سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج نے استعفیٰ کیوں دیا؟

مشہور ٹرک والے جج جسٹس مظاہر نقوی نے کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال، مالی بدعنوانی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی جیسے الزامات کے ثبوت سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے جج کے حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے صدر کو بھجوائے گئے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں میرے لیے بطور جج سپریم کورٹ عہدے پر برقرار رہنا ممکن نہیں، بطور جج سپریم کورٹ عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔
خیال رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے منظوری کے بعد سپریم کورٹ میں دو ججز کی آسامیاں خالی ہو جائیں گی۔استعفے کے بعد جسٹس مظاہر نقوی اب پینشن اور دیگر مراعات کے حقدار ہوسکتے ہیں، اگر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ پر ہٹاتی تو پینشن اور دیگر مراعات سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے۔
واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف جوڈیشل کونسل میں 10 شکایات زیر التوا تھیں جن میں جسٹس مظاہر نقوی پر مس کنڈکٹ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو دو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے جبکہ جسٹس مظاہر نقوی نے کونسل کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر نقوی کی کونسل کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔
واضح رہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی حال ہی میں تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کے ساتھ مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف مختلف ریفرنسز دائر ہوچکے ہیں جس میں انکی مبینہ آڈیو لیک، ذاتی مفاد کیلئے اپنے اختیارات کے استعمال سمیت انکے مالی معاملات سے متعلق شکایات شامل ہیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب 16فروری 2023ء کو ان سے متعلق تین آڈیو لیکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں، ان تین میں سے دو آڈیولیکس پرویز الٰہی کی اپنے وکیلوں کے ساتھ تھیں، ایک آڈیو لیک میں پرویز الٰہی اپنے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کا کیس جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کررہے تھے جبکہ دوسری آڈیو میں پرویز الٰہی اپنے وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری کو بھی یہی کہتے سنائی دیئے کہ کیس جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے سامنے لگانا ہے کیونکہ کام ٹھیک ہوجائے گا، جس کی حامی بھرتے ہوئے عابد زبیری نے کہا کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا کیس بھی جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے سامنے لگا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی ہیں۔میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں۔اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔
ان دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے دو بیٹوں کو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلاٹ محض نو لاکھ روپے میں دیے گئے جبکہ مارکیٹ میں ان پلاٹ کی ویلیو تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ان دستاویزات میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ جج کی بیٹی کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں دس ہزار برطانوی پاؤنڈز دبئی سے ٹراسنفر کیے گئے۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ججوں کے احتساب کے لیے قائم ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے ذریعے سپریم کورٹ کے کسی جج کی برطرفی کی مثال نہیں ملتی جبکہ ہائی کورٹ ججز میں سے بھی صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کاروائی کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ، جسٹس اقبال حمید الرحمٰن، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس فرخ عرفان نے سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی شروع ہونے یا ریفرنس دائر ہونے پر استعفے دے دئیے تھے۔
خیال رہے کہ جسٹس نقوی 16 مارچ 2020 کو لاہور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج بنے۔ ان کا تعلق گوجرانوالہ شہر سے ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاء کالج سے ایل ایل بی کیا۔ وہ 1988 سے وکالت کے شعبے سے منسلک رہے ہیں اور 2001 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔انہوں نے اپنے وکالت کے کیریئر میں ایک ہزار سے زائد مقدمات میں وکالت کی ہے اور ان کے کئی مقدمات کے فیصلے رپورٹ بھی ہوئے۔ اس سے قبل 19 فروری 2010 کو وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے اور تقریباً 10 سال ہائی کورٹ جج کے عہدے پر فائز رہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے مختلف مقدمات کے سماعت اور فیصلوں سے بھی بڑی شہرت کمائی۔12 جنوری 2020 کو جسٹس نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے جنرل مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دیا تھا، جب خصوصی عدالت جنرل مشرف کو سزائے موت سنا چکی تھی۔
10 اپریل 2018 کو جسٹس نقوی لاہور ہائی کورٹ کے اس بینچ کے حصہ تھے جس نے میاں نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف مبینہ تقاریر پر پیمرا کو نوٹس جاری کئے تھے۔ اور پھر 16 اپریل کو اس بینچ نے پیمرا کو نواز شریف، مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر نہ کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔
29جون 2018 کو جسٹس نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابقہ ایم این اے شیخ وسیم اختر کو قصور میں عدلیہ مخالف ریلی نکالنے پر ایک ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
جون 2018 میں جسٹس عباد الرحمٰن لودھی پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے عام انتخابات سے ایک ماہ قبل پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری کو آئین کے آرٹیکل 62(1)F کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف اپیل جسٹس نقوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سنی جس نے مذکورہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے فواد چوہدری کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔اسی روز جسٹس نقوی کے بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء شاہد خاقان عباسی کی الیکشن ٹربیونل کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔
10 ستمبر 2018 کو جسٹس نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے جسٹس نقوی کی سربراہی میں سابق وزیراعظم شاھد خاقان عباسی کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔
21 ستمبر 2017 کو جسٹس نقوی نے پنجاب حکومت کو ماڈل ٹاون واقعے پر جسٹس علی باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔
2نومبر 2017 کو جسٹس نقوی نے جماعت الدعوٰہ کے سربراہ حافظ سعید کی نظربندی کے خلاف ایک درخواست کی سماعت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ پنجاب حکومت کے خلاف صاف پانی مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے کہ وہ مقدمہ ان سے کسی اور جج کو منتقل کر دیا گیا جبکہ قانون کے مطابق جس مقدمے کی سماعت جاری ہو اس کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حافظ سعید کی نظربندی کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ایسے ماحول میں کام نہیں کیا جا سکتا۔
دسمبر 2016 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس فرخ عرفان خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ سنیارٹی لسٹ میں وہ جسٹس قاسم خان، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مظہر اقبال سدھو سے اوپر
تھے اور سنیارٹی لسٹ میں ردوبدل کر کے ان کو جونیئر ظاہر کیا گیا
