صدر عارف علوی پر ’’عہدے کی خلاف‘‘ ورزی کا الزام

اپوزیشن نے صدر مملکت عارف علوی کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کا خطاب آئین کی خلاف ورزی ہے، آئین کے تحت صدر کو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار سینیٹر نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ ملک کے سربراہ کیخلاف نااہلی کی درخواست دائر کرنے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں۔

سینیٹر طاہر بزنجو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ میں جو خطاب کیا وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن کے طور کیا گیا تھا، آئین کے تحت صدر کو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔

سینیٹر طاہر بزنجو کے مطابق اسی وجہ سے ان کی تقریر میں حکومت کی تعریفوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا، نیشنل پارٹی کے رہنما نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے جج کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ آپ کو بلوچستان کے تعلق رکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اتنی الرجی کیوں ہے؟انہوں نے الزام لگایا کہ سندھ گورنر ہاؤس کو صدر کے ذاتی کاروبار کے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پی پی پی کی سینیٹر قرۃالعین مری نے الزام لگایا کہ صدر عارف علوی نے ملک کے ادارے کو اپنے صاحبزادے کے ڈینٹل کلینک کی افتتاحی تقریب کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عارف علوی کے صاحبزادے، گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر امریکی کمپنیوں سے معاہدے کرتے ہیں، دعویٰ بھی کیا کہ پی ٹی آئی اپنی غیر ملکی فنڈنگ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایمرجنسی اور صدارتی نظام کا نفاذ ممکن کیوں نہیں؟

ملک کی معاشی ترقی سے متعلق پی ٹی آئی کے قانون سازوں کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے قرۃالعین مری نے نشاندہی کی کہ مہنگائی کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں مہنگائی کی موجودہ شرح 12.3 فیصد ہے۔

حکومت کا دفاع کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ معیشت صحیح راستے پر گامزن ہے اور 3 سالوں میں ترقی کی شرح 5.37 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

Back to top button