بھارتی فلمیں فلاپ ہونے کی وجہ سے بالی ووڈ تباہ حال

بھارتی فلم انڈسٹری پچھلے تین برس سے شدید بدحالی کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے اور بڑے بجٹ والی فلمیں بری طرح فلاپ ہو رہی ہیں۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ شاید کرونا وبا کی وجہ سے فلم بینوں نے سینما گھروں کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے تاہم اب تو کرونا ختم ہوئے بھی عرصہ گزر گیا لیکن سینما گھروں کی رونقیں بحال نہیں ہو پائیں، بھارتی سینما انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ بالی وُوڈ کے بُرے دن ایسے شروع ہوئے کہ اب اچھے دن آنے کی کوئی اُمید ہی نظر نہیں آ رہی، رواں سال بالی وڈ فلموں کی فلاپ فلموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

حالیہ مہینوں میں شمشیرا، بنٹی اور ببلی 2، جُگ جُگ جیو، شاباش متھو، پرتھوی راج، جیش بھائی، رن وے 34، ہیرو پنتی 2، جرسی، بچن پانڈے، گنگو بائی سمیت کئی بھارتی فلمیں بُری طرح فلاپ رہی ہیں، لیکن جنوبی انڈیا یعنی تامل، تیلگو، اور ملیالم زبانوں میں بننے والی فلمیں اس وقت ذیادہ کامیاب جا رہی ہیں۔ عوامی سطح پر جنوبی انڈین فلموں کی غیر معمولی مقبولیت باہو بلی نامی فلم کے بعد سے شروع ہوئی۔ یاد رہے کہ ماضی میں بالی وڈ کی کئی سپر ہٹ فلمیں جنوبی انڈیا کی فلموں کا چربہ تھیں، اس کے علاوہ فلم بِین اور ناقدین ملیالم فلم انڈسٹری کے سحر میں مبتلا ہیں کیونکہ جنوبی انڈیا کی فلم انڈسٹری میں سب سے کامیاب اور اچھوتی فلمیں ملیالی فلم میکرز بنا رہے ہیں۔

بالی ووڈ انڈسٹری کے زوال کی ایک اور بڑی وجہ ری میکنگ، پروپیگنڈا فلمیں اور ناقص کہانیاں ہیں، بالی ووڈ کی فلموں میں مسلسل پرانے گانوں کو نیا بنا کر اور ان میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کر کے پیش کرنا اب ایک روٹین ہے۔ ایسے میں سینما بینوں کو وہی گانے سننے کو ملتے ہیں جو وہ پہلے ہی سن چکے ہیں، اس وجہ سے بالی وُڈ میوزک انڈسٹری بھی زوال کا شکار ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ موسیقی کے مداحوں کو کوئی گانا پسند آئے۔

انڈیا میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سے اب تک بالی وُوڈ میں ہندو مذہب اور انڈین تاریخ کے حوالے سے پروپیگنڈا فلمیں بن رہی ہیں جنھیں مخصوص حلقوں کے علاوہ کہیں پذیرائی نہیں ملتی اور بقیہ فلموں کی کہانیاں اتنی ناقص ہوتی ہیں کہ فلم بین سینما کا رخ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کرونا وبا کے دوران جہاں دنیا بھر کے انسانوں کی زندگیوں اور رہن سہن میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں وہیں فلم انڈسٹریز پر بھی اس کا گہرا اثر پڑا ہے، نیٹ فلکس، ایمیزون پرائم اور ایچ بی او کی آن لائن سٹریمنگ کے باعث اب فلمیں دیکھنے کا رواج بدل گیا ہے۔

امریکہ مخالف نوم چومسکی نے عمران کا سازشی بیانیہ رد کر دیا

ان پلیٹ فارمز کی وجہ سے صارفین سینیما جانے کی بجائے گھر بیٹھ کر فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب صارفین سینیما میں چلتی ہوئی پرتھوی راج جیسی پروپیگنڈا فلم کی بجائے گھر بیٹھ کر انٹرنیشنل اور ٹی وی سیریز دیکھنا پسند کرتے ہیں۔اسی وجہ سے کورین، ہسپانوی، جرمن، تامل اور امریکی مواد کی مانگ بالی وُڈ سے زیادہ ہے، بالی وُڈ کو کچھ ایسا بنانا پڑے گا کہ صارف اپنا بستر چھوڑ کر سٹرینجر تھنگز کی بجائے سینما میں بالی وڈ کی فلم دیکھنے جائے۔

Back to top button