاز کیا تو تحریک انصاف میں بڑے پیمانے پر تقسیم سامنے آ گئی۔

جب سے اداروں کی حرمت کی توہین کرنے والوں کے خلاف حکومت نے سخت ایکشن کا آغاز کیا ہے، پی ٹی آئی کی وہ لیڈر شپ جو گذشتہ دنوں ان مسلح جتھوں کی رہنمائی کر رہی تھی، انہیں احکامات دے رہی تھی وہی آج ان سب کی مذمت کر رہی ہے اور اپنے ہی کارکنوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے۔ اس ساری  صورت حال میں ایک چیز بڑی واضح  ہے اور وہ یہ کہ عمران خان صاحب اس وقت انتہائی تنگ گلی میں پھنس چکے ہیں  حالانکہ انہوں نے نو مئی کو ہونےوالے ان ’شرپسندانہ‘ واقعات کی حیلے بہانوں کے بعد مذمت تو کر دی لیکن ان کا مذمت کرنا کافی نہیں۔

جس طرح  انہوں نے اپنی مستقل تقاریر میں افواج پاکستان اور اداروں کے خلاف لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کو متواتر انڈیلا گیا اس سے اسی طرح کا نتیجہ نکلنے کی امیدتھی۔ غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ تقریباً تحریک انصاف کی تمام سینیئر لیڈر شپ جیلوں میں ہے اور بہت ساری قریبی ساتھیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا  ہے۔ کئی سینیئر رہنماؤں نے، جن میں عمران کے  انتہائی قریبی ساتھی اور ان کی تحریک کے سب سے اہم رکن صدر پاکستان عارف علوی بھی شامل ہیں ،نے  بھی نو مئی کے دلخراش واقعوں کی نہ صرف سخت مذمت کی بلکہ ان میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیوں کو بھی جائز قرار دیا۔ زمان پارک جو کل تک ایک قلعے کی صورت میں کھڑا تھا اور پولیس تو کیا کسی کے لیے  بھی ایک نو گو ایریا بن چکا تھا وہاں کی ویرانی اب چیخ چیخ کر عمران خان کو بتا رہی ہے کہ اب بھی وقت ہے اپنے کیے پر تھوڑا پچھتا لیں۔ جس طرح پی ٹی آئی میں تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے،اس سے تو خان صاحب کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ مکافات عمل ہے۔

کل جو لوگ جہازوں میں آپ کی طرف کھینچے چلے آئے تھے، آج وہ ذرا سی تکلیف پا کر قبلہ بدل رہے ہیں۔ انقلا ب کی باتیں کرنے والے آج رو رو کر عمران خان کو چھوڑ رہے ہیں۔ یہ سب اس بات کی عکاسی کر رہے ہیں کہ ریاست سے ٹکراؤ اور لوگوں کو بھڑکانے سے آپ کو اقتدار نہیں ملتا۔ اقتدار کی ہوس میں آپ ملک و ریاست سب چیزیں کو نہ بھولتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ پی ٹی آئی چھوڑنے کی جو حالیہ لہر چلی ہے  اس سے عمران خان کو کافی بڑا دھچکا لگا ہے۔ غریدہ فاروقی کے مطابق بھلے عمران خان  اس کا کھل کر اقرار نہ کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس وقت وہ اور ان کی جماعت انتہائی نازک صورت حال میں پھنس چکی ہے، ان کے حالیہ دنوں میں باڈی لینگویج سے اندازہ لگا نا زیادہ مشکل نہیں کیونکہ سب کو پتہ چل چکا ہے کہ اب حالات ان کے لیے سازگار نہیں تو بھلائی اسی میں ہے کہ پتلی گلی سے نکلا جائے۔ اب سارے حالات و واقعات سے اندازہ ہورہا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں عمران خان نے جس طرح  ملک میں اشتعال اور نفرت کو فروغ دیا، وہ سب اب سود سمیت ان کے پیچھے واپس آ رہی ہے اور ان کی اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی بھی پٹ گئی۔

اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان  جتنی دفعہ اپنے بیانیے سے مکرے  وہ بھی اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے۔ چاہے وہ امریکی سازش کا بیانیہ ہو یا بیرونی لابنگ، سب پر ان کے یوٹرنز سامنے آئے ہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد ان کے بیانوں میں مسلسل تضاد اس بات کی نشانی ہے کہ وہ اس وقت شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں اور ان کو سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیسے چیزوں کو اپنے حق میں بہتر کیا جا سکے۔ جس طرح  عمران خان  کے لیے امریکہ میں لابنگ کی جا رہی ہے اس سے اب ان کا امریکی سازش والا بیانیہ بھی ختم ہو گیا۔عمران خان کو یہ اندازہ بھی ہوگیا ہے کہ ان کی مرضی کے مطابق الیکشن نہیں ہوسکیں گے کیونکہ پنجاب میں 14 مئی کو  نہ الیکشن ہوئے اور نہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر زیادہ سخت دکھائی، جو ان کی اس وقت سب سے بڑی سپورٹ کے طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

                                                                 غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ عمران خان کو اس وقت اپنی پڑی ہے کیوں کہ بے شک ان کو مسلسل ضمانتیں مل رہی ہوں لیکن کبھی نہ کبھی تو وہ  کسی کیس میں پھنس سکتے ہیں اور حکومت بھی بارہا اس بات کی تصدیق کرچکی ہے کہ وہ نو مئی کے واقعات کے حوالے سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ جلد سے جلد اس سلسلے میں کوئی پیش رفت کرے،یعنی ان کا رادہ ہے کہ عمران خان پر بھی آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو۔ اب ان ساری باتوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عمران خان کے لیے حالات انتہائی ناساز ہیں اور اگر ان پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے تو اس کے بعد کیا ہو گا۔کیا ان کے حامی ایک بار پھر ملک کو یرغمال بنانے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہ بات انہوں نے خود  بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران ڈھکے چھپے الفاظ  میں کی کہ اگر میں جیل میں رہا تو کارکنوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گا۔ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر باہمی اتفاق رائے سے مذاکرات کی تجویز تو دے دی لیکن اس سنگین سیاسی عدم استحکام میں مذاکرات کا انعقاد انتہائی مشکل امر ہے کیوں کہ پی ٹی آئی بھی اس وقت بہت آگے نکل چکی ہے اور حکمران اتحاد بھی ان کے ساتھ بظاہر بیٹھنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا۔ایسے میں آئندہ عام انتخابات کا انعقاد کھٹائی کا شکار نظر آتا ہے کیوں کہ اگست میں حکومت کو نگرانوں کے حوالے کرنا ہے لیکن حالیہ معاملات سے تو ایسا لگ نہیں رہا۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ملک بھر میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات ہو سکیں گے یا نہیں۔

غریده فاروقی کا کہنا ہے کہ اس ساری صورت حال میں ایک اور عدالتی ریلیف تو عمران خان مل گیا اور پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی سے نکلنے کے حوالے سے  لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری کو کالعدم قرار دے کر پی ٹی آئی اراکین کی بحالی کا حکم کا دے دیا۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ عمران خان کس منہ سے پارلیمنٹ میں واپس جائیں گے کیوں کہ انہوں نے اس پارلیمان کے بارے میں جو باتیں کیں وہ سب کے سامنے ہیں، اب شاید عمران خان کو بڑی شدت کے ساتھ ادراک ہو رہا ہو گا کہ انہوں نے  اسمبلیاں تھوڑ کر کتنی بڑی غلطی کی۔اس ساری صورت حال سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے تاکہ آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہوں جس سے عام لوگوں کی زندگی تنگ ہو جو پہلے سے ہی معاشی بدحالی کے باعث تنگ ہیں۔

Back to top button