90 فیصد خواجہ سرا اپنے عاشقوں کے ہاتھوں قتل ہوئے

اپنے عاشقوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے والے خواجہ سراؤں کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد صدر خواجہ سرا ایسوسی ایشن الماس بوبی نے کہا ہے کہ اکثر خواجہ سراؤں کے قتل میں ان کے عاشق ملوث ہوتے ہیں لہذا خواجہ سراؤں کو چاہیے کہ وہ مردوں سے جنسی تعلقات بنا کر جان داؤ پر لگانے کی بجائے اپنی پیشے پر توجہ دیں۔
یاد رہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے پاکستان کے چاروں صوبوں میں خواجہ سراؤں کے اپنے عاشقوں کے ہاتھوں قتل کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ فیصل آباد کے نوجواں خواجہ سرا سیمی کے قتل کا یے جس کو مبینہ طور پر اس کے ایک عاشق نے دیگر تین ساتھیوں کی مدد سے قتل کیا لیکن پولیس کو ابھی تک قتل کی کوئی شہادت نہیں ملی۔ لاش کے نمونے فرانزک رپورٹ کے لیے لاہور کی لیبارٹری بھجوادیئے گئے تاکہ ہلاکت کی اصل وجہ کا پتہ لگایاجا سکے۔ پولیس کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ ہلاک ہونے والے خواجہ سرا کے گرو اور چچا نے قتل کا مقدمہ درج کرایا ہے۔
اس قتل کے بعد خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر الماس بوبی نے کہا ہے کہ جب خواجہ سرا محبتیں کر کے بے وفائی کرتے ہیں تو منہ بولے خاوند انہیں قتل کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چیلوں کو ہم جنس پرستی میں ملوث ہونے سے باز رہنا چاہیے اور اگر کسی سے محبت کر کے ساتھ رہنے لگیں بھی تو کسی دوسرے کے ساتھ تعلقات نہیں بنانا چاہیے کیونکہ حالیہ مہینوں میں نوے فیصد خواجہ سراؤں کو بے وفائی پر قتل کیا گیا ہے۔
فیصل آباد کے علاقے داود نگر میں رہائش پذیر فائزہ خواجہ سرا کے مطابق سیمی نامی خواجہ سرا کی عمر صرف 17 سال تھی، اس کی نعمان بٹ عرف نومی سے گہری دوستی تھی جو اس کے گھر اکثر آتا تھا۔ وہ چار اپریل کو آیا اور سیمی کو زبردستی ایک فنکشن پر لے جانے کی ضد کرنے لگا۔ سیمی چلی گئی لیکن پورا دن اس کے واپس نہ آنے پر فائزہ نے معلومات لینے کی کوشش کی تو ان دونوں کا نمبر بند تھا جس پر انہیں پریشانی ہوئی۔ فائزہ کا کہنا تھا ‘شام کے وقت نعمان بٹ رکشہ پر آیا اور سیمی کو گلی میں ان کےگھر کے سامنے پھینک کر فرار ہوگیا۔ جب میں نے اسے اٹھایا تو اسکی حالت سخت خراب تھی، ہم اسے ہسپتال لے کر گئے جہاں رات گزارنے کے بعد 5 اپریل کی صبح سیمی ہلاک ہو گئی۔’ فائزہ کے مطابق اس نے متعلقہ تھانہ میں ایف آئی آر درج کروائی کہ سیمی کو نعمان بٹ نے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیاہے۔
مقدمے کے تفتیشی افسر طارق محمود کے مطابق انہوں نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے اور قانونی کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ تاہم کیا سیمی کو قتل کیا گیا یہ حتمی طور پر اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ جب وہ واپس اپنے گھر پہنچی تو زندہ تھی لیکن پولیس نے لاش کے نمونے لے کر فرانزک کرانے کے لیے لاہور لیبارٹری کو بھجوا دیے ہیں جن کی رپورٹ دو تین دن بعد آئے گی اور موت کی حتمی وجہ اسی رپورٹ سے ہی ثابت ہوگی۔
جب تفتیشی افسر سے ملزمان کی گرفتاری کا سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ واقعے کے بعد نعمان بٹ منظر عام سےغائب رہے اور دو دن بعد عدالت سےضمانت قبل از گرفتاری کروا لی۔ پولیس کی کوشش ہوگی کہ عدالت میں موقف پیش کر کے اس کی ضمانت خارج کروائی جائے اور اسے گرفتار کر کے باقاعدہ تفتیش شروع ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جو دیگر تین نامعلوم افراد ایف آئی آر میں نامزد ہوئے ان کے بارے میں بھی مرکزی ملزم کو ریمانڈ میں لے کر ہی پوچھ گچھ ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف گواہان اور اہل علاقہ کے بیانات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ آپس کی دوستی میں کسی تنازعے پر جھگڑا ہواہے کیوںکہ دونوں کے درمیان گہری دوستی بتائی جاتی ہے۔
دوسری طرف پاکستان خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر الماس بوبی نے بتایاکہ گزشتہ چند سالون میں جو 100 سے زیادہ خواجہ سرا قتل ہوئے ہیں ان میں سے نوے فیصد کے قتل کا مبینہ محرک ان کی اپنے چاہنے والوں سے شادیاں کر کے بے وفائی کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی طور پر خواجہ سرا بہت کم ہیں۔ بیشتر وہ ہیں جو لڑکے یا لڑکیاں شوق میں خواجہ سرا بنتے ہیں اور وہ تقریبات میں ناچنے گانے کے دوران پیار محبت میں مردوں سے جنسی تعلقات بناتے ہیں۔ الماس بوبی نے کہا فیصل آباد میں پیش آنے والے واقعے میں بھی ان کی اطلاعات کے مطابق یہی معاملہ ہے۔ سیمی نے نعمان بٹ سے جنسی تعلق بنا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بغیر تصدیق کے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ بنا کر انہیں مستقل خواجہ سرا کی پہچان دینے کی پالیسی بنائی ہے جس پر انہیں تحفظات ہیں۔ بوبی نے سپریم کورٹ میں بھی اس پالیسی کو چیلنج کیا تھا کہ جعلی خواجہ سرا بن کر ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور بعض این جی اوز غیر ملکی فنڈنگ سے اس معاملے کو پروان چڑھانے کا باعث بن رہی ہیں۔
الماس بوبی نے کہا کہ پشاور میں میشا، فیصل آباد میں ریشم، رولپنڈی میں تانی اور نائلہ نامی خواجہ سراؤں کو بھی ایسے ہی قتل کیا گیا اور اسی طرح پشاور میں نازو نامی خواجہ سرا نے صداقت نامی شخص سے دوستی کی، اس کے لاکھوں روپے خرچ کروائے، بعد میں بے وفائی پر اس نے اگست 2018میں اس کے ٹکڑے کر کے انہیں قتل کردیا۔ الماس بوبی کے مطابق دیگر کیسوں میں بھی خواجہ سراؤں کے عاشق ملوث تھے اس لیے خواجہ سراؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشے پر توجہ دیں اور مردوں سے جنسی تعلقات بنا کر جان داؤ پر نہ لگائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button