آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی، اب کیا ہو گا؟

عمران خان کی گرفتاری کی وجہ سے ملک بھر میں پھوٹ پڑنے والے پر تشدد مظاہروں کے بعد سے اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ مختلف علاقوں میں فوج لگا دی گئی ہے اور اب امن و امان کا نظام وہی سنبھالے گی۔ حکومت نے کشیدہ صورتِ حال کے بعد پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری حکم نامے میں فوج کی طلبی کیلئے پاکستان کے آئین کی شق 245 کا حوالہ دیا گیا، جس کے تحت حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے سویلین انتظامیہ کی مدد کی خاطر فوج کو طلب کر سکتی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ فوجی دستوں کی تعداد کیا ہو گی، ان کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی اور انہیں کہاں کہاں تعینات کیا جائے گا۔ اس سوال کا جواب بھی آنا باقی ہے کہ کیا فوج صرف اہم عمارتوں کی سکیورٹی کے لیے مختص رہے گی یا سڑکوں اور گلی محلوں میں امن و امان کی خراب صورتِ حال سے نمٹنے میں اس کا کوئی کردار ہو گا؟10 مئی کو جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی، البتہ اس میں لکھا گیا ہے کہ فوجیوں اور اثاثوں کی اصل تعداد اور علاقوں کا تعین صوبائی حکومتیں جی ایچ کیو کے مشورے سے کریں گی۔

پاکستان کے ریٹائرڈ سینیئر پولیس اور فوجی افسران کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت امن و امان کا نظام فوج کے حوالے کرنے کا ایک باقاعدہ میکنزم ہے اور اس عمل کے مختلف مرحلے ہیں جن کے طے کرنے کے بعد ہی فوج میدان میں صورتحال کنٹرول کرتی ہے۔

سابق انسپکٹر جنرل افضل شگری نےبتایا کہ فوج جب بھی عوامی مقامات پر امن عامہ سنبھالنے کے لیے جاتی ہے یہ پولیس کے ہمراہ جاتی ہے اور فوجی دستے اس وقت تک مکمل کنٹرول نہیں سنبھال سکتے جب تک کہ صورتحال انتہائی زیادہ خراب نہ ہو جائے۔’کوشش کی جاتی ہے کہ فوج زمینی سطح پر نہ ہی جائے اور صرف اسی صورت میں جاتی ہے جب حالات انتہائی خراب ہو جائیں۔ اور جب ایک دفعہ امن و امان کی ذمہ داری فوج کو سونپ دی جائے تو پھر وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے گولی بھی چلا سکتی ہے۔‘
فوج سویلین مجسٹریٹ کے ساتھ کام کرتی ہے
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک نے بتایا کہ فوج کی آرٹیکل 245 کے تحت سویلین فورسز کی امداد کے لیے تعیناتی سویلین فورس پولیس اور نیم فوجی دستے فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز وغیرہ کی ناکامی کے بعد ہی ہوتی ہے۔’یہ تبھی ہوتا ہے جب پولیس اور نیم فوجی دستے اپنے تمام ذرائع استعمال کر چکنے کے باوجود صورتحال سنبھالنے میں ناکام ہو جائیں تو پھر فوج آرٹیکل 245 کے تحت آتی ہے اور وہ ایک سویلین مجسٹریٹ کے ساتھ کام کرتی ہے۔‘آصف یاسین کا کہنا تھا کہ فوج کنٹرول سنبھال لے تو اس کے پاس صورتحال کو قابو کرنے کے لیے واحد ہتھیار گولی چلانا ہوتا ہے جس کو استعمال کرنے کے لیسے سویلین مجسٹریٹ تحریری اجازت دیتا ہے۔
’صوبائی حکومت پورے شہر کو فوج کے حوالے نہیں کرتی بلکہ مخصوص علاقے جہاں مسائل ہوں اور ہر علاقے میں فوج کے دستوں کے ساتھ اس علاقے کا ایک سویلین مجسٹریٹ ہوتا ہے جس کی سفارش پر ہی فوج ایکشن لیتی ہے۔‘

خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے
آسان الفاظ میں شق 245 کے اہم نکات  کے مطابق فوج بلانے کے فیصلے کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔فوج کی موجودگی کے دوران ہونے والے اقدامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تاہم دوسرے معاملات میں ہائی کورٹس کام کرتی رہیں گی

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےسپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے عمل میں لانے کے بعد ’ہائی کورٹ کے اختیارات ضرور معطل ہو جاتے ہیں مگر صرف اس آرٹیکل سے متعلق۔ وہ اس حکم نامے کو چیلنج نہیں کر سکتی، البتہ اس کی باقی روزمرہ کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں اور ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’سپریم کورٹ بھی فوج کو طلب کرنے کے فیصلے کو مسترد نہیں کر سکتی، البتہ اگر اسی دوران انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہو تو سپریم کورٹ 3/184 کے تحت اس کے خلاف حرکت میں آ سکتی ہے۔‘

ممتاز ماہرِ قانون اور سربراہ شعبہ قانون قائد اعظم یونیورسٹی عزیز الرحمٰن نے بتایا کہ ماضی میں بھی متعدد بار حکومتیں اسی شق کے تحت فوج کو بلاتی رہی ہیں، ’مگر اس بار بظاہر حالات اتنے خراب نہیں لگتے کہ فوج کو طلب کر لیا جائے، کیونکہ حکومت کے پاس پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے، رینجرز کی مدد لی جا سکتی ہے، دوسرے ادارے موجود ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس فیصلے کی نوعیت علامتی ہے اور اس کا مطلب یہ پیغام دینا ہے کہ ادارے ایک پیج پر ہیں۔‘

ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے سوال کے جواب میں جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ بہت سنگین معاملہ ہے اور اسے حکومتیں بہت سوچ سمجھ کر لاگو کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’شق 245 اور ایمرجنسی کے نفاذ میں فرق یہ ہے کہ شق 245 کے تحت فوج بلانے کا حکومت کو کوئی حساب نہیں دینا پڑتا، لیکن ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر اندر حکومت کو اسمبلی میں آ کر اس عمل کی توثیق کروانا پڑتی ہے۔

عزیز الرحمٰن کے مطابق ایمرجنسی کے دوران پورا آئین ہی معطل ہو جاتا ہے، اس لیے وہ بالکل مختلف عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ایمرجنسی کا تعلق لازمی طور پر امن و امان سے نہیں ہوتا۔ 1999 میں ملک کے معاشی حالات کے پیشِ نظر بھی ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی تھی، جب جنرل مشرف نے 2007 میں ججوں کے اختیارات معطل کرنے کے لیے ایمرجنسی لگا دی تھی۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کی سیاسی حکومتیں وقتاً فوقتاً ہنگامی حالات اور امن و امان کی صورتِ حال کے پیش نظر فوج کو سول اداروں کی مدد کے لیے طلب کرتی رہی ہیں۔عمران خان کی حکومت نے 2021 میں ملک میں لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کروانے کے لیے اسی آرٹیکل کے تحت فوج بلا لی تھی۔ وفاقی حکومت کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ فوج پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تین صوبوں میں سول اداروں کے ہمراہ خدمات انجام دے گی۔اس سے قبل نومبر 2017 میں مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے فیض آباد دھرنے کے پیش نظر فوج کو وفاقی دارالحکومت کے حساس مقامات کی حفاظت کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے حکم پر کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ نواز شریف کی حکومت نے جولائی 2014 میں عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں کے دوران وفاقی دارالحکومت میں فوج کو تعینات کیا تھا۔1998 میں بھی نواز شریف کی حکومت نے آرٹیکل 245 کا سہارا لے کر کراچی میں امن و امان کی صورتِ حال کو بحال کرنے کے لیے فوج کو بلایا تھا۔سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے 1977 میں لاہور میں حکومت مخالف احتجاج کو روکنے کے لیے بھی آرٹیکل 245 کا سہارا لے کر فوج کو طلب کیا گیا تھا۔

Back to top button