نون لیگ کون کون سی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملانے والی ہے؟

سینئر صحافی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے جن اراکین کو ٹکٹ نہیں دیے جارہے، انہیں سینیٹ اور بلدیاتی انتخابات میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران ضروریات کے تحت سیاسی جماعتیں اس طرح کی ایڈجسٹمنٹ کرتی رہی ہیں، یہاں تک کہ ایک دوسرے کی حریف جماعتیں بھی ایڈجسٹمنٹ کرتی رہی ہیں۔تاہم یہ بات درست ہے کہ ایسی ایڈجسٹمنٹ کے منفی نتائج بھی ہوتے ہیں اور ہم ماضی میں بھی ایسے نتائج بھگت چکے ہیں۔

پارٹی کے دیرینہ کارکنان کو نظرانداز کرکے نئے شامل ہونے والوں کو ٹکٹیں دینے سے متعلق ایک سوال پر ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے کسی سے کوئی کمٹنٹ کی ہے اور اسے پورا نہیں کرتے تو اس کے بھی منفی اثرات ہیں اور میرا نہیں خیال کہ یہ کسی ذمہ دار سیاسی جماعت کا وطیرہ ہو سکتا ہے کہ پہلے وعدے کرے اور پھر اس سے مکر جائے۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی یقینا قیمت دیناپڑتی ہے ہم نے پہلے اس کا خمیازہ بھگتا ہے۔تاہم ایسی سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے جو پہلے ہماری سیٹ نہیں تھی

سینیٹر عرفان صدیقی نے مزیدکہا کہ نواز شریف نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی تو انہیں سزا دی گئی، نواز شریف کیخلاف توشہ خانہ، 190ملین پاؤنڈز اور 9مئی جیسے کیسز نہیں تھے، ہم نے عمران خان کو جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنے کیلئے نہیں کہا تھا، نو مئی کے بعد 90فیصد لوگ پی ٹی آئی چھوڑ گئے نواز شریف کو آج تک کسی نے نہیں چھوڑا، عمران خان واحد وزیراعظم تھا جسے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالا گیا، باقی وزرائے اعظم کو ہتھکڑیاں لگا کر بکتر بند گاڑیوں سے نکالا گیا۔

عرفان صدیقی کے مطابق ن لیگ کے بہت سے لوگ جو اسمبلیوں میں ایڈجسٹ نہیں ہوسکے وہ سینیٹ میں آئیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ایک دو روز میں انتخابی منشور اور ٹکٹوں کا معاملہ حل کر کے بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ نوا زشریف کیخلاف غلط ہوتا رہا اب درست ہورہا ہے تو ہمیں کوئی فیور نہیں دی جارہی.ن لیگ کے دور میں بجلی اور گیس کی قیمتیں کنٹرول میں تھیں، پی ٹی آئی دور میں زوال کا سلسلہ شروع ہوا اسی تسلسل میں ہماری سولہ ماہ کی حکومت بھی آتی ہے۔ تاہم الیکشن کے بعد ملکی ترقی کے نئے سفر کا آغاز ہونے والا ہے۔

عرفان صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ بہت سی جماعتوں کو وہ مسائل درپیش نہیں ہیں جو مسلم لیگ ن کو درپیش ہیں، نا دیگر جماعتوں کی بس اتنی بھری ہوئی ہے نا کوئی پیچھے لٹک رہا ہے نا کوئی چھت پر بیٹھا ہے نا انہیں ٹکٹ دینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، ہمیں ٹکٹ دینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ہم ایک دو روز میں یہ مرحلہ طے کر کے آگے بڑھیں گے پھر جلسے بھی ہوں گے جلوس بھی ہوں گے اور مہم بھی ہو گی۔مسلم لیگ ن نے انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی طے کر لی ہے، مسلم لیگ ن کی یہ سوچ کبھی نہیں رہی ہے کہ اس کا ’کِلہ‘ مضبوط ہے اس لیے اسے انتخابی عمل میں زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ یہ کس قسم کی بس بھری ہوئی ہے؟ کہ بلوچستان، خیبر پتخونخوا اور سندھ میں مسلم لیگ ن کو مشکلات درپیش ہیں اور ن لیگ کو امیدواروں کے لیے انتخابی اتحاد میں جانا پڑرہا ہے؟ تو جواب میں عرفان صدیقی نے کہا کہ ملک کی کشتی اس وقت مشکل میں گری ہوئی ہے اور مسلم لیگ ن کی کوشش ہے کہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں کسی انتخابی اتحاد میں نہیں بلکہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں جا کر سب کو ساتھ لے کر چلیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ جب ہم انتخابات کے بعد اسمبلی میں جائیں تو ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان نہ ہوں بلکہ سب مل کر ملک کو موجودہ بحران سے نکالیں، اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ مسلم لیگ ن کے پاس اُمیدواروں کی کوئی کمی ہے۔ ن لیگ کشادہ دلی سے مفاہمت کی سیاست کی جانب جانا چاہتی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ن لیگ اپنا کوئی سیاسی نظریہ بدلنے نہیں جا رہی ہے۔دھوکا دینے والوں کو پارٹی واپس کسی صورت قبول نہیں کرے گی، تاہم نظریات بدلتے رہتے ہیں، کسی دوسری پارٹی سے اگر کوئی ہمارے ساتھ شامل ہو رہا ہے تو پھر اسے ہمارے سیاسی نظریے کے مطابق ہی چلنا ہوگا۔مسلم لیگ ن اگر باہر سے 8 یا 10 لوگوں کو انتخابات میں اپنے ساتھ لے رہی ہے تو انہیں ہماری گاڑی میں سوار ہونا ہو گا، ہمارے منشور پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور ہمارا نظریہ اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا مسلم لیگ ن کو بھی کبھی ماضی میں لیول پلیئنگ فیلڈ میسر نہیں رہی ہے، مسلم لیگ ن کے لیے انتخابی حالات سب کے سامنے ہیں، ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے پاس گئے ہیں اور عوام کی طاقت پر ہی بھروسا کیا ہے اور موجودہ الیکشن میں بھی عوامی طاقت پر ہی بھروسا کر رہے ہیں۔ ن لیگ کسی دوسرے کو بچھاڑنے کے لیے اپنا قد اونچا نہیں کر رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کا قد کارکردگی کی بنیاد پر اُونچا ہو گا۔

شمالی وزیرستان میں گیس کے ذخائر دریافت

Back to top button