لندن ہائیکورٹ کا فیصلہ، الطاف حسین بے گھر ہو گئے

پچھلے تیس برس سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ایم کیو ایم کے بانی بے گھر ہوگئے ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین 10 ملین پاؤنڈز سے زائد مالیت کی پارٹی پراپرٹیز کا کیس لندن ہائی کورٹ میں ہار گئےہیں۔خیال رہے کہ لندن میں الطاف کے خلاف اس عدالتی جنگ کا آغاز ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر سید امین الحق، وائس آف کراچی کے رہنما ندیم نصرت اور الطاف کے سابق ساتھی طارق میر نے کیا تھا۔ ایم کیو ایم کے تینوں رہنماؤں  نے شمالی لندن کے پوش علاقے میں واقع سات مہنگی ترین جائیدادوں کے کنٹرول کے لیے عدالت میں الطاف حسین کے خلاف ہاتھ ملایا تھا۔ اسکے علاوہ کراچی سے فاروق ستار اور وسیم اختر نے بھی لندن کی عدالت میں الطاف حسین کے خلاف لائیو ویڈیو گواہی دی تھی۔

‎طویل سماعت کے بعد اب لندن ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ایم کیو ایم پاکستان 2015 کے آئین کے تحت نہیں، جب الطاف حسین نے ایم کیو ایم ختم کر کے اپنے اختیارات سے دستبرداری اختیار کر لی تھی، بلکہ 2016 کے آئین کے تحت اصلی ایم کیو ایم ہے اور وہ لندن میں الطاف حسین کے زیر کنٹرول 6 پراپرٹیز کی اصل مالک ہے۔

واضح رہے کہ الطاف حسین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اصلی ایم کیو ایم وہ ہے، جو وہ چلا رہے ہیں اور وہ ایم کیو ایم اصلی نہیں ہے جو فاروق ستار نے ہائی جیک کر لی ہے۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے اپنی 23 اگست کی تقریر کے بعد ایم کیو ایم پاکستان سے استعفیٰ دے دیا تھا، اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جج نے خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت ایم کیو ایم پاکستان کے حق میں اور ایم کیو ایم لندن کے خلاف فیصلہ دیا ہے، اب اگلے مرحلے میں ٹرسٹیز کے کردار کا فیصلہ کیا جائے گا۔  جج نے مزید لکھا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سید امین الحق کے وکیل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایم کیو ایم کا اپریل 2016 کا آئین منظور کیا گیا تھا جبکہ 2015 کا آئین منظور نہیں کیا گیا تھا۔جج نے لکھا ہے کہ الطاف حسین نے 23 اگست 2016 کو ایم کیوایم سے عارضی طور پر یا مستقل بنیادوں پر علیحدگی اختیار کر لی تھی، اس سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہوں نے ایک نئی تنظیم قائم کرلی، جو وہ لندن سے چلا رہے تھے۔

لندن ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، یہ مقدمہ سید امین الحق نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے پارٹی کے بانی الطاف حسین اور دیگر ٹرسٹیز اقبال حسین، طارق میر محمد انور، افتخار حسین، قاسم علی اور یورو پراپرٹی ڈیولپمنٹس لمیٹڈ کے خلاف اس ٹرسٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔

ایم کیو ایم کے سابق رہنما ندیم نصرت، جو وائس آف کراچی کے نام سے اپنی پارٹی چلا رہے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار، جو حال ہی تک اپنی ایم کیوایم چلا رہے تھے اور کراچی کے سابق میئر وسیم اختر نے ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت کی اور الطاف حسین کے خلاف عدالت میں پیش ہو کر کھل کر اپنے سابق قائد کا سامنا کیا، ان سب نے کہا کہ ایم کیوایم نے 2015 کا آئین منظور نہیں کیا تھا اور 2016 کا آئین بحال ہے اور اس وقت بھی موجود تھا، جب الطاف حسین نے رضا کارانہ طور پر پارٹی سے علیحدگی کااعلان کیا تھا اور اس کے بعد فاروق ستار اور دوسروں نے انہیں کبھی پارٹی میں شامل نہیں کیا۔

برطانوی ہائی کورٹ کے فیصلے کا تعلق مقدمے کے پہلے حصے کے بارے میں تھا اور اب اس کے دوسرے حصے کی سماعت جلد ہی شروع کی جائے گی، جس میں مختلف امور بشمول ٹرسٹیز کے کردار اور ایم کیو ایم کے نام پر وصول کیے گئے فنڈ کو بینی فشریز کے لیے استعمال کیا گیا یا نہیں، جیسے امور شامل ہوں گے، کا تعین کیا جائے گا۔

ہائی کورٹ انگلینڈ اور ویلیز اب اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ایم کیو ایم کے نام پر وصول کیے گئے فنڈ کے بینی فشری الطاف حسین کی زیر قیادت گروپ ہے یا ایم کیو ایم پاکستان، جس کی نمائندگی سید امین الحق کر رہے ہیں، اس کے بینی فشری ہیں۔

فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جج جونز نے ایم کیو ایم پاکستان کے پیش کردہ مؤقف کو تسلیم کیا اور الطاف حسین کی لیگل ٹیم کی جانب سے پیش کردہ کیس پر یقین نہیں کیا۔

جج نے الطاف حسین کا یہ مؤقف تسلیم کیا کہ انہوں نے 22 اکتوبر 2015 کو ایک آئین کی منظوری دی تھی، جس میں بیشمار غلطیاں تھیں، مقدمے کے پہلے حصے کی سماعت کے دوران الطاف حسین کی لیگل ٹیم کو بے تحاشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اب پہلا مرحلہ ایم کیو ایم پاکستان نے جیت لیا ہے اور جج نے قرار دیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان ہی اصل ایم کیو ایم اور حقیقی بینی فشری ہے۔ مقدمے کے دوسرے مرحلے میں مدعا الیہان کا ٹرسٹ سے وصول کردہ رقم کے حوالے سے احتساب ہوگا کہ آیا یہ رقم بینی فشریز کے فائدے کے لیے استعمال کی گئی یا نہیں ، اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ہے تو انہوں  نے اپنے فرائض کی خلاف ورزی کی ہے اورانہیں اب ساری رقم واپس کرنا ہوگی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو دو مرتبہ مارشل لاء کی دھمکی کس نے دی؟

Back to top button