خانہ جنگی کیلئے رچائی گئی عمرانی سازش کیسے ناکام ہوئی؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطہ سے پاکستان رینجرز کی بھاری نفری کے ہاتھوں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد عمرانڈوز کے شیطانی کھیل نے ملک میں انتشار اور بد امنی کو ہوا دی ہے۔ تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی ایک پریشر گروپ بن چکا ہے جو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ناکامیوں کا ردعمل ہے۔ تاہم جس طرح پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا اس پر بھارت سمیت ایسے ملکوں میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ کور کمانڈر لاہور کے گھر پر ہوا وہ ناقابل معافی جرم ہے۔

تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان آرمی کی قیادت نے سمجھداری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً اور موقع پر فوجی دستوں کو ردِعمل سے روکے رکھا اور اس طرح ملک میں بدامنی اور خانہ جنگی کیلئے رچائی گئی سازش کو ناکام بنا دیا

خیال رہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کو تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا لیکن چند ماہ پہلے تک تحریکِ انصاف اور اس کے حامی یہ تاثر دے رہے تھے کہ چونکہ مقتدر حلقوں کے پاس عمران خان کا کوئی متبادل نہیں اس لیے آئندہ کئی سال ان کی پارٹی حکومت میں رہے گی، حالانکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور کرونا کی صورتحال نے ملک کی اقتصادی حالت کو بہت پتلا کیا ہوا تھا اور لوگ پی ٹی آئی کی حکومت سے خوش نہیں لگ رہے تھے، مگر حکومت کی تبدیلی سے ملک کے سیاسی حالات مستحکم ہونے کے بجائے مزید خراب ہونا شروع ہوگئے۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے جب ممتاز سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے خراب سیاسی اور اقتصادی حالات میں مزید خرابی ہوگی۔عمران خان کی گرفتاری میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے بیان کے 24 گھنٹوں کے اندر رینجرز نے انہیں گرفتار کرلیا۔ بظاہر تو ایسے واقعات میں کوئی ثبوت نہیں ہوتا مگر واقعاتی شہادتوں سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سینئر سیاستدان اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ قانونی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران کی گرفتاری کو غلط قرار نہیں دیا مگر سیاسی طور پر یہ غلط وقت پر ایک غلط فیصلہ ہے۔ جس طرح ایک سابق وزیرِاعظم کو پیرا ملٹری فورسز کے ذریعے گرفتار کیا گیا ہے وہ طریقہ بہت ہی غیر مناسب تھا۔ اس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر غلط پیغام گیا ہے اور یہ گرفتاری سے زیادہ ایک قسم کا اغوا لگتا ہے۔ اس فیصلے کے بہت غلط نتائج نکلنے کے امکانات ہیں۔

ممتاز تجزیہ کار اور سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا عمران خان کی گرفتاری کے بعد ظاہر ہے تلخی اور سیاسی تقسیم مزید بڑھے گی۔ عمران خان بھی بات چیت پر آمادہ نہیں تھے اور حکومت بھی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں لگتی تھی۔ عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ پوری طرح حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ آپ اسے آئنیی ذمہ داری کہیں یا اس تعلق کو کوئی اور نام دیں’۔

نامور مؤرخ اور دانشور ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ پہلے تو ایسی صورتحال میں عموماً مارشل لا لگ جاتا تھا گوکہ عام آدمی کی زندگی اس سے بھی مزید خراب ہی ہوتی۔ ڈاکٹر مبارک علی اور مجیب الرحمان شامی کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں مارشل لا کا نفاذ ممکن نہیں لگتا۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے ردِعمل کے حوالے سے شامی صاحب سمجھتے ہیں کہ ایک طرف تحریکِ انصاف کا عسکری اداروں کی حدود میں ہونے والی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے حوالے سے لاتعلقی کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا اپنے کارکنوں پر قابو نہیں اور دوسرا ادارے جوابی کارروائی نہ کرکے تحریکِ انصاف کو دفاعی پوزیشن میں لے آئے ہیں۔

آئندہ سیاسی امکانات کے حوالے سے مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے لگ رہا ہے کہ شاید انتخابات ہی ہاتھ سے نکل جائیں لیکن تجربے نے ثابت کیا ہے کہ سب سیاسی طاقتوں کو سیاسی دائرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر مبارک علی کا خیال ہے کہ راستے تو ہمیشہ نکلتے ہیں لیکن انتہا پسندی دونوں طرف ہو تو راستے بند ہوجاتے ہیں جبکہ مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ جب ایک طرف سے بند گلی آجائے تو وہیں سے رستہ نکلتا ہے۔

سیاسی صورتِ حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ سیاست کی بساط پر بچھائے ہوئے مہروں کی چلی ہوئی ایک بھی چال بساط ہی الٹ سکتی ہے اور خود کھلاڑی بھی نہیں جانتے کہ ان کی اگلی چال ان کی کامیابی کا باعث بنے گی یا ان کی نیا ہی ڈبو دے گی۔لگتا ہے کہ سیاسی لڑائی کا یہ آخری پڑاؤ ہے

Back to top button