میڈیا پر پابندیاں، حکومت کے خاتمے کی جانب ایک قدم

ایک اور ڈریکونین قانون کے ذریعے پاکستانی میڈیا کی بچی کھچی آزادی چھیننے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے ان ہی فاشسٹ ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کر دیا ہے جو جنرل پرویز مشرف اور اس جیسے دیگر آمر حکمران اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں کیا کرتے تھے۔

حکومت، فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں پر تنقید کرنے والوں کو بلا ضمانت پانچ سال قید کی سزا کا قانون حسب سابق ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے جسے تمام سیاسی جماعتوں، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور تمام صحافتی تنظیموں نے سختی سے رد کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وہی اوچھے ہتھکنڈے ہیں جو حکمران میڈیا کی زبان بندی کے لیے اپنے آخری دنوں میں استعمال کرتے ہیں لہذا اب حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے۔

صدارتی آرڈینینس کے ذریعے پری وینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں ترمیم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر فیک نیوز چلانے یا کسی کی کردار کشی کرنے کو قابل تعزیر جرم قرار دیدیا گیا ہے، پولیس کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ملزم کو گرفتار کرے، عدالت کو ملزم کی ضمانت لینے کا اختیار نہیں ہو گا اور عدلیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایسے کیس کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کرے۔ اگر مقررہ مدت میں کیس کا فیصلہ نہیں ہوگا تو متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چنانچہ یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ اس قانون کے پیچھے عمران خان کی منتقم سوچ بدرجہ اتم موجود ہے۔ صدر عارف علوی نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز یعنی پیکا ترمیمی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے لفظ شخص کی تعریف کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔

پہلے عدالت نے یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کہ صرف متاثرہ شخص ہی درخواست گزار ہو سکتا ہے، تاہم اب تازہ ترامیم کے بعد لفظ ’شخص‘ سے مراد کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی ہے جو کہ کیس درج کروانے کےمجاز ہوں گے۔ ترمیمی آرڈیننس میں کسی کے تشخص پر حملے کی سزا تین سال قید سے بڑھا کر پانچ سال قید کر دی گئی ہے۔ صدارتی آرڈیننس کے مطابق شکایت درج کرانے والا متاثرہ فریق کا نمائندہ یا گارڈین بھی ہو سکتا ہے، اور جرم کو قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا ہے جو ناقابل ضمانت ہو گا۔

ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ چھ ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی اور ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائی کورٹ کو جمع کرائے گی۔ آرڈیننس کے مطابق ہائی کورٹ کو اگر لگے کہ کیس جلد نمٹانے میں رکاوٹیں ہیں تو رکاوٹیں دور کرنے کا کہے گی۔ عمران خان میڈیا کو کس حد تک پابندیوں میں جکڑنا چاہتے ہیں اسکا اندازہ اس آرڈیننس کو پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے۔

آرڈیننس کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومتیں اور افسران کو ایسے کیسوں کا فیصلہ کرنے کے لئے ہر ممکن مدد مہیا کرنا ہو گی۔ ہر ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ایک جج اور افسران کو ان کیسز کی بروقت تکمیل کے لیے نامزد کرے گا۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس قانون کی ضرورت کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد فیک نیوز پھیکانے اور کردار کشی کرنے والوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے ایسے لوگ سوشل میڈیا پر صحافی بن گئے ہیں جو کہ دراصل صحافی نہیں ہیں اور جھوٹی خبر پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاتون اول کے گھر چھوڑ جانے اور وزیراعظم عمران خان سے طلاق لینے کی جھوٹی خبریں چلائی گئیں لہذا ضروری تھا کہ اس سلسلے کو روکا جائے۔

عمران خان فیصلہ کن جنگ ہارتے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں؟

واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو قانون سازی کے لیے پارلیمینت کی بجائے صدارتی آرڈیننس پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے پہلے ہی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ عمران خان کی حکومت کے دوران اگست 2018 سے فروری 2022 تک 70 سے زیادہ آرڈیننسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ لیکن تازہ ترین آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے پیکا قانون میں ترامیم کو عوام کو خاموش کرانے کی حکومتی سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پیکا قانون کے تحت عام لوگوں کی آواز کو دبانا غیر جمہوری عمل اور عام شہری کے حقوق کی کھکی خلاف ورزی ہے جس کے خلاف شدید مزاحمت کی جائے گی۔

