پی ٹی آئی استعفوں کی مرحلہ وارمنظوری،سپیکر، الیکشن کمیشن کو نوٹس
اسلام آبا د ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ منظور کیخلاف درخواست پر سپیکر قومی اسمبلی ، الیکشن کمیشن آف اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو نوٹس جاری کر دیئے۔
عدالت عالیہ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نےارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔
تحریک انصاف کی جانب سے وکیل فیصل فرید چوہدری نے عدالت کے روبرو کہا کہ عدالتی حکم پر درخواست پر عائد تمام اعترضات دور کر لیے گئے، پی ٹی آئی نے اتھارٹی لیٹر جمع کرا کے 123 ارکان کو کیس میں فریق بنادیا ہے، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری 123 ارکان کے استعفے منظور کر چکے ہیں۔
ایڈووکیٹ فیصل چوہدری کی جانب سے 13 اپریل کو اس وقت کے قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا حکم بھی عدالت میں جمع کرا دیا گیا، جس کے مطابق قاسم سوری نے 123 اراکین کے استعفے منظور کیے تھے اور اسے گزٹ میں نوٹیفائی کرنے کا بھی حکم دیا تھا، انہوں نے قاسم سوری کی جانب سے استعفے منظور کرنے کی کاپی بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی جس میں ان 123 ارکان قومی اسمبلی کی فہرست بھی منسلک ہے جن کے استعفے قاسم سوری نے منظور کرلیے تھے۔
جس کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 16 اگست تک کے لیے ملتوی کردی،عدالت کے جانب سے جاری نوٹس میں سیکریٹری قومی اسمبلی کو مجاز افسر کے ذریعے تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری عدالت میں چیلنج کی تھی۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے 11 اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت آئینی درخواست دائر کی تھی، جس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو فریق بنایا گیاہے، تاہم اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف درخواست میں اتھارٹی لیٹر نہ ہونے پر رجسٹرار ہائی کورٹ نے اعتراض عائد کیا تھا، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کو تمام 123 پی ٹی آئی ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایت دی جائے۔
کراچی سے لاپتہ ہونیوالی لڑکیوں دعا زہرہ اورنمرہ کا سراغ مل گیا
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن کو تمام نشستیں ایک ساتھ خالی قرار دینے کا حکم دیا جائے، حکومتی فائدے کے لیے الیکشن کمیشن ٹکڑوں میں نشستیں خالی نہیں کر سکتا،درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ عدالت قرار دے کہ قومی اسمبلی کے موجودہ اسپیکر منظور ہوچکے استعفوں کو التوا میں رکھنے کا اختیار نہیں رکھتے، کیونکہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری منظور کر چکے تھے،درخواست میں کہا گیا کہ موجودہ اسپیکر استعفوں کی تصدیق کا برائے نام عمل نہیں کر سکتے، آرٹیکل 64 رکن کے مستعفی ہونے کی انکوائری کی گنجائش نہیں دیتا،انہوں نے درخواست میں کہا کہ آرٹیکل 64 اسپیکر کو پابند کرتا ہے کہ وہ استعفیٰ ملنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجے، میڈیا کی موجودگی میں رکن کا اسپیکر کو برملا دیا گیا استعفیٰ واپس نہیں ہو سکتا۔
اسد عمر کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی نے نیا مینڈیٹ لینے کے لیے مشترکہ استعفے کا فیصلہ کیا تھا اور پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور مشترکہ استعفے کا فیصلہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں کھلے عام سنایا تھا اور اُس وقت کے اسپیکر نے استعفے منظور کر لیے تھے، اس لیے موجودہ اسپیکر کی اتھارٹی نہیں کہ یہ معاملہ التوا میں ڈالیں۔
