محسن بیگ کو کچھ ہوا تو FIR عمران کے خلاف کٹے گی

وزیراعظم عمران خان کے عتاب کا شکار ہونے والے آن لائن نیوز ایجنسی کے مالک محسن بیگ کی ممکنہ رہائی روکنے کے لئے اسلام آباد پولیس نے ان کے خلاف مزید کیسز بنانا شروع کر دئیے ہیں جس کے بعد انکی اہلیہ نے اپنے شوہر کی جان کو خطرے میں قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف اور تحفظ مانگ لیا ہے۔

محسن بیگ کی اہلیہ نے تحریری طور پر ڈکلیئر کیا ہے کہ اگر انکے زیر حراست شوہر اور خاندان کے کسی فرد کو کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچا تو اس کی ایف آئی آر وزیر اعظم عمراان خان اور انکے حکم پر انتقامی کارروائیاں کرنے والے پولیس افسران اور ایف آئی اے حکام کیخلاف کاٹی جائے گی۔

محسن بیگ کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مارگلہ پولیس سٹیشن نے اتوار کو چھٹی کے باوجود وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے محسن کے خلاف بغیر لائسنس پستول رکھنے کا مقدمہ درج کر لیا تاکہ اگر انہیں پہلے کیس میں عدالت سے ضمانت مل جائے تو دوسرے کیس کی بنیاد پر انکی رہائی کا عمل روکا جا سکے۔

انکے خاندانی ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ نیا کیس محسن بیگ کی پولیس حراست میں میڈیا سے اس گفتگو کے ردعمل میں درج کیا گیا ہے جس میں بیگ نے کہا تھا کہ عمران کی ذلت کے دن شروع ہونے والے ہیں اور وہ جلد اسی جیل میں بند ہوں گے جس میں آج مجھے بند کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش محسن بیگ نے بتایا ہے کہ جس پستول سے انہوں نے فائرنگ کی وہ انکے گھر میں موجود ہے، جس پر ملزم کے ہمراہ اس کے گھر جا کر 30 بور کا پستول برآمد کیا گیا۔

تاہم محسن کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مارگلہ پولیس سٹیشن میں درج ہونے والی نئی ایف آئی آر بھی پہلی ایف آئی آر کی طرح جھوٹ کا پلندہ ہے۔ دوسری جانب ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ برآمد ہونے والے پستول کے میگزین میں 2 گولیاں بھی موجود تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم اس 30 بور کے پستول کا لائسنس پیش نہیں کر سکا۔

میڈیا پر پابندیاں، حکومت کے خاتمے کی جانب ایک قدم

چنانچہ مارگلہ پولیس نے زیر حراست محسن بیگ کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے کیس میں گرفتار کرنے کے بعد اتوار کو چھٹی کے روز ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ محسن کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم سنا دیا۔ یاد رہے کہ محسن بیگ پہلے ہی دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہیں اور جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

دوسری جانب محسن بیگ کی اہلیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر کے خلاف ہونے والی کارروائی کا محرک وزیراعظم عمران خان ہیں۔ ںہوں نے تحریری طور پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اور "غیر جانبدار” حلقوں سے اپیل ہے کہ حقائق کو منظر عام پر لانے اور انصاف کی فراہمی کے تقاضے پورے کرنے کےلئے اعلیٰ سطح کا عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ سچ پر مبنی انصاف ہو سکے۔

محسن جمیل بیگ کی اہلیہ نے کہا ہے کہ جب نامعلوم افراد انکے گھر میں گھسے تو میرے شوہر نے دفاع کا حق استعمال کیا، بود ازان انکی گرفتاری کے بعد ایس ایچ او مارگلہ پولیس سٹیشن کے کمرے میں آٹھ افراد نے میرے شوہر کو شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور انکی ناک کی ہڈی سمیت جسم پر شدید ضربیں لگائی گئیں۔ عدالتی حکم کے باوجود پولیس رات گئے تک انہیں میڈیکل کروانے کی آڑ میں سڑکوں پر گھماتی رہی اور طبی امداد نہ دی گئی۔

محسن بیگ کی اہلیہ نے لکھا ہے کہ پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیمیں کئی بار ہمارے گھر آ چکی ہیں اور تلاشی کی آڑ میں ہماری تذلیل کی جارہی ہے، ہمیں مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے۔ ہمارے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس نے اس قدر سختی کر رکھی ہے کہ محسن بیگ سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جارہی، حتیٰ کہ حق دفاع کےلئے عدالتی کارروائی کی خاطر ہمیں وکالت نامہ بھی دستخط کرانے سے روکا گیا۔ انہون نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی مداخلت پر ہمارے وکیل کو محسن بیگ سے ملنے کی اجازت ملی۔

مسز محسن بیگ کا۔کہنا ہے کہ ہمارے گھر میں نامعلوم افراد کے زبردستی داخلے سے لے کر اب تک پیش آنے والی سنگین صورتحال سے لگ رہا ہے کہ میرے شوہر کی جان خطرے میں ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے لاہور میں ایف آئی آر درج کرنا بھی بدنیتی پر مبنی ہے حالانکہ ہماری رہائش اسلام آباد میں یے اور ان کو گرفتار بھی عہیں سے کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ ایف آئی اے والے لاہور میں ایف آئی آر درج کر کے میرے خاوند کو اسلام آباد سے لاہور لے جانے کی آڑ میں جانی نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں، لہذا اگر مجھے، میرے بچوں یا میرے شوہر محسن جمیل بیگ کو کوئی نقصان پہنچا تو ایف آئی آر وزیراعظم عمران خان، ڈی جی ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے سینئر حکام کے خلاف کاٹی جائے گی۔ مسز محسن بیگ نے مزید لکھا کہ میرے اس بیان کو آن ریکارڈ رکھا جائے اور چیف جسٹس آف پاکستان میرے شوہر کے خلاف کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کی رہائی یقینی بنائیں۔

Back to top button