آرمی چیف نے ہر بار مارشل لاء لگانے سے انکار کیوں کیا؟

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے انکشاف کیا ھے کہ پاکستان کو درپیش بحران کے آخری حل کے طور پر موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ان کے مشیروں نے کئی بار مارشل لاء یا پی سی او نافذ کرنے کا مشورہ دیا جو ہر بار انہوں نے یہ مسترد کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ فوج کے موجودہ سربراہ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں جبکہ جنرل باجوہ کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے۔ اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لفظ ” اس ” کی تشبیہہ سے پکارتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” اس ” کے سب ملنے والے کہتے ہیں کہ وہ ماضی کے سب لوگوں سے مختلف ہے۔ اخبار نویسوں کی ” اس ” تک براہ راست رسائی نہیں ہے بالواسطہ طور پر اس کے ملنے والوں کے تاثرات ہم تک پہنچتے رہتے ہیں۔ ابھی تک اسے براہ راست ملنے اور سننے کا اتفاق نہیں ہوا ہے مگر صحافیانہ تجسس مجبور کرتا ہے کہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانیں۔ اس بات کی کھوج لگائیں کہ اس کے خیالات کیا ہیں وہ کیساپاکستان چاہتا ہے؟
ایک انتہائی اہم ذریعہ نے جنرل مشرف اور اس کا تقابل کرتے ہوئے بتایا کہ جس دن جنرل مشرف کو فوج کاسربراہ مقرر کیا گیا وہ انتہائی مشکورو ممنون تھے اور بار بار وزیراعظم نواز شریف سے پوچھتے تھے کہ مجھے کوئی حکم دیں۔وزیراعظم نے انہیں کہا کہ صرف ایک بات کا خیال رکھیں کہ آپ اپوزیشن سے نہ ملیں کیونکہ جب فوجی سربراہ اپوزیشن سے ملتا ہے تو حکومت غیر مستحکم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جنرل مشرف نے سرجھکا کر وعدہ کیا کہ وہ اپوزیشن سے بالکل نہیں ملیں گے مگر ایک ہی ماہ بعد خبرملی کہ وہ پہلے حامد ناصر چٹھہ سے ملے اور پھر انہوں نے خفیہ طور پر سیاسی اپوزیشن سے ملنا شروع کردیا۔ اسی ذریعہ نے بتایا کہ یہ یعنی موجودہ آرمی چیف اس لئے مختلف اس کہ جب صدر علوی ’’اس‘‘ کی تقرری کے لئے عمران خان کے پاس لاہور آئے تو صدر علوی نے ’’اسے‘‘ فون کیا اور اطلاع دی کہ عمران خان نے آپ کی تقرری پر اتفاق کیا ہے پھر’’اسے‘‘ مبارکباد دی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ لیں عمران خان سے بات کرلیں۔ ’’اس ‘‘نے فوراً کہا کہ آپ تو صدر پاکستان ہیں آپ سے بات ہوسکتی ہے میں کسی سیاستدان سے بات نہیں کروںگا میرا منصب اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ اس ذریعے نے بتایا کہ اس مثال سے دونوں جرنیلوں میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ایک اور اہم ذریعے نے بتایا کہ ’’وہ‘‘ ذاتی تشہیر سے گریزاں ہے کوئی اس کے ساتھ اپنی تصویر لگا دے تو اسے برا لگتا ہے اس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی فری ہینڈ نہیں دیا بلکہ انہیں بھی کہتا ہے کہ کوئی مطالبہ نہ کرنا۔ اسے اپنے پرانے اور ذاتی دوستوں کی محفل پسند ہے، مشورے بھی انہی سے کرتا ہے۔ اہم ذریعے نے جنرل راحیل شریف اور ’’اس‘‘ کا تقابل کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جنرل راحیل شریف کو جنرل قمر باجوہ ۔۔۔ درشنی جرنیل کہتے تھے جبکہ اس اہم ذریعہ نے انہیں بھولے بادشاہ قرار دیا جو بغیر کوئی جنگ لڑے فیلڈ مارشل بننے کے متمنی تھے۔ اس درشنی جنرل نے ایک بار ترنگ میں آ کر مارشل لا نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ٹرپل ون بریگیڈ کو مارچنگ آرڈر بھی دے دیئے۔ ابھی تک تین مختلف ذرائع اس آج تک خفیہ رہنے والی خبر کی تصدیق کر چکے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی تین حاضر سروس میجر جنرلز، بھولے بادشاہ کے پاس پہنچے اور اسے منت سماجت اور دلائل سے قائل کرکے اٹھے اورکہا کہ آپ یہ آرڈر واپس لیں جس پر انہوں نے یہ حکم واپس لے لیا مجھے اس میجر جنرل سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا جوبعد میں لیفٹیننٹ جنرل بن گئے تھے اور ان تین میجر جنرلوں میں شامل تھے جنہوں نے جنرل راحیل شریف کو مارشل لا لگانے سے روکا تھا۔ ایک ذریعہ نے بتایا کہ دوسری طرف آج والے کا رویہ بالکل مختلف ہے ، کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اس کے مشیروں نے اسے کہا کہ اب بحران کا اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ یا تو پی سی او لگایا جائے یا پھر مارشل لا نافذ کیا جائے مگر اس نے ہر بار کہا ہےکہ THIS IS NOT AN OPTION (یہ آپشن تو ہے ہی نہیں)۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ھے کہ کے ملاقاتی بتاتے ہیں کہ آج والا سربراہ مکار نہیں ہے وہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے جبکہ جنرل باجوہ کہتے کچھ تھے اور کرتے کچھ تھے۔ ایک ذریعہ نے بتایا کہ 2018ء کے الیکشن سے پہلے جنرل باجوہ تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے پورے پلان پر عمل پیرا تھے اور دوسری طرف الیکشن سے چند دن پہلے شہباز شریف سے ان کی ممکنہ کابینہ کے ناموں پر بحث کر رہے تھے یہاں تک کہا گیا کہ ڈار صاحب کو کابینہ میں شامل کریں گے تو اس کے کیا نتائج ہوں گے؟جنرل باجوہ کے ارادے اور تھے اور وہ کہتے کچھ اور تھے۔ سیاسی ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی لیڈر جنرل باجوہ سے ملاقات کرتے تھے، بھلی بھلی ملاقات ہوتی تھی میٹھی میٹھی باتیں ہوتی تھیں اور وہ سیاستدان دوسرے دن گھر پہنچتا تھا تو گرفتارہو جاتا تھا۔اسحاق ڈار نے بتایا تھا کہ نوازشریف کی حکومت رخصت کرنے کےبعد بھی جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید دیر تک ان سے رابطے میں رہے اور وعدے کرتے رہے کہ ان کے خلاف مقدمات ختم ہو جائیں گے لیکن اندر ہی اندر وہ ہر وقت ان کےخلاف باتیں کرتے تھے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ موجودہ سربراہ صاف ،شفاف اور دیانتدار ہیں وہ جنرل کیانی کی طرح نہیں جن کےبھائیوں پر دولت سمیٹنے کے الزامات لگتے تھے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان کا فوکس معیشت کو راہ پر لانا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کو ہٹانے کی غلطی سے ہی معیشت کا زوال شروع ہوا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دیانتداری کے حوالے سے جنرل یحییٰ خان کی یہ مثال دی جاتی ہے کہ ان کے پاس نئی گاڑی خریدنے کے پیسے تک نہیں تھے انہوں نے کوئی جائیداد نہیں بنائی لیکن انہوں نے حرص اقتدار میں ملک کو دولخت ہونے دیا ہم ان کی ایمانداری کو دیکھیں یا ان کے ناقص فیصلوں کو؟ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس وقت بھی فیصلے ہی دیکھنے چاہئے تھے اورآج والے کے بھی فیصلے ہی تاریخ میں اس کا مقام متعین کریں گے۔
اگرچہ جمہوری اور آئینی اعتبار سے فوج کوسیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے مگر جنرل کیانی ہوں یا جنرل باجوہ یا پھر جنرل راحیل شریف سارے ہی پس پردہ سازشوں میں ملوث رہے۔ حمید گل، پاشا اور ظہیر الاسلام سے سب کچھ کون کرواتا رہا؟ فیض حمید کا نشانہ کون کون بنا؟ آج پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ عتاب کا شکار ہیں، تاریخ عمران خان سے تو ان کی غلطیوں کا حساب لے رہی ہے اور لیتی رہے گی لیکن یاد رکھیں کہ ’’اسے‘‘ بھی تاریخ میں اپنی غلطیوں پر جواب دینا ہوگا وہ لاکھ مختلف سہی، ’’وہ‘‘ ڈسپلن کا سو فیصد پابندسہی، اس کی دیانت مستند سہی، وہ مارشل لا کا مخالف سہی، وہ پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے کا متمنی سہی لیکن اصل امتحان تو یہ ہے کہ جب وہ جائے گا تو پاکستان کل سے زیادہ متحد ہو گا یا تقسیم شدہ، کیا جب وہ رخصت ہوگا تو پاکستانی معیشت مضبوط ہوگی یا پہلے سے خراب اور سب سے آخری بات کہ کیا اس کے مخالف بھی اس کی خدمت کا اعتراف کریں گے یا نہیں؟

سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج نے استعفیٰ کیوں دیا؟

Back to top button