ابرار الحق لندن میں عمرانڈوز کا نشانہ کیسے بنے؟

سیاست چھوڑنے کے اعلان کے بعد لندن میں ایک کنسرٹ میں جہاں ابرار الحق اپنی ہی تربیت یافتہ یوتھ بریگیڈ کے ہتھے چڑھ گئے جنہوں نے بد تہذیبی کی حدیں عبور کرتے ہوئے نہ صرف انھیں برا بھلا کہا بلکہ دھکے بھی دئیے دوسری جانب ابرار الحق سوشل میڈیا پر بھی عمرانڈوز کے نشانے پر ہیں جو انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور گلوکار ابرار الحق پارٹی چھوڑنے کے بعد لندن میں کنسرٹ کرنے پہنچے تو ان کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ابرار الحق کے لندن کے کنسرٹ کی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بدمزگی کے بعد پولیس کو بھی بلانا پڑ گیا۔
خیال رہے کہ یہ کنسرٹ عمران خان کے سابق دوست اور پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنما اور کاروباری شخصیت علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
کنسرٹ کے بعد جب گلوکار میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرنے آئے تو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے کارکنان نے انہیں گھیر لیا اور اس دوران شدید بدمزگی دیکھنے میں آئی۔جہاں یوتھیوں نے نہ صرف ابرار الحق کو دھکے مارے بلکہ انھیں اپنی تربیت کے مطابق ان کے ساتھ بدزبانی بھی کی۔ اسی حوالے سے ٹوئٹر پر ایک اور ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمرانڈوز کی جارحیت کی وجہ سے صحافیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان بھی بحث مباحثہ ہو رہا ہےاس بارے میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے تعلق رکھنے والے صحافی فرید احمد قریشی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’لندن میں ابرارالحق کے شو کے دوران تلخ کلامی اور جھگڑا، بعد ازاں پولیس بھی بلائی گئی، ابرارالحق نے علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تقریب میں پرفارم کیا۔‘
اس کے علاوہ صحافی سفینہ خان نے ویڈیو اپلوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ ’لندن میں ابرار الحق کے شو کے دوران لڑائی، پولیس بلا لی گئی۔‘
اس ویڈیو میں صاف ظاہر ہے کہ ابرار الحق کو کنسرٹ ہال سے پولیس کے حصار میں لے کر جایا جا رہا ہے اور وہاں پر کھڑے چند نوجوان ابرار الحق کا نام بگاڑ کر نعرے بازی کر رہے ہیں۔
اسی طرح ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں گلوکار گاڑی کے اندر سہمے ہوئے بیٹھے ہیں اور باہر کھڑے لوگوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ ایک شخص انہیں یقین دہانی کروا رہا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہی کھڑے ہیں۔
دوسری جانب لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو چھوڑنے پر ابرار الحق نے کہا ’پی ٹی آئی میں بڑا اچھا وقت گزارا۔ لیڈرشپ کے ساتھ، کارکنان کے ساتھ آپ کی محبت ہوتی ہے، پیار ہوتا ہے۔ پچھلے 12، 13، 14 سال سے میں ان کے ساتھ حلقے میں کام کر رہا تھا۔ مگر جو بھی یہ واقعہ ہوا 9 مئی والا اور دیگر، سچ بتاؤں تو میں آیا تھا سیاست میں کچھ کرنے کے لیے لیکن مجھے اس کا موقع کہیں دُور دُور تک فی الحال نظر نہیں آ رہا۔‘’میرا آئینی حق ہے میں دوبارہ بھی آ سکتا ہوں۔ لیکن ابھی میں اپنے آپ کو سیاست سے دُور کر رہا ہوں۔‘جب صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’آپ کو کسی نے ڈرایا یا دھمکایا تو نہیں؟‘اس کے جواب میں انہوں نے واضح طور پر نفی میں جواب دیا۔
خیال رہے کہ ابرار الحق کا شمار پی ٹی آئی کے اُن رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے 9 مئی کے واقعات کے بعد عمران خان اور پارٹی کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔نو مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا، ان میں سے ایک گلوکار ابرار الحق بھی تھے۔ابرار الحق نے 26 مئی کو جب پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تو وہ زار و قطار رو دیے تھے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا تھا: ’فی الحال سیاست چھوڑ رہا ہوں، آگے اللہ کو جو منظور ہوا، کل کسی نے نہیں دیکھا۔‘تاہم سیاست چھوڑنے کے اعلان کے 48 گھنٹے بعد انہوں نے لندن میں ایک کانسرٹ میں پرفارم کیا جس پر سوشل میڈیا پر بھی صارفین ابرارالحق کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ابرار الحق کو اتنے دکھ بھرے انداز میں پی ٹی آئی چھوڑے ابھی 48 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ اتنی خوشی اور جذبے سے عمران خان کے ناقدین کے منعقد کردہ کانسرٹ میں پرفارم کر رہے ہیں
اسامہ ظفر نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’ابرار الحق مگرمچھ کے آنسو بہانے کے بعد لندن میں پارٹی کر رہے ہیں، خدیجہ شاہ جھوٹی معافی مانگنے کے بعد سروسز ہسپتال میں انجوائے کر رہی ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے غریب کارکنان ملٹری جیل میں انجوائے کر رہے ہیں۔‘
ڈاکٹر ہما سیف نے ابرار الحق کی گانا گاتے ہوئے ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ’یہ رونے سے پہلے کی کانسرٹ پرفارمنس ہے یا بعد کی؟‘
ایک اور ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا: ’ابرار الحق کے پریس کانفرنس میں روتے ہوئے پی ٹی آئی چھوڑنے کے اعلان کے فوراً بعد علیم خان کے ایونٹ میں پرفارم کرنا ان تمام افراد کے لیے مشعل راہ ہے جنہیں زندگی میں آگے بڑھنا مشکل لگ رہا ہے۔ ان سے سیکھیں۔‘
رگ پنڈت نامی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ’ابرار الحق سے زیادہ تیزی سے دل ٹوٹنے کے بعد کوئی نہیں سنبھلا۔‘
ٹوئٹر صارف شمع جونیجو نے لکھا: ’رونا، کیا رونا؟ ابرار الحق کام پر واپس۔‘
سحر شنواری کا کہنا تھا کہ ’ابرار الحق کے لیے شرم کا مقام ہے۔ پریس کانفرنس میں مگرمچھ کے آنسو بہانے کے بعد دو چار ہفتے صبر ہی کر لیتے۔‘
ایک اور صارف نے کہا: ’ابھی تو قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی تھی۔‘
چند سوشل میڈیا صارفین ابرار الحق کے دفاع میں بھی سامنے آئے۔ایک صارف کا کہنا تھا: ’خدا کے لیے، وہ کام کر رہے ہیں جس سے ان کی زندگی کا نظام چلتا ہے۔ انہیں ہراساں کرنا بند کریں۔‘اسی طرح عطیہ اکرم نے شک کا فائدہ
سیاستدانوں کے بھیس میں شرپسندوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے
دیتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے یہ بکنگ مہینوں پہلے ہوئی ہو گی۔‘
