کپتان کا کرپشن مخالف بیانیہ توپ میں رکھ کر کس نے اڑایا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے کہا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ نے عمران خان کے کرپشن مخالف بیانیے اور احتساب کے دعوؤں کو توپ میں رکھ کراڑا دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو بہت سی چیزوں کے لئے معاف کیا جا سکتا ہے جو اس نے کی ہیں یا نہیں کیں لیکن ایک چیز ایسی ہے جس پر یہ پارٹی خود بھی حیران ہوگی اور وہ ہے کرپشن روکنے میں اس کی مکمل ناکامی۔ کپتان حکومت کی یہ ناکامی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ہوشربا رپورٹ کی صورت میں سامنے آئی جس نے اس کے بیانیے کو توپ میں رکھ کر اڑا دیا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد حسین بتاتے ہیں کہ عالمی طور پر ہونے والے اس سالانہ سروے میں کئی ملکوں میں عوام میں کرپشن کے تاثر کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے اور اس کا ایک تفصیلی طریقہ کار بھی دیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر یہ درجہ بندی کی جاتی ہے۔

ماضی میں پی ٹی آئی اس سروے کو PMLN اور دیگر مخالفین کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے۔ لیکن حکومت یہ دیکھ کر خوفزدہ رہ گئی ہے کہ اس کے دورِ اقتدار میں پاکستان نے کرپشن کی فیلڈ میں بدترین پوزیشن حاصل کی ہے۔

فہد حسین کے مطابق سیاسی اور معاشی طور پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران ایک تین مونہی مصیبت نے حکومت کے بادبانوں کو بالکل بے ہوا کر دیا ہے۔ حکومت کے لیے پہلی مصیبت تب کھڑی ہو گئی جب وزیر اعظم عمران خان نے ٹی وی پر براہِ راست خطرناک ہو جانے کی دھمکی دے ڈالی حالانکہ اس موقع پر انہیں صرف اپنی حکومت کی کارکردگی کو سامنے لا رہے ہونا چاہیے تھا، حکومت کے لیے دوسری مصیبت ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے کھڑی کردی۔

اس رپورٹ نے پی ٹی آئی کے بڑے محنت سے بنائے ہوئے بیانیے میں ایک بڑا سا سوراخ کر دیا۔ کپتان نے اپنی حکومت کے لیکن تیسری مصیبت تب کھڑی کی جب انہوں نے اپنے احتسابی لشکر کے سرخیل بیرسٹر شہزاد اکبر کو بہت ہی بے آبرو کر کے اپنے کوچے سے نکالا۔

فہد حسین کے بقول جب بارش ہوتی ہے تو چھاجوں چھاج برستی ہے۔ موسلا دھار برستی ہے۔ لیکن پھر بھی، اچھا تاثر بنانے والی چھتری بادل کے یوں کھل کر برسنے کی صورت میں بھی آسرا دے دیتی ہے۔ حالیہ مصیبتوں نے کپتان کو یاد دہانی کروائی ہے کہ انکی حکومت غیر ضروری مسائل اور بحثوں میں الجھ اصل اور بڑے منظرنامے سے اکنی توجہ ہٹا چکی۔ اگر وہ تھوڑا فاصلے سے صورت حال کا مشاہدہ کر رہے ہوتے تو حکومت کے میڈیا مینیجر اس بحران میں ایک مثبت پہلو تلاش کر سکتے تھے۔ اور یہ کوئی راتوں رات پیدا ہونے والا مثبت پہلو نہیں تھا۔

یہ موجود ہے، لیکن اسکی طرف توجہ نہیں۔ بقول فہد حسین اسکا نام ہے: احساس۔ لیکن آپ کہہ سکتے ہیں کہ احساس کو تو ہر وقت وزیر اعظم اور ان کے ساتھی اچھالتے رہتے ہیں۔ لیکن کسی چیز کا ذکر کرنے اور اسے اپنی کارکردگی کا پوسٹر بنا کر پیش کرنے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ اگر کوئی ایک سبق اس حکومت کو اس عرصے میں سیکھنے کی

بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق کے بعد کراچی میں دھرنا ختم

ضرورت تھی تو وہ یہ تھا کہ اپوزیشن کو گرانے کے چکر میں حکومت خود کو بنانے کے عمل کو ہی فراموش کر بیٹھی۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیسے؟ فہد حسین کہتے ہیں کہ عمران خان کی سیاست کے تین ستون ہیں: پہلا کرپشن کے خلاف جہاد، دوسرا طاقت وروں کا احتساب، اور تیسرا عوامی فلاحی ریاست۔ پہلے دو کے لئے ریاست کے مظبوط بازوؤں کی ضرورت ہے اور تیسرے کے لئے اس کا نرم دل ہونا۔ انکے بقول، کاغذوں میں یہ ایجنڈا بڑا خوش کن ہے اور اپنے آپ میں اتنا وسیع ہے کہ کسی بھی حکومت کے پانچ سال کا عرصہ تو اسی کو یقینی بنانے میں لگ جائے۔

لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اور ابتدائی دور میں گورننس کے معاملے میں جھٹکے کھا کر، PTI اپنے ہی کنٹینر والے بیانیے کے ہیجان میں الجھ کر رہ گئی اور گیند سے نظریں ہٹا لیں۔ وہ گیندیں جو بڑے آرام سے کھیلیں جا سکتی تھیں، بیٹ اور پیڈ کے درمیان گیپ میں سے نکلنے لگیں۔

کپتان کی سیاست جن تین ستونوں پر کھڑی ہے ان میں سے پہلے دو پر اتنا شور مچایا گیا کہ تیسرا اس شور میں کہیں گم ہو گیا۔ حکومت نے اطلاعات و ابلاغیات کی تمام تر مشینری کو اپوزیشن پر نت نئے الزامات کے ذریعے اس کو دبانے پر لگا دیا لیکن آہستہ آہستہ حکومت اپنے ہی لگائے گئے الزامات میں تضادات کے بوجھ تلے دبنے لگی۔

اس حکمتِ عملی سے ملنے والے فوائد بتدریج کم ہوئے تو جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، حکومت لڑکھڑاتی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر آج کپتان حکومت اپنا تاثر بنانے کی جنگ میں شکست سے دوچار ہے تو اس کا ذمہ دار بھی کپتان خود ہے۔

Back to top button