سماجی کارکن اور سوشل میڈیا سے متعلق بنائے گئے قوانین پر گہری نظر رکھنے والی ڈیجیٹل فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد کا کہنا یے کہ موجودہ حکومت بھی وہی کام کر رہی ہے جو ماضی کی آمرانہ حکومتیں اپنے آخری دنوں میں کرتی تھیں۔ انکا کہنا ہے کہ جب مسلم لیگ ن کی حکومت نے پیکا کا ڈریکونین قانون بنایا تھا تو ہم نے انھیں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یہ ان کے خلاف استعمال ہو گا مگر ان کو بات سمجھ نہیں آئی، آج انہی کے کارکنان اس متنازعہ قانون کا نشانہ بن رہے ہیں اور اسی قانون میں ترمیم کے ذریعے اب میڈیا پر ریاستہ شکنجہ مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف دور حکومت کے دوران اگست 2016 میں قومی اسمبلی سے ایک بل پریوینشن آف الیکڑانک کرائم ایکٹ 2016 پاس ہوا تھا۔ نگہت داد کے مطابق اب تحریک انصاف والے حکومت میں ہیں اور انھیں بھی یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ جب وہ حزب اختلاف میں ہوں گے تو پھر یہی ترامیم ان کے لیے درد سر بن جائیں گی۔ نگہت کے مطابق یہ اتنا ڈریکونین اور کالا قانون ہے کہ گذشتہ چھ برس میں اس کا صرف غلط استعمال ہی ہوتا نظر آیا ہے۔ اب اس قانون میں مزید ترامیم متعارف کروا کر اسے مزید ظالمانہ بنا دیا گیا ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ قانون تحریک انصاف والوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی ترجمان صدف خان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسا قانون ہے جس کا براہ راست تعلق آئینی اور انسانی حقوق سے ہے، جس کا اطلاق سیاسی گفتگو اور تنقید پر بھی ہوتا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم باقاعدہ پارلیمانی طریقہ کار ہی سے ہونی چاہیے تھی اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے یہ ترمیم کرنا، جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

ان کے مطابق ’تمام ترامیم کا بنیادی مقصد یہی نظر آتا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کے آزادی پر گھیرا مزید تنگ کیا جا سکے۔‘ یاد رہے کہ ماضی میں عدالتوں نے یہ فیصلے دیے تھے کہ پیکا قانون کے سیکشن 20 کے تحت ہتک عزت کے کیس میں صرف متائثرہ شخص ہی مدعی بن سکتا ہے، اس میں ادارے مدعی نہیں بن سکتے۔ لیکن اب صدارتی ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے شکایت کوئی بھی شخص یا ادارہ درج کروا سکتا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس حوالے سے پہلے ہی بے تحاشا قوانین موجود ہیں اور ایسی ترامیم لانا آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ پیکا قانون کے جس سیکشن 20 میں بنیادی ترمیم کی گئی ہے اسکا اطلاق ٹی وی کی نشریات پر نہیں ہوتا لہذا اس کا اصل ٹارگٹ سوشل میڈیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں ٹی وی اور دیگر مین سٹریم میڈیا پر بڑھتتے ہوئے دباؤ کے سبب حکومت اور ریاستی اداروں کے ناقد صحافیوں نے انٹرینٹ کو ایک متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایسی صحافت کی یے جو ٹی وی پر نہیں ہو سکتی،

لہذا اب تو صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ مین سٹریم میڈیا سوشل میڈیا سے خبر لے کر آگے چلتا ہے۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی کسی خبر کو شروع میں حکومت اور ریاستی نمائندوں نے جھوٹا اور غلط قرار دیا مگر بعد میں وہ خبر درست ثابت ہوئی۔ لہذا تازہ ترین حکومتی فیصلے کا اصل نشانہ سوشل میڈیا ہے ترمیم سے بنیادی طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیں۔

دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ سمیت ملک کی تمام بڑی صحافتی تنظیموں نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیکا قانون میں ترمیم کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت الیکٹرونک کرائمز ایکٹ میں پیمرا کے لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو حاصل استثنیٰ بھی ختم کر دیا گیا ہے جس کے بعد ٹیلی ویژن پر چلنے والی خبر بھی اب الیکٹرونک کرائم کے زمرے میں آئے گی جب کہ ایسی کسی خبر کے خلاف اتھارٹی کو درخواست دینے کے لیے متاثرہ شخص کے بجائے کسی بھی فرد کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ مقدمہ درج کرا سکے گا۔

انسانی حقوق کمیشن نے بھی سوشل میڈیا پر حکومت اور ریاست پر تنقید کرنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کے قانون کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ ’ریاست پر آن لائن تنقید پر قید کی سزا کو دو سے بڑھا کر پانچ برس کرنے اور اسے ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کا قانون جمہوریت کے منافی ہے۔‘ یہ قانون حکومت اور ریاست سے اختلاف اور ان پر تنقید کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال ہو گا۔‘

Back to top button