عمران خان فیصلہ کن جنگ ہارتے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے کہا ہے کہ عمران خان 3 برس اقتدار میں بطور وزیر اعظم گزارنے کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے تو الزامات لگائے جا سکتے ہیں لیکن جب آپ خود حکمران ہوں تو ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے ثبوت دینا پڑتے ہیں۔ فہد کہتے ہیں کی وزیر اعظم نے جمعے کو منڈی بہاؤالدین میں اپنے مخالفین کے بارے میں بالکل وہی گھسی پٹی باتیں کیں جو انہوں نے 2017 میں بھی کسی جمعے کو کہی ہوں گی۔
یا پھر 2015 یا 2013 میں کی ہوں گی۔ انہوں نے کچھ نیا نہیں کہا اور وہی کچھ دہرایا ہے جو وہ برسہا برس سے کہتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن اب ان کی یہ باتیں سن سن کر لوگوں کے کان پک چکے ہیں اور عوام مزید یہ گفتگو نہیں سننا چاہتے خاص طور پر جب حکومت کو اپنے لگائے الزامات ثابت کرنے کے لئے تین سال سے زیادہ وقت مل چکا ہو۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد حسین کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کو بار بار وہی پرانے الزامات دہرانے پڑتے ہیں، جنہیں ثابت کرنے کے لئے اسکے پاس ایسے کوئی ثبوت نہیں جو کسی عدالت میں پیش کیے جا سکیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی کے بیانیے میں سے ہوا نکل چکی ہے۔ یہ گھسا پٹا بیانیہ اس کے جیالے سپورٹرز میں تو مقبول ہو سکتا ہے لیکن ان کی تعداد بھی اتنی نہیں کہ پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار میں لا سکیں۔
دوبارہ جیتنے کے لئے پارٹی کو ان لوگوں کو واپس لانا ہوگا جنہوں نے 2018 میں عمران خان کو اس لئے ووٹ دے دیا تھا کہ وہ باقی سب کو دیکھ چکے تھے۔ لیکن اب وہ لوگ خان صاحب کو بھی باری دے کر مزہ چکھ چکے ہیں۔
فہد حسین کہتے ہیں ایک بات طے ہے کہ پی ٹی آئی حکومت بیانیوں کی جنگ ہار چکی ہے۔ عمران خان نے برسراقتدار آنے سے پہلے عوام سے جتنے بھی وعدے کیے تھے ان پر یوٹرن لے لیا۔
عمران یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ حکومت جسے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لئے مینڈیٹ دیا گیا تھا وہ اقتدار میں آنے کے تین سال بعد ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ شریفوں پر طنز اور تنقید تب فائدہ مند تھی تھی جب شریف حکومت میں تھے اور عمران خان اپوزیشن میں۔ تب شریف آسان ہدف تھے اور عمران زبردست جارح تھے۔ جب وہ شریفوں کی چیر پھاڑ کرتے ہوئے دہاڑتے تھے تو لوگ بھی ان ہی سنا کرتے تھے۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ PTI کو یہ بتانا ہوگا کہ اس نے لوگوں کی زندگیاں بہتر
بنانے کے لئے مینڈیٹ لینے کے بعد عوام کی فلاح کے لیے کیا کچھ کیا یا نہیں؟ اور اگر نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا؟ یاد رہے کہ اگر وزیر اعظم اور انکے وزرا نے اپنے بیانیے کو ووٹرز کی امنگوں کے مطابق نہ ڈھالا تو انکا بیانیہ ہوا میں اڑ جائے گا۔ فہد حسین کہتے ہیں کہ عمران خان کو اب بھی اندازہ نہیں ہو رہا کہ جو بیانیہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے مخالفین کو پچھاڑنے میں استعمال ہوتا ہے، وہ حکومت میں آنے کے بعد اپنے کاموں کی ترویج کے قابل بھی بنانا چاہیے۔
میڈیا پر پابندیاں، حکومت کے خاتمے کی جانب ایک قدم
لیکن تین برس سے حکومت میں ہوتے ہوئے پی ٹی آئی کی ناکامیوں میں سب سے حیرت انگیز ناکامی گورننس میں ہے۔ حکومت اپوزیشن کے احتساب پر اس قدر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ اسے یاد ہی نہیں کہ ملک بھی چلانا ہے۔ اس نے اپنی کارکردگی کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ اپنے سلوک کو کارکردگی کا معیار بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ‘نااہل’ اور ‘سلیکٹڈ’ کے ٹیگ ان کے ساتھ چپک گئے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت میں رہتے ہوئے بظاہر ڈلیور نہیں کر سکی اور اگلے الیکشن میں جاتی جماعت کو یہ ناکامی بہت بھاری پڑے گی۔
فہد حسین کہتے ہیں پارٹی قیادت یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہے کہ کرپشن کا الزام لگانے اور الزامات ثابت کر کے دکھانے میں کتنا فرق ہوتا ہے اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ فہد کہتے ہیں کہ طاقت وروں کے احتساب کا نعرہ پاکستانیوں میں کافی مقبول تھا اور عمران سے انہیں امید تھی کہ وہ سب کا احتساب کرے گا۔ لیکن پچھلے ساڑھے تین سالوں میں اس بیانیے کی بدترین ناکامی نے اسکی روح نچوڑ ڈالی ہے۔
ناصرف پی ٹی آئی اپنے مخالفین پر کرپشن کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی رہی بلکہ اس نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اگر اسکے کسی اپنے پیارے پر کرپشن کا الزام لگے تو یہ اس سے صرفِ نظر بھی برتتی ہے۔ اس سے عمران کے یکساں احتساب کے بیانیے کو کتنا نقصان پہنچا اس کا حساب لگایا ہی نہیں جا سکتا۔ اگر اب پارٹی اس بیانیے کے ساتھ عوام میں جاتی ہے تو انہیں پذیرائی نہیں ملے گی۔
فہد حسین کا کہنا ہے پارٹی قیادت یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ اس کے پاس عوام کو آفر کرنے کے لئے کچھ نیا نہیں ہے اور یہ خلا بہت خطرناک ہے۔ جو وعدے اس نے عوام کیساتھ کیے تھے وہ تقریباً سب ہی ناکام ہو گئے۔ ناکامی کی وجوہات پیش کرنے اور بہانے بازی سے اب بات نہیں بنے گی۔ لہذا بڑا سوال یہ ہے کہ اب جبکہ نئے الیکشن میں کچھ ہی عرصہ ہے، حکومت ایسا کیا کرے گی کہ لوگ اسے مسترد کرنے کی بجائے پھر سے ووٹ دے دیں؟ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ناکامی کو تسلیم کرنے سے انکار اور بڑی ناکامیوں کو جنم دیتا ہے۔
