عمران خان کے منصوبہ ساز فیض کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی بکھرنے لگی

سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے گرفت میں آنے کے بعد تحریک انصاف میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو شکیل خان اپنی وزارت سے مستعفی ہو گئے ہیں وہیں دوسری جانب پنجاب میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے تنظیمی عہدیدار اپنے عہدوں سے استعفےٰ دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی پنجاب کے صدر حماد اظہر نے ایکس پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی نہیں اور ان کے اختیارات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔تاہم پارٹی سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے ان کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تو حماد اظہر نے اپنا فیصلہ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف لاہور کے صدر اصغر گجر سمیت تمام عہدیداروں کے مستعفی ہونے پر نئے صدر کا نوٹیفکیشن بھی کردیا گیا ہےجبکہ پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حافظ فرحت کے استعفےٰ پر ان کی جگہ بھی نئے پارلیمانی لیڈر کا حکم نامہ جاری ہو چکا ہے۔
تاہم گذشتہ دو دنوں کے دوران پی ٹی آئی عہدیداروں کے اچانک مستعفیٰ ہونے پر کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ جنرل فیض کی گرفتاری کے فوری بعد پی ٹی آئی کے عہدیداروں کے اچانک مستعفی ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟
تجزیہ کار وجاہت مسعود کے مطابق ’پی ٹی آئی کا تعلق جب سے طاقتور حلقوں سے ٹوٹا ہے کئی رہنما پہلے اس کشتی سے اتر گئے اور کئی اب بہانے بنا کر اترتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ طاقت کے کھیل میں ایسی روایت بہت پرانی ہیں۔تجزیہ کار وجاہت مسعود کے بقول ’پاکستان میں سیاست کا کھیل طاقت کے کندھوں پر ہوتا ہے۔’جب ہ کندھا ہٹ جائے تو مشکل میں آنے والی جماعتوں کے عہدیدار ایسے ہی بہانے بنا کر راہیں جدا کر لیتے ہیں، جیسے پی ٹی آئی کے رہنما کر رہے ہیں۔’جب تحریک انصاف کو طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل تھی تو سیاسی پرندے ان کے بنیر پر بیٹھنے کو بے تاب تھے۔ کئی سیاستدان مشکلات کا شکار ن لیگ اور پی پی پی چھوڑ کر پی ٹی آئی کےساتھ مل رہے تھے۔ ’اب تحریک انصاف مشکلات کا شکار ہے تو اسے چھوڑ کر دوبارہ طاقتور حلقوں کی حمایت یافتہ ن لیگ اور پی پی پی میں شامل ہونے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ حماد اظہر کئی بار جلسوں میں نمودار ہوئے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے حالات میں آزادی طاقتور حلقوں کی مرضی کے خلاف نہیں ہو سکتی۔‘
‘تاہم تجزیہ کار سلمان غنی کے بقول: ’جنرل فیض حمید سمیت دیگر ریٹائرڈ افسران کے کورٹ مارشل سے پی ٹی آئی رہنماوں پر نفسیاتی دباو بڑھ رہا ہے۔ اس لیے جو استعفے آئے وہ تو کم ہیں، ابھی مرکزی سطح پر بڑے رہنما بھی کنارہ کشی کرتے نظر آئیں گے۔‘سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے بقول: ’ویسے تو تحریک انصاف میں شامل کرائے گئے رہنما حکومت سے ہٹتے ہی ساتھ چھوڑنا شروع ہو گئے تھے۔’مگر جب سے جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل شروع ہونے کا فوجی ترجمان نے اعلان کیا ہے، اس کے بعد پی ٹی آئی کے بڑے بڑے رہنما بھی نفسیاتی طور پر شدید دباو کا شکار ہوگئےہیں۔‘سلمان غنی نے کہا کہ ’ابھی تو جو رہنما مستعفی ہو رہے ہیں ان کی تعداد کچھ نہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید بڑے بڑے رہنما پارٹی سے کنارہ کرتے دکھائی دیں گے۔’کیونکہ جس طرح جیل میں بانی پی ٹی آئی سے فیض حمید نیٹ ورک کے رابطوں کا نیٹ ورک پکڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے کئی اہم عہدیدار بھی پکڑ میں آ سکتے ہیں۔’لہذا اس دباو کو برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ پارٹیاں چھوڑتے ہوئے ہر عہدیدار بہانے پیش کرتا ہے یہ بھی وہی کر رہے ہیں۔‘
تاہم تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ ’سیاسی جماعتوں میں رہنماوں کی شکایات معمول کا حصہ ہوتی ہیں لہذا ہماری پارٹی کے عہدیداروں نے بھی اپنے تحفظات دور کرنے کے لیے استعفوں کی راہ اپنائی۔’ہماری قیادت ان کی شکایات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خان صاحب سے مشاورت کے بعد کئی عہدیداروں کے تحفظات دور کر دیے گئے مزید ابھی بات چیت جاری ہے۔‘
